پشتو اکیڈمی کے سابق ڈائریکٹر پروفیسر محمد نواز طائرؔ کی کتاب ’’ د اَدب تراش‘‘ کا دوسرا جلد ’’ادب ساز ‘‘ خیبر پختون خوا کے محکمہ ثقافت نے 2010ء کو شائع کیا ہے۔ محترم نواز طائرؔ صاحب نے اس کی ایک کاپی راقم کوبھی اپریل 2011ء کو تحفتاً عطا کی تھی۔ میں اپنے محترم استاد کا انتہائی مشکور و ممنون ہوں۔
پروفیسر محمد نواز طائرؔ کی یہ کتاب نہ صرف ادبی لحاظ سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے بلکہ اس میں موصوف کے بچپن سے بڑھاپے تک کا آنکھوں دیکھا حال بھی ’’خود نوشت‘‘ کی شکل میں موجود ہے، جس میں پاکستان کے مختلف شہروں، قصبوں اور بیرونی ممالک سفر کی دل فریب یاد داشتوں کے علاوہ ملاکنڈ ایجنسی کی تاریخ کے حوالے سے بھی ذخیرہ موجود ہے۔ ملاکنڈ ایجنسی کے حوالے سے قلنگی ڈیم کی مخالف تحریک، پنڈت نہرو کی ملاکنڈ سے واپسی، ملاکنڈ میں انگریزوں کی آمد اور جنگی واقعات کی داستانیں تاریخ کے طالب علم کے لیے مفید اور کار آمد ثابت ہوسکتی ہیں۔
2011ء میں کتاب کا مطالعہ کرنے کے بعد میں نے اسے الماری کی زینت بنا دیا تھا مگر گزشتہ روز یاد آیا کہ مذکورہ کتاب میں محترم محمد نواز طائر نے ایک ایسی تنظیم کا ذکر کیا تھا جو کہ نام کے لحاظ سے تو صرف مذاق لگتی ہے مگر حقیقت میں مذکورہ تنظیم میں شامل ممبران اور عہدے دار وں نے ملک و قوم کی اصلاح اور تعمیر و ترقی کے لیے قابل فخر کردار ادا کیا ہے اور کررہے ہیں۔ اس کا ذکر محترم نواز طائرؔ صاحب نے کیا ہے اور مجھے اس لیے یاد آیا کہ اس جیسی تنظیم کی اب بھی شدت سے ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔ پروفیسر محمد نواز طائرؔ صاحب نے اپنے مذکورہ ’’خود نوشت ‘‘ میں انکشاف کیا ہے کہ آٹھ اگست 1956ء میں انھوں نے ایک تنظیم ’’انجمن حماران‘‘ کے نام سے قائم کی تھی جس میں شامل یا فارغ ہونے والوں کو ’’حمارین ‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا۔ تنظیم کی ممبر شپ کے لیے کم از کم گریجویشن تعلیم کی شرط رکھی گئی تھی۔ انجمن میں اس دور کی ڈھیر ساری نام ور، علمی و ادبی شخصیات شامل تھیں۔ انجمن کا مقصد مکمل غیر سیاسی اور تعمیری تنقید تھا مگر تنظیم کی سرگرمیوں کو انتہائی خفیہ رکھا جاتا، تاہم انجمن کے ممبران ’’حمار‘‘ اجلاسوں میں ’’فطری حماریت‘‘ کے جوہر دکھانے میں مکمل آزاد اور خود مختار تھے۔ اجلاس کے دوران میں نہ صرف حماریت کے لیے استعمال کیے جانے والے تمام ضرب الامثال اور محاوروں کا خوب استعمال کیا جاتا بلکہ اجلاس کے دوران مین حمارین کی زبان تک ’’حماریت ‘‘ کی رنگ میں رنگ ہوچکی تھی جس کی وجہ سے حماروں کی ایک دوسرے سے پیار و محبت اور دوستی مزید راسخ ہوتی۔ اجلاس میں ’’حماریت ‘‘ کی جن باتوں کو زیادہ تر دہرایا جاتا ان میں ’’خرتیزی، جر جر، پہ ڈیران رغڑیدل، کتہ بار کول، کتہ غورزول، لتے وھل، لکئی ڑقول، غوگونہ لکول، پہ جر مستیدل، خر پلار کول، خر تہ ماما وئیل، پہ لکئی پورے ٹیم تڑل‘‘ وغیرہ شامل تھیں۔ کتاب میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ انجمن کے ممبران نے انجمن کے لیے باقاعدہ ایک ترانہ بھی لکھا تھا جس کے چند اشعار کچھ اس طرح ہیں
خکاری بیا دَ چا بیگار
زغلی پہ دو دو حمار
گورہ دَ خوارانو خوار
تل اختہ دَ بل پہ کار
الحمار الحمار الحمار الحمار
نہ وی حیس کلہ اوزگار
ماتہ ورلہ ملا کڑی بار
گٹے، خاورے یا جوار
خوری ہر وخت پہ شا گزار
الحمار الحمار الحمار الحمار
اس ترانہ کے علاوہ انجمن کے اجلاسوں میں جو کلام پیش کیے جاتے، ان میں بھی اس قسم کے اشعار شامل تھے
حماران د زمانے مے ٹول یاران دی
ما حمار لرہ د دوئی اشنائی بس دہ
حمار چہ چغہ کڑی غوگونہ اوخری
انسان چہ چغہ کڑی ملکونہ اوخری
انصاف پہ تاسو چہ انسان غورہ دے
کہ پہ دنیا کے حمار خان غورہ دے
موصوف نے انجمن حمارین پر تبصرہ کے ساتھ ساتھ دنیا کی تعمیر و ترقی میں حمار(گدھے)کے کردار پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے اور گدھے کو عجز و انکسار کی علامت قرار دے کر اسے مشقت کرنے والا محنت کشو ں کا نمائندہ قرار دیا ہے۔
آج سے 58 سال پہلے تو اس دور کے تعلیم یافتہ نوجوانوں نے انجمن حماران کا قیام اس دور کے حالات کے مقابلے میں عمل میں لاکر بہت سے مثبت نتائج بھی حاصل کیے ہوں گے، مگر موجودہ حالات کو دیکھ کر مجھے ’’انجمن حماران ‘‘کی دوبارہ بحالی کی شدید ضرورت محسوس ہورہی ہے۔ کیوں کہ کسی بھی جگہ میں حماریت کے بغیر آپ کو آپ کا جائز حق نہیں مل رہا ہے اور اس پر مخصوص افراد قابض ہیں۔ بے چارے حماروں کو اکیسویں صدی میں بھی ترقی کرنے کے لیے نہیں چھوڑا جاتا۔ بے چارے حماروں کی قسمت میں وہی بوجھ اٹھانا اور ڈنڈے یا چابک کھانا لکھا گیا ہے اور انھوں نے بھی سوچا ہے کہ ہم نے بھی ہلنا جلنا نہیں ہے۔ حالاں کہ اس سائنسی دور میں موجودہ حماران بے چارے اگر زیادہ نہیں کرسکتے، تو کم از کم انھین پینٹ پتلون تو پہنایا جاسکتا ہے۔ تاکہ ان کا زخمی جسم تو تھپتی دھوپ اور ٹھٹرتی سردی سے محفوظ رہ سکے۔ اس طرح وہ گندے نالوں کا پانی پینے کے بجائے صاف پانی اور گھاس پھونس کے بجائے کھانے کو سیب اور مربعے نہ ملیں، تو کم از کم کھل،چوکر کھانے کے تو حق دار قرار دئیے جاسکتے ہیں، مگر حمار بے چارہ اب بھی دن بھر محنت مشقت کرکے جوں کا توں ہے جیسا کہ کسی ’’کمہار ‘‘نے ان کے خلاف حکم امتناعی حاصل کیا ہو۔ کیوں کہ حکم امتناعی حاصل کرنا، تو اس قدر آسان ہوچکا ہے کہ کوئی بھی ترقی اور تعمیر کا راستہ روکنے کے لیے اسے آسانی سے حاصل کر سکتا ہے۔
افسوس کی بات تو یہ ہے کہ کوئی ایک ادارہ، پارٹی، تنظیم یا شعبہ نہیں جس پر قابض ’’کمہاروں‘‘ نے بے چارے حمار کا استحصال شروع نہ کیا ہو بلکہ ہر شعبہ اور ادارہ میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا معاملہ جاری ہے اور اگر ان کا راستہ روکنے کی کوشش نہیں کی گئی، تو یہ شتر بے مہار کی طرح من پسندی کا مظاہرہ کرتے رہیں گے۔ اس لیے میرا خیال ہے کہ پرانی تنظیم ’’انجمن حماران‘‘ میں موجودہ حالات و واقعات کی روشنی میں تھوڑی بہت ترمیم کرکے اسے ’’انجمن حقوقِ حماران ‘‘ جس میں بین الالقوامی قوانین پر پورا اترنے کے لیے ’’جینڈر ‘‘کا بھی خیال رکھنا ہوگا، کے نام سے ایک تنظیم کے قیام کی اشد ضرورت ہے۔ تاکہ بے چارے حماروں پر کمہاروں کے مظالم کا تدراک ہوسکے ۔
908 total views, no views today


