جنت نظیر وادئ سوات کو اپنی خوب صورتی کی بہ دولت پوری دنیا میں ایک جداگانہ حیثیت حاصل ہے۔ اس کو ایشیا ء کا سوئیزر لینڈ بھی کہا جاتا ہے۔ سالانہ لاکھوں کی تعداد میں ملکی و غیر ملکی سیاح سوات کا رخ کرکے ایک طرف سوات کی رونق کو دوبالا کرتے ہیں، تو دوسری طرف یہاں کے عوام کو روزگار کے مواقع بھی فراہم ہوجاتے ہیں۔ امن کی بہ حالی کے بعد ترقیاتی کاموں میں مصروف پاک فوج اب سیاحت کے فروغ کے لیے بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ وقفے وقفے سے مختلف قسم کے میلوں کا انعقاد بھی اس سلسلے میں اہم ثابت ہورہا ہے۔ انھی میلوں کی وجہ سے لاکھوں سیاح سوات امنڈ آتے ہیں۔
قارئین کرام! دوہزار سات سے دوہزار نو تک یہاں پر عسکریت پسندی عروج پر تھی اور پوری وادی میں حکومتی رٹ نہ ہونے کے برابر تھا۔یہاں پر دیگر شعبوں سمیت سیاحت کو بھی کافی نقصان پہنچا ہے۔ سیاح تو دور کی بات، یہاں کے مقامی لوگ بھی نقل مکانی کر گئے تھے۔ کیوں کہ ہر طرف ظلم و جبر کے سائے تھے۔ کسی کا جان و مال محفوظ نہیں تھا۔ گرین چوک ’’خونی چوک‘‘ اور سہراب خان چوک ’’پھانسی گھاٹ‘‘ بن چکا تھا۔ ہر شام گھروں میں مائیں نوحہ کناں سنی جاتی تھیں۔ بازاروں میں انسانی اعضاء بھکرے پڑے ملتے تھے اور سوات کی خوب صورت وادی میں خون کی بُو نے پورے ملک کے عوام کو ایک عجیب سی ہیجانی کیفیت میں مبتلا کر رکھا تھا۔ پھر پاک فوج کی جانب سے آپریشن راہ حق شروع کیا گیا اور بالآخر آپریشن راہ راست میں سوات سے عسکریت پسندی کا مکمل خاتمہ کیا گیا۔ دوہزار نو کا یوم پاکستان یہاں ایک تاریخ رقم کرگیا۔ یہاں کے عوام جشن آزادئ پاکستان کو عسکریت پسندوں کے چنگل سے آزادی ملنے کے طور پر بھی منا رہے تھے۔ اس موقع پر مرجھائے ہوئے چہرے کھل اٹھے تھے۔ ڈر کے مارے گھروں میں محصور لوگ مکان باغ، سہراب اور دیگر چوکوں میں نکل کر ڈھول کی تاپ پہ بھنگڑے ڈال رہے تھے اور چاروں اُورخوشی کا سماں تھا۔ لوگ سوات کے عوام کو مبارک باد دے رہے تھے۔ کیوں کہ سوات کے عوام کے زخم مندمل ہونا شروع ہوگئے تھے۔ وہ کندھے جو لاشوں کو اٹھا اٹھا کر تھک گئے تھے، اب انھیں آرام مل رہا تھا۔
پھر وقت گزرتا گیا۔ حالات بھی بدلتے گئے۔ اس کا کریڈٹ یہاں کے تین ہزار شہید عوام،پانچ سو پچاس شہید فورسز ار ایک سو دو شہید پولیس اہل کاروں کو جاتا ہے۔ آج کے اس امن کے لیے سوات کے ہر بوڑھے، بچے، خاتون اور ہر طبقۂ فکر کے لوگوں نے قربانیاں دی ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ترقیاتی کام شروع ہوئے باسٹھ غیر سرکاری تنظیموں، امریکی حکومت، یواے ای، یورپی یونین، سعودی عرب اور ترکی سمیت ہر دوست ملک نے حسب توفیق بہ حالی کے کاموں میں اپنا حصہ ڈالا اور ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوا۔
سیلا ب میں بہنے والے پل تعمیر ہونے لگے۔ دہشت گردی کا نشانہ بننے والے چار سو دو اسکولوں کی تعمیر و مرمت شروع ہوئی۔ پولیس اسٹیشنوں اور چوکیوں کو جدید طرز عمل پر امریکی حکومت کی مدد اور تعاون سے تعمیر کیا گیا۔ یو اے ای نے پاکستان کا سب سے بڑا اور جدید پل (گیمن پل) سوات کے عوام کی قربانیوں کے صلے میں ان کو انعام کے طور پر دیا۔ یو اے ای نے چھپن ہزار بچیوں کی تعلیم کو جاری رکھنے کے لیے اسکولوں کی تعمیر مکمل کی۔ ملالئی نے بھی کچھ کردار ادا کرکے سو بچیوں کو اپنے فنڈ سے اسکول میں داخل کرایا۔ جب امریکی حکومت کی جانب سے سوات کے پولیس اسٹیشنوں کی تعمیر کی جا رہی تھی، تو راقم ایک سوچ میں تھا کہ کیوں نہ ان تھانوں کی بجائے وہ اسکولوں کو تعمیر کرتی، لیکن ایک دوست کے مطابق اگر یہاں پر امن ہوگا، پولیس ایکٹیو ہوگی، تو تب بچے اسکول جا سکیں گے۔
سب کچھ ٹھیک ہوگیا لیکن سوات میں سیاحت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سڑکیں تاحال خستہ حالی کا شکار ہیں۔ مینگورہ سے منگلور، ملم جبہ، سیدو سے مرغزار، مدین سے کالام، میاندم اور کوکاری سمیت دیگر علاقوں میں سیاحوں کی رسائی تو دور کی بات، اپنے لوگوں کا بروقت پہنچنا مشکل ہے۔
پاک فوج سالانہ لاکھوں سیاحوں کو میلوں میں سوات تو لا دیتی ہے لیکن ایک سیاح واپس جاکر سو سیاحوں کو سوات آنے سے منع کرتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ کھنڈارات سڑکیں ہیں جو یہاں کے ممبران اسمبلی اور وزراء سمیت ن لیگ کے راہ نما امیر مقام کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان ہیں۔ کیوں کہ سابق صدر مشرف کے دور میں درگئی سے کالام تک منظور ہونے والی ایکسپریس وے کے لیے آج بھی اٹھارہ لاکھ عوام انتظار کر رہے ہیں۔ مقامی صحافی اور عوام جب موجودہ حکم رانوں سے مایوس ہوئے، تو انھوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے نام کھلے خط لکھ ڈالے، لیکن یہاں کے عوام کے زخموں پر پٹی رکھنے والا کوئی مسیحا سامنے نہ آیا۔
لیکن آج وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا پرویز خٹک اور امریکی قونصل جنرل جان ایف ڈینی لویز اور یو ایس ایڈ کے ڈپٹی مشن ڈائریکٹرکیگری ایف ہیوگر کی ملاقات میں خیبر پختون خوا میں سرمایہ کاری اور سوات ایکسپریس وے کی منظوری کی وجہ سے پوری وادئ سوات کے عوام امریکی حکومت کا شکریہ ادا کرتی ہے، کیوں کہ کسی بھی علاقے میں سیاحت کی ترقی کا انحصار اچھی سڑکوں پر ہوتا ہے۔ امریکی حکومت پہلے ہی سے سوات میں ترقیاتی کاموں میں حکومت کا ہاتھ بٹھا رہی ہے۔ دہشت گردی سے متاثرہ ہوٹلوں کی بہ حالی کے لیے امریکی حکومت اپنے نمائندے رچرڈ ہالبروک کے توسط سے پینتالیس ملین ڈالرز کی امداد دے چکی ہے جوکہ ہوٹل مالکان اور ان کے یونین کی غلط پالیسیوں سے مزید آگے نہ بڑھ سکی۔ ورنہ اس سے ہوٹل انڈسٹری میں انقلابات برپا ہوتے۔
قارئین کرام! آدھی دنیا گھوم چکا ہوں۔ ایک فقیر ملک کی سڑکیں ہمارے موٹر وے کے مقابلے کی ہوتی ہیں۔امریکہ میں کوئی ایسی جگہ نہیں دیکھی کچی سڑک ہو۔ اس طرح سنٹرل ایشیا ء کو دیکھ لیں جن کے عوام کی اوسطاً ماہانہ آمدن دس ہزار ہے لیکن اس کے باوجود ان کا لائف اسٹائل شان دار اور ان کی سڑکیں جیسے کوئی کارپٹ پر چل رہا ہو۔ تھائی لینڈ، ملائشیاء، ازبکستان، یہاں تک کے بنگال کی سڑکیں دیکھ کر ہمارا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔
دیر آید درست آید کے مصداق اب چوں کہ امریکی حکومت کی جانب سے سوات ایکسپریس وے کا اعلان کیا گیا ہے اور یہاں کے عوام کے دلوں میں ایک حسر ت سی جاگ اٹھی ہے تو کیا سوات دوبارہ والئی سوات کے دور کی طرح ترقی یافتہ ہوجائے گا، جس کی مثال پورے ملک میں دی جاتی تھی اور اگر واقعی ایسا ہوا، تو یقیناًیہاں کے عوام امریکی حکومت کے ممنون رہیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ سوات کے عوام امریکی حکومت سے ملم جبہ، میاندم اور مرغ زار سمیت مہوڈھنڈ اور دیگر سڑکوں کے لیے بھی فنڈز کی فراہمی کی اپیل کرتے ہیں، تاکہ سوات کی جنت نظیر وادی ایک بار پھر ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن سکے اور یہاں خوش حالی کا دور دورہ ہو۔
یہی سوات کے عوام کے دل کی آواز ہے جسے راقم نے الفاظ کی شکل دی۔
*۔۔۔*۔۔۔*
802 total views, no views today


