کبھی کبھار ذہن میں یہ سوال اُبھرتا ہے کہ کیا امورِ حکومت و حکم رانی میں مسلمان نالائق لوگ ہیں کہ پوری دنیا میں پھیلے ہوئے پانچ درجن سے زیادہ مسلمانوں کے ممالک میں کسی میں بھی قابل قدر جمہوریت نہیں ہے۔ موجودہ مغربی طریقۂ انتخابات دیانت دار اور با شعور اقوام میں کچھ گزار حال ہے، لیکن اُن اقوام میں صدیوں سے سیاسی یا ذہنی غلامی کا شکار رہی ہوں، جن کی اخلاقی قوتیں کم زور ہوچکی ہوں، وہاں پر مغربی طریقہ ہائے انتخابات عوام دوستی کی جگہ عوام دشمنی کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ترکی کی ہم تعریفیں سنتے ہیں لیکن اُس کا مطالعہ ہم نہ کرسکے ہیں۔ دوسرے مسلمانوں کے ممالک میں بعض میں مطلق العنان بادشاہتیں ہیں، جو اُن مسلمانوں کے ممالک سے بہتر کارکردگی دکھا رہے ہیں جہاں منتخب حکم ران بر سر اقتدار ہیں۔ اگر ہم شک والی بات کہیں، تو وہ یوں ہوگی کہ مسلمان جمہوری آزادی کے تا حال قابل نہیں۔ نہ حکم ران اور نہ کسی حد تک عوام۔ اس شک کو تقویت تب ملتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ ’’جمہوری طریقے‘‘ سے اقتدار میں آنے والے مطلق العنان بن جاتے ہیں۔ اگر وہ ایک سے زیادہ بار ’’منتخب ‘‘ ہوتے ہیں، تو یہ بھی پہلے ہی سے تیار شدہ منصوبے کے تحت ہوتا ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ مغربی حکومتیں صرف اور صرف اپنی مرضی کے مسلمان حکم ران چاہتے ہیں اگر اسّی فی صد عوام کی منتخب کردہ کوئی حکومت یا حکم ران سامنے آجائے، تو وہ مغرب کو نامنظور ہوتا ہے۔ اگر مکمل خود مختار، مطلق العنان، جدی پشتی بادشاہت ہو یا غیر جمہوری طریقے سے قابض حکومت ہو، اگر وہ اہل مغرب کا حاشیہ نشین ہو، تو وہ سب کو عزیز اور قبول ہوتا ہے۔ دورِ حاضر میں بدترین مثال موسیٰ علیہ السلام و فرعون کے ملک کی ہے۔
اپنے ملک کی جمہوری حکم رانوں کی مثال تو اور بھی بدتر ہے۔ آئین 1973ء کو مطلق العنانیت کی شکل میں تدوین کیا گیا ہے۔ یہاں صدرِ مملکت ممنون ہوتا ہے۔ فوجی حکم رانوں (جن کو ہر کوئی گالی دیتا ہے) نے آئین کی اس ستم ظریفی کو دیکھتے ہوئے اس میں آرٹیکل 58(2) کے ساتھ ’’بی‘‘ کا ایک فقرہ بڑھادیا، تاکہ کسی وزیر، وزارت، وزیراعظم، حکومت اور اسی طرح صوبائی سطح پر کسی مشکل کی صورت میں صدر اور گورنر کے پاس یہ اختیارات ہوں کہ وہ اُس وزیر، وزارت، وزیراعظم، وزیراعلیٰ یا اُن کی حکومت کو تبدیل ؍ برطرف کرواکر پر امن طریقے سے دوسری حکومت تشکیل کروائیں۔ پھر جوں ہی نواز حکومت آئی، اُس نے جنرل ضیاء کے بڑھائے ہوئے اس فقرے کو ختم کر وادیا۔ پھر پرویز حکومت نے اسے بہ حال کیا، تو زرداری مہاراج کی حکومت نے اس کو ختم کیا۔ اب ہمارے صدر صاحب صرف ممنون ہی ہیں۔ عالم فاضل مولانا قادری اور مشہور و معروف کپتان عمران خان نے وزیراعظم اور ایک وزیراعلیٰ کے ہٹانے کے لیے اُن کے استعفا تک اسلام آباد میں دھرنے دیئے ہیں۔ تا حال کسی نے بھی استعفا نہیں دیا۔ اگر اُن کا انکار جاری رہے، تو سوائے مارشل لاء کے کوئی بھی اُن کو ہٹا نہیں سکتا۔ اگر ان نام نہاد جمہوری حکومتوں کو حالات کا ادراک ہوتا، اگر ان پر مطلق العنانیت کا شیطانی جذبہ غالب نہ ہوتا، تو وہ آئین سے مذکورہ بالا فقرے کو حذف نہ کرواتے اور صدر کو یہ اختیارات دیتے کہ ملک ملت کے فائدے کی خاطر وہ کسی حکم ران یا حکومت کو تبدیل یا بر طرف کرسکتے ہیں، تو آج یہ حالت پیدا نہ ہوتی۔ مولوی اور کپتان دونوں کے روئیے سے بھی مطلق العنانیت صاف ظاہر ہے۔ سنتے ہیں کہ دھرنوں سے کئی ہزار ارب کا نقصان ہوا۔ چینی صدر یہاں نہ آسکے وغیرہ وغیرہ۔ اگر اس سے ہزار گنا زیادہ کا خسارہ قوم کو ہوا اور یہ دو حضرات استعفا نہ دینے پر ڈٹے رہیں، تو کون ان کو ہٹا سکتا ہے؟ یہ اختیار تو صرف صدر کے پاس ہونا چاہیے تھا۔
جب زمین پر انسانوں کی بد اعمالیاں زیادہ ہوجاتی ہیں، تو کل جہانوں کے مالک کا وضع کردہ مکافاتِ عمل کا اصول متحرک ہوجاتا ہے۔ موجودہ سیلاب نے وطن عزیز کو بہت دور رس نقصانات سے دوچار کیا ہے۔ خزانہ سابقہ اور کچھ موجودہ حکم رانوں نے خالی کردیا ہے۔ اخلاقی اور مالی لحاظ سے کرپٹ قوم کو بیرونی ممالک مزید قرضے دینے سے ہچکچاتے ہیں یا کمر توڑ شرائط سود اور سخت ترین پابندیوں کے ساتھ دیتے ہیں۔ ملک کے اندر بے شمار مادی اور اخلاقی دولت سے نالائق اسلام آباد اورلاہور فائدہ نہیں ا ٹھا سکتے۔ اس لیے وطن عزیز کے باشندے مزید اور سخت ترین مشکلات کا شکار ہوں گے۔
اپنے صوبے میں علماء کی حکومت آئی۔ پھر پختون یاروں کی حکومت بنی، پھر گلی ڈنڈے والوں کی۔ اس طرح اسلام آباد پر تیر اور شیر کی حکم رانی رہی۔ یہ سب حکومتیں ’’جمہوری‘‘ کہلاتی ہیں۔ لفظ عوام بھی استعمال کرتی رہی ہیں لیکن عوام کی بہ راہِ راست فلاح و بہبود کو تو چھوڑیئے یہ ’’منتخب حکومتیں‘‘ پنج سالہ منصوبہ سازی سے منکر رہی ہیں۔ وطن عزیز میں پنج سالہ منصوبے صرف فوجی حکم رانوں نے بنائے ہیں جب کہ بھارت میں گزشتہ تیرہ دہائیوں سے مسلسل پنج سالہ منصوبے زیر عمل ہیں۔
اپنے ’’منتخب حکم رانوں‘‘ سے ہم نے کبھی غریب آدمی کی فلاح و بہبود کا نہیں سنا۔ نہ زراعت کی نظر آنے والی اصلاحات، نہ صنعت، نہ تجارت اور نہ دوسرے شعبوں میں مربوط منصوبہ بندی ہی ہم دیکھ سکے۔ ہمارے صوبے میں ایک بہت ہی پاکیزہ اور مخلص شخص وزیر خزانہ رہا لیکن وہ خزانہ اور منصوبہ بندی میں عمدہ تبدیلیاں نہ لا سکا۔ آج وطن عزیز میں بے روزگاری زوروں پر ہے۔ مہاجرین تقریباً تقریباً ہر پیداواری یونٹ پر قابض ہیں، خود دار مقامی لوگ محروم ہیں۔ ہماری کسی بھی ’’جمہوری‘‘ حکومت کے ساتھ غریب عوام کی فلاح کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ ترقی کا بڑا ذریعہ عمدہ تعلیم ہے۔ اسے چند ٹھیکہ داروں کے حوالے کرکے اس کا بیڑا غرق کیا گیا ہے۔ حکومت کے پاس اس المیے کے خاتمے کا کوئی منصوبہ نہیں۔ نوجوان بے روزگاری اور نا امیدی کے شکار ہیں۔ آبادی بڑھنے کی شرح خطرناک ترین ہے۔ مذہب کو ہر گروہ اپنی مرضی سے استعمال کر رہا ہے۔ وہاں سے بھی عوام کی دنیاوی فلاح و بہبود کی کوئی بات سنائی نہیں دیتی۔ ہم تو صرف دعا کرسکتے ہیں کہ اے رب جب تونے ان حضرات کو حکومت دی، تو ان کے دلوں میں عوام کی تکالیف دور کرنے کا جذبہ اور عمل بھی ڈال دیں۔
778 total views, no views today


