سوات، وزیراعظم نوازشریف، سابق صدرآصف زرداری، عمران خان اور ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں نے ملالہ کوامن کا نوبل انعام حاصل کرنے پر مبارکباد دی ہے جبکہ پنجاب حکومت نے نئی یونیورسٹی کو سوات کی شہزادی کے نام سے منسوب کرنے کا اعلان کردیا، ملالہ یوسفزئی کونوبل کاامن انعام ملنے پر ارباب اقتدار اور سیاسی رہنماوں کی طرف سے مبارکبادوں کا تانتا بندھ گیا ۔ وزیراعظم نوازشریف نے اپنےپیغام میں کہاہے کہ ملالہ نے قوم کا سر فخر سے بلند کردیا،
انہیں قوم کی بہادر بیٹی پر ناز ہے، سابق صدر آصف زرداری نے بھی ملالہ کے تعلیم کیلئے کردار کو سراہتے ہوئے مبارکباد دی، ایم کیوایم کے سربراہ الطاف حسین کا کہنا تھا کہ ملالہ کو نوبل انعام ملنے سے ثابت ہوگیا کہ پاکستانی قوم اعتدال پسند ، روشن خیال ، ترقی پسند ہے،چودھری نثار،،،عمران خان سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی ملالہ کو مبارکباد دی۔۔اے این پی کے سربراہ اسفندیارولی نےاپنےپیغام میں کہا ہے کہ ملالہ نے پیس ایوارڈحاصل کرکےپشتونوں پرلگےتمام داغ دھودیےہیں،دوسری جانب پنجاب حکومت نے نئی یونیورسٹی ملالہ کے نام سے منسوب کرنے کا اعلان کیا ہے۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے گل مکئی ملالہ یوسفزئی کو نوبل انعام ملنے پر مبارکباد پیش کی، کہتے ہیں ملالہ کی زندگی کاسفرجدوجہداوربہادری پرمبنی ہے،
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر اپنے پیغام میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا کہنا تھا کہ نوبل انعام ملنے پر ملالہ یوسف زئی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، ملالہ کی زندگی کا سفر جدوجہد اور بہادری پر مبنی ہے،، ملالہ نے اپنے حوصلے سے نئی مثال قائم کی،، بھارتی وزیراعظم نے کیلاش ستیارتھی کو بھی نوبل انعام ملنے پر مبارکباد پیش کی، اور کہا کہ پوری قوم کو ان پر فخر ہے، ملالہ یوسف زئی اور کیلاش ستیارتھی کو مشترکہ طور پر امن کا نوبل انعام دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔ ملالہ کو امن کا نوبل انعام دس دسمبر کو اوسلو میں دیا جائے گا۔
پاکستان کی ملالہ یوسفزئی امن کانوبیل انعام لینےوالی خواتین کی فہرست میں شامل ہوگئی ہیں،اس فہرست میں ان کا پندرہویں نمبرہے
امن کانوبیل انعام لینےوالی پہلی خاتون چیک ریپبلک کی برتھا وون سَٹنر تھیں جنہیں انیس سوپانچ میں اس اعزاز سےنوازاگیا،
انیس سوچھہترمیں برطانیہ کی دوخواتین بیٹی ولیمز اورمیریڈکوریگن کوامن کانوبیل انعام دیاگیا،
دوہزارگیارہ میں تین خواتین کومشترکہ طورپرامن کےنوبیل انعام کاحقدارٹہرایاگیا ان خواتین میں لائبیریاکی صدرایلن جونسن سرلیف،، لائبیریاکی ہی امن پسندرہنما لیما گبودی اوریمن کی انسانی حقوق کی تنظیم کی رکن توکل کرمان شامل تھیں،
امن کایہ عالمی انعام لینےوالی خواتین میں ایک قابل ذکرنام مدرٹریسا کابھی ہے،،،جنہوں نےاپنی زندگی غریب اورمفلوک الحال لوگوں کیلئےوقف کردی تھی،
برماکی جمہوریت نوازسیاسی رہنما آنگ سان سوچی بھی نوبیل انعام لینےوالوں کی فہرست میں شامل ہیں،،جنہیں انیس سواکانوےمیں یہ انعام دیاگیا،،لیکن قید میں ہونےکی وجہ سےوہ انعامی تقریب میں شرکت نہیں کرسکی تھی،،انہوں نےاپنایہ انعام اکیس سال کےبعد دوہزاربارہ میں حاصل کیاتھا۔
عالمی امن اور انسانی حقوق کےکیلئے کام کرنے والے کسی بھی شخص یاادارے کیلئے امن کا نوبل انعام حاصل کرناکسی بڑےاعزازسے کم بات نہیں
ہے، ابتک ایک سوایک شخصیات یہ اعزازاپنے نام لکھوا چکےہیں.
انیس سوایک میں اپنی ابتداءسےاب تک ایک سو ایک افرادکوعالمی امن اور انسانی حقوق کے حوالے سے نمایاں خدمات سرانجام دینے پر یہ انعام مِل چکاہے،، لیکن پچیس مواقع ایسےبھی آئےجب کوئی فرداس کااہل ثابت نہ ہوسکا،، اوریہ انعام کسی ادارےیاتنظیم کودےدیا گیا، عالمی ریڈ کراس کوامن کا نوبل انعام انیس سوسترہ،، انیس سوچوالیس اور انیس سو تریسٹھ میں تین بارمِل چکاہے،،، اقوام متحدہ کےذیلی ادارے برائے مہاجرین کودو دفعہ انیس چون اور انیس سواکاسی کویہ ایوارڈدیا گیا،،اس کےعلاوہ اقوام متحدہ،،یونیسیف،،یورپی یونین،، کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کرنےوالی تنظیم آئی اے ای اے بھی امن کا نوبل انعام لینےوالی تنظیموں میں شامل ہیں، امن کےنوبل انعام لینےوالوں میں بھارت کی مدرٹریسا،سویت یونین کےآخری صدرمیخائل گورباچوف،،دلائی لامہ،، سابق صدورنیلسن منڈیلا،،یاسرعرفات،،اور جمی کارٹرکےنام قابل ذکرہیں،موجودہ امریکی صدرباراک اوباما بھی امن کانوبل انعام لینےوالوں کی فہرست میں شامل ہیں۔
www.swatnews.com
404 total views, no views today


