خصوصی رپورٹ ۔سلیم اطہر
سوات میں دریائے سوات کے کنارے غیر قانونی طورپر تعمیراتی کام بڑے زور شور سے جاری ہے اور اب بعض ریسٹورنٹس کے مالکان نے مینگورہ فضا گٹ بائی پاس پر دریائے سوات کے عین وسط میں تعمیراتی کا م شروع کردیا ہے وفاقی اور صوبائی حکومت نے ملک بھر کے تمام برساتی نالوں اور دریاؤں کے اوپر اور کناروں پر ہرقسم کے تعمیراتی کا م کو غیر قانونی قرار دے کر اس پر مکمل پابندی عائد کی ہے وزیراعظم عمران خان نے بھی اس سلسلے میں باقاعدہ ہدایات جاری کئے تاہم حکومتی احکامات کے باوجود سوات میں دریائے سوات کے کنارے اور عین وسط میں غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے اور ضلعی انتظامیہ نے اس پر مکمل خاموشی اختیار کرلی ہے سوات جوکہ ایک سیاحتی علاقہ ہے اور ایشیاء کے سوئٹزرلینڈ کے طورپر جانا جاتا ہے اس کی تمام تر خوبصورتی اسی دریائے سوات کی وجہ سے ہے ماضی میں جب سوات ریاست تھا اور یہ پاکستان میں مدغم نہیں ہوا تھاتووالی سوات کے سخت قوانین کے نفاذ کی وجہ سے دریائے سوات کے کنارے کسی کو آبادی کرنے کی ہمت نہیں تھی لیکن اب جب ریاست سوات ختم ہوا تو سوات کے انٹری پوائنٹ لنڈاکی سے لیکر مہوڈنڈ اور اوتروڑ تک دریائے سوات کے کنارے نہ صرف جگہ جگہ غیر قانونی ہوٹلز ،ریسٹورنٹس اور دیگر عمارتیں قائم کرلی گئی ہیں بلکہ ان تمام ہوٹلز،ریسٹورنٹس اور عمارتوں کے فضلہ جات اور سیفٹی ٹینکس نہ ہونے کے وجہ سے گندہ پانی دریائے سوات میں گراتے ہیں

جس سے دریائے سوات کا وہ پانی جوماضی میں اتنا صاف اور شفاف تھا کہ لوگ اس کو گھریلوں استعمال کے لئے گھروں میں لے کے جاتے تھے لیکن اب ہوٹلز کا سیورج سسٹم نہ ہونے کی وجہ سے گندہ پانی دریائے سوات میں گراتے ہیں جس سے دریائے سوات کا پانی گندہ اور آلودہ ہوگیا ہے پانی کے آلودہ ہونے سے نہ صرف پانی غیر صحت بخش بن چکاہے بلکہ اس سے دریائے سوات میں پائے جانے والی مچھلیاں بھی مررہی ہیں اور گزشتہ کئی سالوں سے دریائے سوات میں موجو د نایاب قسم کی مچھلیاں مرنے کے مصدقہ رپورٹس آئے ہیں دریائے سوات کے کنارے تواتر کے ساتھ جاری تعمیرات سے نہ صرف دریائے سوات کا حسن ماند پڑگیا ہے

بلکہ اس دریائے سوات جوکہ سوات کا جھومر ہے اب وہ بھی دھندلا دھندلا نظرآتا ہے پہلے پہل تو دریائے سوات کنارے لوگ بلا کسی خوف وخطر تعمیرات کرتے نظر آتے تھے لیکن اب ان لوگوں کی ہمت اتنی بڑھ گئی ہے کہ ایک ریسٹورنٹس کے مالک نے پہلے تو دریائے سوات کے کنارے اپنے ریسٹورنٹس کو تعمیر کیا لیکن اب اُنہوں نے دریائے سوات کے عین وسط میں مہمانوں کے تفریح کے لئے باقاعدہ سیٹنگ کی ہے اور اب وہاں پر ایک تالاب بھی بنایا جارہاہے جس پر تعمیراتی کام بڑے زور وشور سے جاری ہے مینگورہ بائی پاس جوکہ مینگورہ شہر کے حدود میں واقع ہے یہ سوات کے درالخلافہ سیدوشریف جہاں ڈی سی سوات ،کمشنر ملاکنڈ ،ریونیو ،پٹوار اور ایری گیشن کے ضلعی اور ڈویثرنل دفاتر مو جود ہیں سے بمشکل چند کلو میٹر کے دوری پر ہے لیکن اللہ ہی جانے یا تو ان ارباب اختیار کو ان غیر قانونی تعمیرات کا علم نہیں یا وہ اُنہوں نے اس پرکسی مصلحت کے تحت خاموشی اختیار کی ہے سوات ہمارا مشترکہ گھر ہے اور اس گھر کی رکھوالی اور اس کا تحفظ ہم سب کا مشترکہ فرض ہے اس لئے ارباب اختیار سوات کے جھومر دریائے سوات کو محفوظ بنانے کے لئے ٹھوس اور سنجیدہ اقدامات اُٹھائے اورسوات کے اس جھومر کو دھندلا کرنے والے افراد سے اہنی ہاتھوں نمٹا جائے ۔
2,560 total views, no views today



