سوات ،عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین نے کہاہے کہ دہشت گردی کے دوران ان کے850کارکن شہید کئے گئے ،کارکنوں کے مزید جنازے اٹھانے کا سکت نہیں رہا ،اے این پی کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف بھرپور حکمت عملی اپنارہی ہے،عمران خان دہشت گردوں کے کھل کر ساتھی ہیں اور صوبہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کے کندھوں پر ہی تحریک انصاف اقتدار میں آئی ہے،اگر ملک میں آئین کو توڑنے کی کوشش کی گئی تو ہر صوبہ اپناہی آئین بنائے گا ،شمالی وزیرستان کے10لاکھ متاثرین کو مرکز اور صوبے دونوں حکومتوں نے بے یارومددگار چھوڑدیا گیا ہے،صوبے کی حکومت نے اے این پی کو دہشت گردوں کے رحم وکرم پر چھوڑدیا گیا ہے،
ان خیالات کا اظہار انہوں نے تحصیل مٹہ کے علاقے باماخیلہ میں گذشتہ روز ٹارگٹ کلنگ کے دوران شہید ہونے والے اے این پی کے مقامی رہنمااشرف خان کے گھر پر فاتحہ خوانی کے موقع پر ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ،اس موقع پر اے این پی سوات کے صدر شیر شاہ خان،جنرل سیکرٹری رحمت علی خان،سیکرٹری اطلاعات عبداللہ یوسفزئی ،خواجہ محمد خان اور خلیل الرحمن خان سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے ،تحریک انصاف حکومت قیام امن میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے اور قوم کو اس کا اصل چہرہ معلوم ہوگیا ہے کیونکہ اس پارٹی نے ہی طالبان کو صوبے میں دفتر دینے کامطالبہ کیا تھا انہوں نے کہاکہ وزیرستان آپریشن پر نہ مرکزی حکومت اور نہ ہی صوبائی حکومت نے فوج کا کھل کا ساتھ دیا ہے کیونکہ یہ دونوں دہشت گردوں سے ڈررہے ہیں ،انہوں نے کہاکہ ہم امن چاہتے ہیں اور دہشت گردوں کے خلاف فوج کا ساتھ دیا جس پر ہمیں نشانہ بنایا جارہا ہے ،انہوں نے کہاکہ مڈٹرم انتخابات کا مطالبہ کرنے والے نوے دن میں بلدیاتی انتخابات کیوں نہیں کراسکے ہیں ،انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم بننے کے لئے دھرنے دئے جارہے ہیں اور ہماری حکومت میں ڈرون حملوں کے خلاف لانگ مارچ کرنے والے اب ڈرون حملوں پر کیوں خاموش ہیں انہوں نے کہاکہ دہشت گرد دوبارہ منظم ہورہے ہیں جو انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے اس لئے اے این پی کا مطالبہ ہے کہ ٹارگٹ کارروائی عمل میں لائی جائے اور گرفتار دہشت گردوں کو رہا نہ کیا جائے بلکہ ان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے ،بعد ازاں میاں افتخار حسین نے بزرگ سیاستدان محمدافضل خان لالہ کے ساتھ بھی ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور ان سے ملک کی سیاسی صورتحال پر گفتگو کی ۔
401 total views, no views today


