لو جی ’’غیر ریاستی و غیر حفاظتی رضا کار اسکواڈ‘‘ کے التماس پر بلکہ پُر زور اصرار پر ایک’ ’اوپن ائیر‘‘ جھگی کے سامنے شاہی بگھی رُکتی ہے۔ درجنوں وفا دار ’’غیرے‘‘ دوڑ کر بگھی سے برآمد ہونے والے ’’مہمانوں‘‘ کی قدم بوسی کرنے حالتِ رکوع میں چلے جاتے ہیں۔ پھر ان کے پیروں سے ’’مصافحہ‘‘ کرتے ہیں۔ پھر تبرک کے طور پر ’’اکابرین‘‘ کے پاؤں کے لمس کی برکت وصول کرنے اور خوش بو محسوس کرنے کے لیے منھ اور چہروں پر اپنے ہاتھ ملتے رگڑتے ہیں۔
قارئین کرام! بات آگے بڑھانے سے پہلے ذرا ٹھہریئے۔۔۔! آپ سوچیں گے کہ اس ملک کے قبلے اسلام آباد کے حالات دیکھیں۔ وزیرستان سے لاکھوں در بہ در لوگوں کی پریشان حالی دیکھیں۔ سوات میں ڈر اور خوف کا ماحول اور’’زمینی عزرائیلوں‘‘ کی ٹارگٹ کلنگ کمپین (ٹی سی سی) کا بزنس پھر سے پھیلتا دیکھیں۔ کوہاٹ جیل میں دل کی بیماری کی مسلسل پھیلتی ’’وبا‘‘ دیکھیں اور اس صورتِ حال میں اس احمق کی یہ باتیں اور یہ نازو ادا دیکھیں۔
کیا کریں؟ اپنا اپروچ تو یہ ہے کہ اس بد امنی میں جتنے لمحے جینا ہے، زندہ دلی سے جیناہے۔ مسکرا کے جینا ہے۔ ڈر اور خوف کو دماغ سے بھگاکر جینا ہے۔ ہمیں پکا یقین ہے کہ موت زندگی کو شکست نہیں دے سکتی۔ ہم شیطانی قوتوں کامقابلہ کریں گے۔ مریں گے بھی تو جی داری سے مریں گے۔ بات رہی احوالِ وطن کی، تو اس پر مزید کسی بات یا تبصر ے کی ضرورت نہیں۔ بس دُعا کی شدید ضرورت ہے۔ کسی معجزے کی ضرورت ہے کہ مرض اب لاعلاج ہو چکا ہے۔
غیر ممکن ہے کہ حالات کی گتھی سلجھے
’’اہل دانش‘‘ نے بہت سوچ کے اُلجھائی ہے
یہ ’’کلیری فی کیشن‘‘ سند رہے اور بات کا ٹوٹا سرا فوری طور پردوبارہ جوڑتے ہیں۔ تو ابتدائی سلامی کے بعد مہمان’ ’جھگی دربار‘‘ کی طرف جانے کے لیے خصوصی طور پربچھائے گئے ’’ریڈ کارپٹ‘‘ جو اگرچہ ’’ریڈ‘‘ نہ تھا، پر اس سے ملتا جلتا تھا، کے اوپر نپے تلے قدم، دھیرے دھیرے رکھتے ہیں۔ ’’شانِ نیازی‘‘ سے پہلا قدم کارپٹ پر رکھتے ہی معلوم سمت سے بینڈ باجے بج اُٹھنے کی آوازیں شروع ہو جاتی ہیں۔ جینڈر بیلنس کے تقاضوں کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے خلقِ خدا کارپٹ کے دونوں اطراف قطار میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں خوب صورت چھابے ہیں، جو پھولوں کی پتیوں سے لبالب بھرے ہیں۔ دوسرے قدم پر مہمانوں کے سروں پر گل پاشی کی جاتی ہے۔ یہ سلسلہ اکتیسویں قدم پر اپنے نقطۂ عروج پر پہنچ جاتا ہے، تو ڈھول کی آواز مزید تیز ہوجاتی ہے۔ پھولوں کی پتیوں کی بارش سونامی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ بتیسویں قدم پر مہمانوں کو زرق برق میٹریلز سے لدھے پندھے سہرے گلے میں سجا کر ’’میدانِ جھگی‘‘ میں بٹھا دیا جاتا ہے۔ ریت کے اس صحرا میں اس ویلے شام کے دھندلکے، دسویں شب کی چاندنی’’پرولانگ‘‘ کرتی ہے۔ خزاں زدہ ستمبر میں صحرا میں ’’سہرا پوشی‘‘ اور ’’گل پاشی‘‘ کا یہ عمل کچھ وکرا سا نہیں؟ حیرانی کے پہلے مرحلے میں اپنی اوقات بھول کر ہم گُم سم ہو جاتے ہیں۔ اس ’’گمی سمی‘‘ ’’پروسیس‘‘ میں اپنے سابقہ ’’دُلہے پن‘‘ کے سپنے سمیٹنے کے لیے آنکھیں بند کرتے ہیں کہ ساتھی ہمیں بیدار کرتے ہیں۔ ہم آنکھیں کھول کر حاضرین کی دنیا میں واپس جمپ لگاتے ہیں۔
خود فریبی کے خوابوں میں رہے ہم ورنہ
اپنی اوقات میں رہتے تو قلندر ہوتے
ہم چاروں طرف نظریں دوڑاتے ہیں۔ ریت کے وسیع و عریض میدان میں چند کچے گھروندے، ایک گھروندے کے سامنے ’’میوہ ندارد‘‘ کھجور کا درخت۔ درخت کے نیچے اونٹ کے بالوں سے بنی بچھائی گئی چادر۔ چادروں پر بیٹھے طبلے، باجے، سارنگی، ستار اور دیگر ’’آلات راگ و رنگ‘‘ سے لیس پارٹی۔ پارٹی کی دائیں طرف چند بچے، چند جوان، بائیں طرف چند بڑے اور ’’ایکسٹریم بائیں طرف‘‘ چادروں میں ایک بٹا چار حصہ منھ چھپائے اور تین بٹے چار حصہ چہرہ دکھائے چند خواتین۔ زمینی سرویلینس کے بعد ہم اوپر کا سروے کرنے ستھرے نیلے آسمان کی طرف سر اوپر اُٹھاتے ہیں، جہاں چمکیلے ستاروں کی آمد آمد ہے۔ چاند کی روشنی صحرا کی وسعتوں پر پھیل رہی ہے۔ میٹھی تند وتیزہوا اٹھکیلیاں سوجھتی کانوں کو سرسراتی اور دور بیٹھی خواتینِ محفل کی آنچلوں کو اڑا لے جاتی ہے۔ تاحد نگاہ پوری کائنات پر ایک پُر سکون اور راحت سے لب ریز خاموشی چھائی ہے۔ ریت میں موجود ابرق پر چاند کی روشنی پڑتی ہے، تو لگتا ہے گویا تارے زمین پر اتر چکے ہیں یاہم آسمان کی طرف اڑ چکے ہیں۔ اس سیچویشن میں ایک کمی، ایک خفگی شدت سے محسوس ہوتی ہے اور وہ یہ کہ نو من تیل توموجود ہے پر رادھا کا ناچ کیوں نہیں ہے؟ اس سوچ بچار کے دوران میں ہمیں ایک چمکتی دمکتی سلور ی طشتری میں قیمتی سیب کے ٹکڑے، جس کو کھجور کے دانوں کی با ؤنڈری میں بند کیا گیا ہے، پیش کیے جاتے ہیں، جب کہ مٹی کے بیش قیمت جام میں اسپغول ملے اونٹ کے دودھ پینے کی باری آتی ہے، تو سارنگی کی مدھر آواز بھی سماعت سے ٹکراتی ہے، جو رادھا کی آمد کا ’’غیر علانیہ اعلامیہ‘‘ لگتا ہے۔ کیوں کہ اسی لمحے رنگین بھڑکیلی چولی میں ملبوس ’’رادھا‘‘ میدانِ موسیقی میں کودتی ہے۔ اُس کی لمبی پیلی، چمکیلی چولی کتنی بھلی لگتی ہے۔ رادھا کی الہڑ جوانی اور اس کا کسرتی جسم گویا حسن کا منھ بولتا ثبوت ہے۔ اس کا پہلا قدم کرتا ہے ’’چھم‘‘، دوسرا کرتا ہے ’’چھماچھم‘‘ اور پھر ماحول پر اس چھم چھم چھما چھم کی وجہ سے ایک عجیب سا خمار پھیل جاتا ہے۔ ایسے میں خیال کے وسیع چولستان میں یہ گانا شروع ہو جاتاہے۔
سن سجنا سن، پیار کی دُھن
ارے، میں نے تجھے چن لیا
تو بھی مجھے چن چن چن
سن سجناں سن
(جاری ہے)
947 total views, no views today


