تحریر : غفور خان عادل
یہ بات ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اگر سرکاری محکموں پر سیاسی دباؤ ختم کرایا جائے اور ان اداروں کو سیاسی اثر رسوخ سے آزاد کرایا جائے تو ہر کام میرٹ پر ہوگا اگرمیرٹ کی دھجیاں اُڑائی جاتی ہے اور حقدار کو ان کے حق سے محروم رکھا جاتا ہے تو اس کی وجہ اداروں پر سیاسی دباؤ ہے اور اگر اداروں کو سیاسی دباؤ سے آزاد کرکے حکومت کی طرف سے صرف نگرانی کی جائے تاکہ کسی کے ساتھ ناا نصافی نہ ہو اور سرکاری لوگ اپنے آفیسرز کوجواب دہ ہو اور درمیان کی مداخلت ختم ہو تو حقدار کو ان کا حق ملنے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہو گی حکومت آنے جانے والی چیز ہے جبکہ سرکاری لوگوں کی ڈیوٹی ہوتی ہے خواہ حکومت کسی کی بھی ہو ۔ ان کو تو اپنی ڈیوٹی پر توجہ دینی چاہئے لیکن ہمارے ہاں بد قسمتی سے سرکاری اداروں میں ایسے لوگ ہوتے ہیں جو گرگٹ کی طرح رنگ بدل کر ہر حکومت میں اس حکومت اور حکمرانوں سے اپنی وفاداری ثابت کرنے کیلئے شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بننے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ غیر قانونی کام کا طریقہ بھی ان عوامی نمائندوں کو بتاتے ہیں جس سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے عوامی نمائندے بھی مذکورہ آفیسرز کو ذاتی نوکر سمجھ کر ان سے ہر جائز و ناجائز کام لیتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ سرکاری آفیسرز اور سرکاری محکموں کو بھی اپنی اپنی سیاست کیلئے استعمال کیا جاتا ہے

بعض سرکاری لوگ ریاست کے نوکر کم اور کسی کے ذاتی نوکر زیادہ ہونے کے چکر میں تمام حدیں بھی پار کر دیتے ہیں اور ان چند لوگوں کیوجہ سے پورا سرکاری سسٹم بھی متاثر ہو جاتا ہے عوامی نمائندوں کے وفادار بننے کی کوشش میں یہی سرکاری لوگ محکموں کی تمام کمزوریاں کسی وزیر یا ایم پی اے کو بتاتے ہیں اور اس طرح سرکاری محکموں میں مداخلت کرنے کیلئے ان چند لوگوں کی طرف سے ان کو باقاعدہ دعوت دی جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی سرکاری آفیسر جو قانون کے مطابق کام کرناچاہے اور کسی غیر قانونی کام کیلئے وزیر یا ایم پی اے کی مداخلت میں رکاوٹ بنتے ہیں تو پھر ان کیلئے اپنے فرائض سرانجام دینا بھی مشکل ہوتے یں تحریک انصاف کا روز اول سے یہ موقف رہا ہے کہ سرکاری محکموں کو سیاسی مداخلت اور دباؤ سے آزاد کرائیں گے لیکن عملی طور پر اب ان کو ثابت کرنا ہو گا کیونکہ گزشتہ عام انتخابات میں لوگوں نے تحریک انصاف کومینڈیٹ دیکر ان کو مرکز اور صوبوں میں کامیاب کرایا ہے اب چونکہ وہ پوری طاقت میں ہے تو ان سے لوگوں نے کافی توقعات وابستہ کر رکھے ہیں کہ وہ اپنے وعدے کو عملی طور پر ثابت کرکے سرکاری اداروں کو ہر قسم سیاسی دباؤ سے آزادکرائیں گے

اس سلسلے میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کا موقف بالکل واضح ہے جنہوں نے واضح کیا ہے کہ اداروں سے سیاسی اثر و رسوخ ختم کرکے عوامی خدمت پر لگادیا ہے ۔اختیارات کو عوامی فلاح کیلئے استعمال میں لانا عبادت ہے ۔ سرکاری اہلکاراپنی تمام تر صلاحتیں عوامی خدمت پر صرف کریں ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہمیں ادراک ہے کہ صوبے میں بیروزگاری ہے اور غریب عوام کو ریلیف دینا سب سے اہم ہے ۔ ہم نے اپنی ترجیحات میں پبلک سیکٹر کی بجائے پرائیوٹ سیکٹر کو پرکشش ترغیبات دی ہیں۔ میں نے صوبے بھر میں اکنامک زونز کے قیام ، سرمایہ کاروں کے ساتھ معاہدے، پن بجلی کی مقامی صنعتوں کو سستی بجلی کی فراہمی ، نوجوانوں کیلئے کاٹیج انڈسٹری اور اس کی استعداد اور صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کیلئے ایک مکمل پلان تشکیل دیا ہے۔ اداروں میں اصلاح کے عمل کو مکمل کر رہے ہیں۔ حکمرانی میں شفافیت کیلئے قانون سازی کر چکے ہیں۔ صوبے کے معاشی استحکام کیلئے بنیادی نوعیت کے اقدامات کر چکے ہیں۔انہوں نے کہاکہ منزل کا تعین اور ابتدائی اقدامات مشکل ترین مرحلہ تھا ۔ جس کے لئے اداروں کومستعد کیا گیا ہے۔ سفارش، اقرباء پروری اور سیاسی اثر ورسوخ کاخاتمہ کر دیا ہے۔ اگر انصاف اور میرٹ پر کام ہوگا تواس کا فائدہ پسے ہوئے لوگوں کو ہو گا۔ ہم ایک extractive معاشی پالیسی سے ایک inclusive معاشی پالیسی کی طرف جارہے ہیں۔

ایک ایسی معاشی پالیسی جس میں حکمران اور مراعات یافتہ طبقہ توجہ کا مرکز نہیں بلکہ اُن سے غریب لوگوں کیلئے اُن کے حق کے مطابق اُن کیلئے انصاف لینا ہے۔ ہم معاشرتی برائیوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور انصاف پر مبنی معاشرہ تشکیل دینا چاہتے ہیں۔ جس میں ہر کوئی جوابدہی کے عمل سے گزرے گااور کوئی کسی کا حق نہیں مارے گا۔ ہمارے صوبے کا شروع کر دہ پولیسنگ اور بلدیاتی نظام ہر جگہ پر سراہا گیا ہے لیکن یہ اصلاحات کا عمل مزید توجہ طلب ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ سسٹم از خود مسائل کا حل دے ۔ لوگوں کواپنے مسائل کے حل کیلئے بااثر ، مراعات یافتہ اور حکمران طبقے کے پیچھے نہ پھرنا پڑے ۔ ہم عوام کو عملاً آزادی دینا چاہتے ہیں۔ یہ آزادی معاشی میدان میں بہت اہم ہے۔انہوں نے کہاکہ سابقہ حکمرانوں نے عوام کیلئے کچھ نہیں کیا۔صرف مراعات یافتہ طبقے کو مضبوط کرنے پر لگے رہے جس کی وجہ سے اداروں سمیت پورا نظام مفلوج ہو کراُن کی تابعدادی میں لگا ہوا تھا۔یہ کوئی نظام نہیں جس میں با اختیار طبقہ پھلتا پھولتا اور آگے بڑھتا نظر آئے جبکہ غریب اور پسماندہ طبقہ بے سروسامانی کے عالم میں پھر تا رہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام نے مراعات یافتہ طبقے کے خلاف وزیراعظم عمران خان کی تبدیلی کو ووٹ دیا کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان ہی اُن کے حقوق اُنہیں دلا سکتے ہیں اور اُنکا وژن غریب کے مستقبل کو سنوار سکتا ہے۔ انہوں نے عوامی نمائندوں پر زور دیا کہ وہ آگے بڑھیں اور تبدیلی کے عمل کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں تاکہ خوشحال پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہو اور اس کے ثمرات سے عام لوگ مستفید ہوسکیں۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہاکہ صوبے میں ٹوارزم انڈسٹری سمیت قدرتی وسائل کو ترقی دی جارہی ہے۔ہمارے وسائل محدود ہیں لیکن ہم اس کا بہترین استعمال کرکے اپنی منزل کا حصول ممکن بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ عوام کو شعور ہے کہ دیر پا اور بہتر مستقبل کیلئے ابتدائی اقدامات مشکل ترین مرحلہ ہوتا ہے۔ سابقہ حکمرانوں نے حکمرانی کے نظام کو اتنا بگاڑ دیا تھا جس سے غریب اور پسماندہ لوگوں کی زندگی اجیرن ہو گئی تھی اسلئے حکومت نے سخت فیصلے کئے اور سسٹم کو عوام دوست بنانے کیلئے اقدامات کئے ۔ ہم ایک اچھے مستقبل کیلئے سخت فیصلوں کا سامنا کر سکتے ہیں۔کیونکہ یہ ہمارے مستقبل کی بات ہے۔ انہوں نے لوگوں سے کہاکہ وہ متحد رہیں ، تبدیلی کی مہم میں شعورکی بیداری پر کام کریں ۔ اگر ہمارا سفر سخت بھی ہو تو ہمیں اپنا شاندارمستقبل نظرآرہا ہے کیونکہ ہماری سمت ٹھیک ہو چکی ہے اور ہم اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے۔
2,219 total views, no views today



