ایک اچھی خبر ہے اور آج (عید قربان سے دو دن قبل) ہی شائع ہوئی ہے۔ وہ یہ کہ سی ایم او خضر حیات شاہ کی ہدایت پر مینگورہ خوڑ کے مختلف مقامات پر صفائی جاری ہے۔
سی ایم او خضر حیات شاہ صاحب کو مینگورہ میونسپل کمیٹی کا چارج سنبھالے ابھی جمعہ، جمعہ آٹھ دن ہی ہوئے ہیں لیکن وہ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ’’صاحب بہادر بچے کا پتہ جھولے میں رونے سے معلوم ہوتا ہے۔‘‘ یقیناًنئے سی ایم او صاحب مینگورہ، سیدو شریف بلکہ میونسپل کمیٹی کی حدود میں صفائی کا خاص خیال رکھیں گے۔ ایک وقت تھا مینگورہ میں جامبیل، اور مرغزار خوڑ اتنا صاف اور شفاف ہوا کرتا تھا کہ بچے اس کے پانی میں نہاتے تھے۔ موسم بہار میں دریائے سوات کی مچھلی گرم پانی کا رخ کرکے مینگورہ خوڑ میں آنکلتی تھی اورمچھلی کا شکار کرنے والے جال کی مدد سے اسے پکڑ لیتے تھے۔ مچھلی پکڑنے کا نظارہ بڑا دل فریب ہوا کرتا تھا۔ چوں کہ یہ خوڑ مینگورہ کے عین درمیان میں سے گزرا ہے۔ اس لیے لڑکے بالے بلکہ بڑے بھی اس شکار کے نظارے سے محظوظ ہوا کرتے تھے۔ اس خوڑ سے ریت نکال کر تعمیراتی کاموں میں استعمال کیا جاتا تھا۔ اب اگر اس خوڑ کی جانب آپ چلے جائیں، تو آپ ناک پر رومال رکھ کر ہی گزریں گے۔ اس کے ارد گرد غلاظت کا ڈھیر بہت دور سے آپ کو دکھائے دے گا۔ پہلے اس خوڑ میں بڑے بڑے پتھر ہوا کرتے تھے۔ پتھر کیا بلکہ چٹانیں ہوا کرتی تھیں۔ اب پتہ نہیں کہ اُس چٹانوں کو زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا۔ خوڑ کے دونوں اطراف میں صدا بہار بڑے بڑے درخت ہوا کرتے تھے۔ خوڑ کے دامن میں بلکہ دونوں اطراف کے کناروں میں سبزے کے بڑے بڑے قطعے ہوا کرتے تھے۔ مینگورہ کے باسی صاف اور شفاف پانی میں کپڑے دھوتے۔ سبزے کے میدانوں میں سورج کی تپش سے انھیں سکھانے کے لیے پھیلایا کرتے تھے۔ اب ہم دوبارہ وہ دن دیکھ تو نہیں سکتے، البتہ اپنے ارد گرد کے ماحول کو صاف اور شفاف رکھ سکتے ہیں۔
پہلے وقتوں میں خوڑ کے پانی کا بہاؤ اتنا تیز ہوا کرتا تھا کہ چھوٹے بچے اُسے پار نہیں کرسکتے تھے بلکہ تاریخ کے اوراق میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ دو ہزار سال پہلے اس میں کشتیاں چلائی جاتی تھیں اور اب ہماری وجہ سے یہ خوڑ گندگی اور غلاظت کا منھ بولتا ثبوت ہے۔ مینگورہ میں نکاسئی آب کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ مینگورہ شہر کا گندہ پانی مینگورہ خوڑ کا رخ کرتا ہے۔ اوپر سے میونسپل کمیٹی کے صفائی کا عملہ مینگورہ شہر کی گلی کوچوں، سڑکوں، بازاروں کا کچرہ اکٹھا کرکے مینگورہ خوڑ اور دریائے سوات میں بہتے پانی میں ڈال دیتا ہے۔ پہلے میونسپل کمیٹی مینگورہ اس کے لیے شہر سے باہر کھلے میدانوں کا انتخاب کرتی تھی اور وہاں کوڑا کرکٹ محفوظ کرلیا جاتا تھا۔ بعد میں اُسے نیلام کیا جاتا تھا۔ کھیتی باڑی سے متعلق لوگ اسے خرید کر اپنے کھیتوں میں زر خیزی کے لیے استعمال کرتے تھے۔ اب تن آسانیاں اتنی زیادہ ہوگئی ہیں کہ میونسپل کمیٹی مینگورہ اس کا برا نہیں مناتی۔ آج نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ مینگورہ خوڑ میں مچھروں کی بھر مار ہوتا ہے اور پلاسٹک کے تھیلے تو اتنے زیادہ ہوتے ہیں کہ آپ یہ سمجھیں گے کہ گویا یہ مینگورہ خوڑ نہیں ہے بلکہ کسی نے گندے پانی میں پلاسٹک کے تھیلوں کی کاشت کی ہے۔
ستم بالائے ستم یہ کہ مینگورہ بازار میں مچھلی فروش، مچھلیوں کا تمام تر گند مینگورہ پولیس اسٹیشن کے قریب پل کے نیچے بڑی ڈھٹائی سے ڈال دیتے ہیں۔ بعد میں اس سے جو بدبو پھیلتی ہے، وہ ناقابل برداشت ہوتی ہے۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ کیا ذمہ دار شہری ایسا ہی کیا کرتے ہیں؟ اس تمام تر عمل کے بعد بھی وہ خود کو ذمہ دار شہری کس طرح گردانتے ہیں؟ اس پر کوئی شرم محسوس نہیں کرتا۔
قارئین کرام! مینگورہ شہر کی ہر گلی کی نالیاں کوڑے کرکٹ اور غلاظت سے اٹی پڑی ہوتی ہیں۔ ہم اپنے گھروں کی صفائی کا خیال رکھتے ہیں لیکن گھر کے دروازے سے باہر اپنی گلی اور نالیوں کو صاف رکھنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔ میونسپل کمیٹی کے خاک روب پابندی سے صفائی کے لیے نہیں آتے یا شاید اُن کے پاس کئی کئی محلے اور گلیاں ہوا کرتی ہیں جس کے لیے وہ نمبر وار صفائی کے لیے آتے ہیں۔
قارئین کرام! کیا ہم اپنے مینگورہ شہر کو صاف اور شفاف نہیں رکھ سکتے؟ کیا شہر کے گندے پانی کی نکاس کے لیے ہمارے ایم این اے، ایم پی اے یاذمہ دار سرکاری سی ایم او کچھ نہیں کرسکتے؟ تاکہ مینگورہ خوڑ کا پانی گندہ نہ ہو اور شہر کا گندا پانی الگ بہہ کر اسے پھر سے صاف کرکے کار آمد بنایا جاسکے۔
898 total views, no views today


