تحریر: خورشید علی
پاکستان کی پہلی اور پشتونوں کی واحد کم عمر لڑکی ملالہ یوسفزئی کو دنیا اہم ترین نوبل پیس پرائز سے نوازا گیا، ملالہ یوسفزئی کو اس پرائز کیلئے سال 2014 کو نامزد کیا گیا تھا، اس سے پہلے سال 2013 کو بھی ملالہ یوسفزئی کو نوبل پرائز کیلئے نامز د گی ہوئی تھی لیکن نوبل پرائز اس سال کیمیائی ہتھیار تلف کرنے والے ادارے او پی سی ڈبلیو کو دیا گیا تھا، اس ادارے نے خلیج ملک شام میں کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کیا تھا، جس کے صلے میں ان کو امن کا نوبل پرائز دیا گیا ۔

ایوارڈ ملنے کے بعد ملالہ یوسفزئی کے ابائی شہر مینگورہ میں جشن کا سماں ہے ، جوں ہی ملالہ یوسفزئی کے نام کا اعلان ہوا تو اہلیان سوات اپنے گھروں سے نکل ائے اور ملالہ یوسفزئی کو خراج تحسین پیش کیا،مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال ایوارڈ نہ ملنے پر لوگوں کو کافی مایوسی ہوئی تھی لیکن اس سال ملالہ کو ایوارڈ ملنے پر ہمیں بے حد خوشی ہے، بچوں ، بڑوں اور نوجوانوں نے گلی کوچوں میں مٹھائیاں بانٹی اور ان کو خراج تحسین پیش کیا ۔

ملالہ کو عالمی شہرت اس وقت حاصل ہوئی جب سوات کشیدگی کے دوران انہوں نے لڑکیوں کے تعلیم کے لیئے اواز اٹھائے۔ بعد میں 9اکتوب 2012کو ان پر قاتلانہ حملہ ہوا جس میں وہ شدید زخمی ہوگئی ۔ ملالہ سوات میں واحد کمسن لڑکی تھی جس نے طالب ئزیشن کے وقت لڑکیوں کے تعلیم کیلئے اواز اٹھائی۔
ملالہ یوسفزئی 12 جولائی 1997 میں مینگورہ شہر کے محلہ لنڈے کس میں ضیاء الدین یوسفزئی کے ہاں پیدا ہوئی، انہوں نے ابتدائی تعلیم پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کے مرکزی شہر مینگورہ کے خوشحال پبلک سکول میں حاصل کی۔ انہوں نے ساتویں جماعت تک اسی سکول میں تعلیم حاصل کیا ۔
ملالہ یوسفزئی کو دو ساقبل 12 اکتوبر 2012 کو اس وقت سر میں گولی مارکر شدید زخمی کی گئی ، جب وہ سکول سے واپس گھر جارہی تھی ، ان کو سکول وین میں سر میں گولی ماری گئی ، ملالہ کو فوری طبی امداد کیلئے سیدوشریف ہسپتال کے کیجولٹی وارڈ منتقل کیا گیا، جہاں پر حالت تشویشناک ہونے کے بعد ان کو بذریعہ ہیلی کاپٹر پشاور کے سی ایم ایچ ہسپتال منتقل کیا گیا، وہاں پر بھی حالت تشویشناک ہونے کے بعد ان کو سی ایم ایچ راولپنڈی منتقل کیا گیا، وہاں پر ایک ہفتہ وینٹی لیٹر پر رہنے کے بعد بذریعہ ائیر ایمبولینس ملالہ یوسفزئی کو لندن لے جایا گیا۔جہاں وہ لندن کے شہر برمنگھم کے کوئن الیزبتھ ہسپتال میں زیر علاج رہی ۔
سوات میں کشیدگی کے دوران ملالہ یوسفزئی نے لڑکیوں کی تعلیم کیلئے اواز بلند کی ، انہوں نے برقعہ پہننے سے بھی انکار کردیا جبکہ وہ اپنے سکول کو بند کرنے کے بھی خلاف تھی ، یہی وجہ تھی کہ وہ شدت پسندوں کے لسٹ میں ائی ، اور ان کو شدت پسندوں کے جانب سے مسلسل دھمکیاں ملنا شروع ہوئی ،سوات میں سال 2009 میں جب شدت پسندوں کیخلاف کامیاب اپریشن کے بعد امن بحال ہوا تو ملالہ یوسفزئی نے بھر پور انداز میں لڑکیوں کی تعلیم پر زور دیا ، اور لڑکیوں کی تعلیم کیلئے ہر فورم پر اواز اٹھانی شروع کردی ، جس کے بعد 12 اکتوبر 2012 کو شدت پسندوں نے ملالہ یوسفزئی کو نشانہ بنا یا ۔
ملالہ یوسفزئی کے استاد فضل خالق نے کہا کہ ملالہ یوسفزئی کو نوبل پرائز ملنا سوات کیلئے ایک اعزاز ہے جس پر پوری قوم اور اہلیان سوات
فخر محسوس کررہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ ملالہ ایک مشن اور جذبے کا نام ہے وہ اپنے پڑھائی پر بھر پور توجہ دیتی تھی اور کلاس میں پوزیشن لیتی تھی ۔

گلو بل پیس کونسل کے چیئرمین احمد شاہ نے کہا کہ ملالہ یوسفزئی کاسوات کیلئے بہت بڑی قربانیاں ہیں، انہوں نے کشیدگی کے دوران تعلیم کے حق میں اواز بلند کی اور اب وہ لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کیلئے کام کررہی ہے ، انہوں نے کہا کہ ملالہ یوسفزئی کو نوبل پرائز ملنے پر بہت خوشی محسوس کررہے ہیں ۔

ملالہ کے چچا محمو د حسن نے کہا کہ آج ہمارے خاندان میں جشن ہے اور پورا خاندان خوشی سے پھولے نہیں سما رہا، انہوں نے کہا کہ ملالہ یوسفزئی نے نہ صرف سوات ، پاکستان کا نام روشن کیا بلکہ انہوں نے یوسفزئی قوم کا سر بھی فخر سے بلند کیا ہے ۔
ملالہ یوسفزئی کو امن کا نوبل پرائز ملنے کے بعد ان کے سکول میں بھی جشن ہورہا ہے ،ان کے کلا س فیلو نوشین خان کہتی ہے کہ مجھے یقین نہیں ہورہا کہ میرے سہیلی نے اتنا بڑا ایوارڈ جیتا ہے، انہوں نے کہا کہ ہم اللہ کے ہاں دست بدعا کہ وہ ملالہ یوسفزئی کو لمبی عمر اور حوصلہ دیدیں تاکہ وہ اس ملک کے غریب بچیوں کیلئے کام کرے اور وہ بھی تعلیم یافتہ ہو جائیں ۔

اینویٹیو یوتھ فورم کے سربراہ ڈاکٹر جواد خان نے کہا کہ ملالہ یوسفزئی نئی نسل کیلئے مشعل راہ ہے، نوجوان ان کے حوصلہ اورہمت کو دیکھ کر اگے ائیں گے اور تعلیم کیلئے جدوجہد شروع کرکے نئی نسل کو تعلیم یافتہ بنائیں گے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اب سوات کے عوام لڑکیوں کی تعلیم میں رکاوٹ نہیں بنیں گے اور نئی نسل کو تعلیم یافتہ بنائیں گے۔
1,320 total views, no views today



