مٹہ (سوات نیوزڈاٹ کام) مدرسوں میں علم حاصل کرنے والے اور شب وروز قرآن مجید کی تلاوت کرنے والے ان چھوٹے بچوں کی بدولت ہی اللہ تعالی ہم سب پر اور پوری دنیا پر رحمتیں برسا رہا ہے۔ مفتی فضل غفورتفصیلات کیمطابق گزشتہ روز تحصیل مٹہ کے نواحی گاوں سمبٹ کے مدرسہ فیض القرآن میں دس بچوں کی ایک ساتھ ختم القرآن کی سعادت حاصل کرنے کے موقع پر ایک پروقار تقریب کا اہتمام کیا گیا جس کے مہمان خصوصی جمیعت علماء اسلام پاکستان کیااہم رہنماء اور سابقہ ایم پی اے حضرت مولانا مفتی فضل غفور صاحب تھے۔اس تقریب میں بچوں اور بچوں کے والدین سمیت علاقے کے دیگر عوام نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی۔مہمان خصوصی کے علاوہ علاقے کے دیگر علمائے کرام جن میں سابقہ صوبائی وزیر قاری محمود، مولانا عمر،مولانا حفیظ الرحمن ،مولانا شیر افضل ،مولانا لیاقت علی اور قاری رحیم اللہبھی شامل تھے شرکت کی۔اس موقع پر مفتی فضل غفور اور دیگر علمائے کرام نے ختم القرآن کی سعادت حاصل کرنے والے بچوں کی دستار بندی کی اور ان کے والدین کو مبارکباد پیش کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مفتی فضل غفور صاحب کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ اپنی تھوڑی سی توجہ ان جیسے بچوں کو بھی دیں دے جو کہ اپنے والدین سے دور ان مدارس میں دین کی علم حاصل کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت ملالہ یو سفزئی کو نوبل ایوارڈ دیں سکتا ہے اور سوات مینگورہ سے تعلق رکھنے والے اس طالب العلم جس کانام محمد حسن تھا کو نوبل ایوارڈ نہیں دیں سکتا جس نے 86ممالک کے قرآن مجید کی حافظوں میں پہلی پوزیشن لیکر پاکستان کا نام پوری دنیا میں روشن کردیا۔
1,806 total views, no views today



