سوات(سوات نیوزڈاٹ کام)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے زیرتعمیر سوات موٹر وے منصوبے کی ٹائم لائن کے اندر تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت۔انہوں نے منصوبے کے دوسرے سنگ میل کاٹلنگ سے چکدرہ کے درمیان تعمیری سرگرمیوں میں حائل رکاوٹیں دور کرکے ایف ڈبلیواو کو سہولت فراہم کرنے اور سروس ایریا کیلئے درکار اراضی کا مسئلہ جلد حل کرنے کی ہدایت کی ۔ انہوں نے ہر دس سے پندرہ کلو میٹر کے بعد مسافروں کیلئے واش روم اور دیگر سہولیات کی ضرورت پر بھی زور دیا ۔انہوں نے سی پیک سٹی نوشہرہ کیلئے دو مقامات پر درپیش اراضی کا مسئلہ حل کرنے جبکہ صوبے میں سیاحتی مقاصد کیلئے سڑکو ں کی تعمیر کی سکیم کے تحت ترجیحات پر مبنی پلان بنانے کی بھی ہدایت کی۔ وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے ذریعے تعمیر کئے جانے والے منصوبوں کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ صوبائی وزیربرائے مواصلات و تعمیرات اکبر ایوب ، صوبائی حکومت کے ترجمان اجمل وزیر، ایس ایس یو کے سربراہ صاحب زادہ سعید ، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز ، متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ فرنتیئر ورکس آرگنائزیشن خیبرپختونخوا بشمول سابق فاٹا میں مجموعی طور پر 23 منصوبوں پر کام کر رہی ہے جن کی لاگت تقریباً 243 ارب روپے ہے ۔ سوات موٹروے کے حوالے سے بریف کرتے ہوئے اجلاس کو یقین دلایا گیا کہ ٹائم لائن کے اندر منصوبے کی تکمیل کیلئے زور و شور سے کام جاری ہے، منصوبے کے پہلے سنگ میل کرنل شیرخان انٹر چینج سے کاٹلنگ تک ٹریفک کی آمد و رفت جاری ہے، ٹولنگ جنوری سے شروع ہے ، روزانہ کی بنیاد پر 3000 سے زائد گاڑیاں ٹریول کرتی ہیں۔ آئندہ دو ماہ میں پلائی تک کام مکمل ہوجائے گا ۔ منصوبے کے دوسرے سنگ میل کاٹلنگ سے چکدرہ تک بھی فل فلیج کام شروع ہے، 60 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے، اس سنگ میل میں 12 پُل بھی ہیں جبکہ دو اضافی ٹنل بھی شامل کی گئی ہیں جن پر تیز رفتاری سے کام جاری ہے ۔ وزیراعلیٰ نے دوسرے سنگ میل میں حساس ترین مقام پر ایک متبادل ڈائیورژن بھی تیار کرنے کی ہدایت کی تاکہ بوقت ضرورت اسے بھی استعمال کیا جا سکے۔انہوں نے تعمیراتی کام میں حائل رکاوٹوں خصوصاً مکانات اور دیگر یوٹیلیٹیز فوری طور پر دور کرنے کیلئے اقدامات کی ہدایت کی ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ منصوبے کی تعمیر کیلئے استعمال میں آنے والی منسلک سڑکوں کی بحالی بھی ایف ڈبلیو او کر رہی ہے ۔ڈی جی سے اس کی باضابطہ منظوری بھی لی جا چکی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ایف ڈبلیو او نوشہرہ میں 10 ہزار ایکڑ اراضی پر مشتمل سی پیک سٹی منصوبے پر بھی کام کر رہی ہے، زمین مالکان کو ادائیگی کا سلسلہ بھی شروع ہے تاہم دو موضعوں میں اراضی کا مسئلہ درپیش ہے وزیراعلیٰ نے اس سلسلے میں عدالتی کیسز کو اچھے طریقے سے پرسو کرنے جبکہ دیگر انتظامی مسائل خود حل کرنے کی ہدایت کی۔نوشہرہ میڈیکل کالج کے حوالے سے بتایا گیا کہ اگر فنڈز بروقت فراہم کئے جائیں توآئندہ جون تک مکمل کیا جا سکتا ہے۔ کالج میں مجموعی طور پر 600 طلبہ کی استعداد ہے ،70 فیصد کام ہوچکا ہے ۔ دریا ئے کابل پر پُل بن چکا ہے جبکہ دونوں اطراف میں پُل تک رسائی کیلئے سڑکوں کی تعمیر نو و بحالی بھی شروع ہے ، اپریل کے آخر تک یہ کام بھی مکمل کیا جاسکتا ہے۔ وزیراعلیٰ نے مذکورہ دونوں منصوبوں کی تکمیل کیلئے مسائل حل کرنے جبکہ ریگی ماڈل ٹاؤن اور دیگر منصوبوں کی مد میں ایف ڈبلیو او کے بقایا جات کی ادائیگی کا یقین دلایا ۔ اجلاس کو مزید آگاہ کیا گیا کہ ایف ڈبلیو او چند نئے منصوبوں پر بھی کام کر رہی ہے جن میں چکدرہ سے منگورہ تک سوات موٹروے کی توسیع اہمیت کی حامل ہے۔اس کے علاوہ صوبے میں سیاحت کے مقاصد کیلئے مجموعی طور پر 283 کلومیٹر طویل سڑکوں کی تعمیر و بحالی کا منصوبہ بھی ہے وزیراعلیٰ نے اس سلسے میں ترجیحات کا تعین کرنے اور قابل عمل پلان وضع کر کے پیش کرنے کی ہدایت کی اسکے علاوہ اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے نئے بلاکس کی تعمیر کا منصو بہ بھی ہے یہ تین سال کا منصوبہ ہے جس کا ماسٹر پلان تیار کیا جا چکا ہے۔ دھمتوڑ سے حویلیاں روڈ کیلئے بھی وسائل کی منظوری ہو چکی ہے۔ اجلاس نے آئندہ سیزن تک اس روڈ کو مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ایف ڈبلیواو ھری پور میں سیمنٹ پلانٹ کے منصوبے پر بھی کام کر رہی ہے تاہم زمین مالکان کی طرف سے اراضی کے سلسلے میں مسائل درپیش ہیں ۔ وزیراعلیٰ نے منصوبے پر بنیادی نوعیت کی منصوبہ بندی کیلئے ایف ڈبلیو او کو سائٹ تک رسائی دلانے کیلئے مقامی انتظامیہ کو تعاون کرنے کی ہدایت کی جبکہ عدالت میں زیرسماعت کیسز کو مناسب طریقے سے پرسو کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔اجلاس میں بتایا گیا کہ ایف ڈبلیو او چترال میں 506 میگاواٹ کے حامل پن بجلی کے تین منصوبوں پر بھی کام کر رہی ہے۔منصوبوں پر فیزیبلیٹی سٹڈی کی ریویژن شروع ہے ۔ ایف ڈبلیو او کے حکام نے بتایا کہ بجلی کی ٹرانسمیشن لائن چترال کوریڈور پر کام کیلئے بھی تیار ہیں مگر صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے کچھ مسائل ہیں جنہیں حل کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس سلسلے میں متعلقہ حکام کی طرف سے ٹی او آرز آنے کے بعد مسئلے کو مضبوط انداز میں پرسو کرینگے یہ نہایت اہم منصوبہ ہے کیونکہ چترال میں ہزاروں میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی استعداد موجود ہے۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر آئل ریفائنری کرک کیلئے ٹائم لائن دو ہفتون کے اندر پیش کرنے کی بھی ہدایت کی ۔
3,826 total views, no views today



