تحریر : صلاح الدین یوسفزئ
پورے ملک میں اس وقت سوئی گیس کا بحران ہے جس کے اثرات سوات میں بھی محسوس کئے جا رہے ہیں اس حوالے سے پاکستان کے وزیراعظم نے بھی ایکشن لیا ہے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو تحلیل کرنے کی بات بھی کی جا رہی ہے کے پی کے میں گیس بحران کی بڑی وجہ گرگری پلانٹ سے گیس کی پیدوار میں کمی بھی بتائی جا رہی ہے اس وقت کے پی کے ملک کی ضروریات کا 9 فیصد گیس پیدا کر رہا ہے جس میں 4 فیصد کے پی کے میں استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ 5 فیصد دوسرے صوبوں کو دی جا رہی ہے گرگری پلانٹ میں پیداوار کم ہونے کیوجہ سے گزشتہ کچھ دنوں سے گیس پنجاب سے منگوائی جا رہی ہے اُمید ہے کہ چند دنوں میں یہ بحران ٹل جائیگا سوات میں امید ہے کہ اگلے سال سے گیس کی لو پریشر کا مسئلہ حل ہو جائے گا اس حوالے سے ممبر قومی اسمبلی سلیم الرحمن کو ریجنل منیجر سوئی گیس مردان نے یقین دہانی کرائی تھی کہ نئی پائپ لائن ظلم کوٹ کے قریب جائنٹ کر دیا جائیگا جس کے بعد گیس کا بحران مستقل طور پر حل ہو جائیگا مینگورہ سٹی میں اب بھی کئی علاقے گیس کی سہولت سے محروم ہے جبکہ بعض علاقوں میں لو پریشرکا مسئلہ درپیش ہے لو پریشر کا مسئلہ تو اب حل ہونے کی اُمید ہو چلی ہے مینگورہ میں فضاگٹ کاکئی کلو میٹر علاقہ بارامہ اور سرینگر محلہ سیدو شریف میں ڈاکٹر کالونی شگئی کے کچھ علاقے رشہ گٹہ کے کچھ علاقے ابھی بھی گیس سے محروم ہے

اس کیلئے موجودہ ممبر قومی اسمبلی سلیم الرحمن کی ہدایت پر محکمہ سوئی گیس نے نئے سروے مکمل کر لئے ہیں اُمید ہے کہ آئندہ تین چار مہینوں میں ان علاقوم میں بھی گیس کی نئی لائنیں بچھا دی جائے گی سلامپور کیلئے خوازہ خیلہ اور کبل دیولئی مٹہ کیلئے سوئی گیس کی مین لائن پر بھی کام جاری ہے گیس کوان علاقوں میں بھی پہنچ جا ئیگی لیکن اس کے بعد بڑاکام پھر مقامی طور پر لائنیں بچھانے کاکام ہو گا ان علاقوں کے ممبران اسمبلی کیلئے یہ ایک چیلنج ہو گا کہ وہ کتنے عرصے میں ان علاقوں میں گیس کی فراہمی ممکن کر پائیں گے ایک طرف یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس وقت سوات میں صرف 20 فیصد علاقے میں گیس موجود ہے اور اس میں بھی سردیوں میں گیس شارٹ ہو جاتی ہے لیکن چونکہ نئی پائپ لائن مکمل ہو چکی ہے صرف ظلم کوٹ کے مقام پر اس کے جائنٹ کامسئلہ درپیش ہے اگر یہ جائنٹ ہو جائے تو اُمید ہے کہ پورے سوات میں بھی اگر گیس پہنچا دی جائے تو گیس کی قلت پیدا نہیں ہو گی دُنیا اُمید پر قائم ہے ہم بھی اُمید رکھتے ہیں کہ گیس کا بحران جلد از جلد حل ہو جائے گا

اس وقت عوام کو مینگورہ میں سوئی گیس کے دفتر اور عملہ سے بہت ساری شکایات موجود ہیں جو کہ حقیقت پر مبنی ہے اس حوالے سے ممبر قومی اسمبلی سلیم الرحمن ریجنل منیجر مردان سے بھی بات کی ہے اس حوالے سے وہ ایم ڈی سوئی نادرن سے لاہور میں ملاقات بھی کرنے والے ہیں جس کے بعد اُمید ہے کہ محکمہ میں موجود کالی بھیڑوں کو سوات سے ضلع بدر کر دیا جائیگا عوام کی اصل مشکلات سوئی گیس سیلز میں ہے جس میں ڈیمانڈ نوٹس بنانے سے قبل سروے کے دوران رشوت کی شکایات عام تھیں جوکہ اب کافی حد تک کم ہو گئی ہیں سوئی گیس کا دفتر سیدوشریف سے وتکے اور فضا گٹ کے درمیان شاہد ٹاؤن منتقل کیا گیا ہے جہاں مینگورہ سے جانے کیلئے رکشے کیلئے 200 روپے سے کم نہیں لیتے صارفین کو اس جگہ دفتر سے بہت ساری مشکلات ہے اس دفتر کو امیر مقام نے اپنے ایک سیاسی لیڈر کو فائدہ پہنچانے کیلئے وہاں منتقل کیا تھا پی ٹی آئی کی حکومت کے قیام سے قبل سوئی گیس کے دفتر کے حالات بہت ابتر تھے اب آہستہ آہستہ تھوڑی بہتری ہو رہی ہے مکمل بہتری تو اب بھی نہیں آئی ہے بہت سارا سٹاف اب بھی غیر حاضر رہتا ہے کوئی کسی کو جوابدہ نہیں ہے اس حوالے سے ممبر قومی اسمبلی سلیم الرحمن کو بھی آگاہ کیا جا چکا ہے اس حوالے سے انہوں نے بھی ایکشن لینے کی یقین دہانی کرائی ہے اُمید ہے کہ جس طرح واپڈا والے پی ٹی آئی کی حکومت کے بعد سدھر چکے ہیں گیس کے محکمے کے ملازمین بھی سدھر جائیں گے ۔
2,407 total views, no views today



