کبل(تحصیل رپورٹر)ناروا جرمانوں اور لائسنسوں کے مد میں غیر قانونی ٹیکسوں کے خلاف تحصیل کبل تاجر برادی کا ایکا،مختلف محکمے تاجربرادری کو تنگ کرنا بند کریں،پولیس نے بھی کیمروں کے آڑ میں دکانداروں کا جینا حرام کردیا،روزانہ کی بنیاد پر بھاری بھر کم جرمانے اور لائسنس فیس کسی بھی صورت برداشت نہیں کرینگے، تحصیل کبل پہلے سے دہشت گردی اور دیگر آفات سے متاثرہ علاقہ ہے تنگ کرنے کے بجائے تاجروں کو بلا سود قرضے دے کر ریلیف دیا جائے،مطالبات تسلیم نہ ہونے پر مکمل شٹر ڈاون ہڑتال ہوگی،آل پارٹیز کانفرنس ، وکلاء برادری سمیت مختلف مکاتب فکر کے افراد پر مشتمل جرگہ طلب کرکے وزیر اعلی ،ڈی سوات،کمشنر ملاکنڈ کو صورتحال سے آگاہ کرنے کے بعد آئندہ کے لئے لائحہ عمل طے کرینگے ان خیالات کا اظہار تاجر رہنما عبد الغفور خان،سلطان روم،تحصیل ناظم حاجی رحمت علی،تحصیل کونسلر عثمان غنی،اقبال،خاندان،ظفر علی ،اقبال حسین اور دیگر نے گذشتہ روز تحصیل ناظم آفس کبل میں تاجر برادری کے ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ حلال فوڈ اتھارٹی،کنزیومر کورٹ،محکمہ صحت ،تحصیل انتظامیہ ،ٹی ایم اے،فوڈ سیفٹی،محکمہ پولیس اور دیگر ادارے الگ الگ آکر تحصیل کبل کے تاجر برادری کو لائسنس فیسوں،غیر قانونی ٹیکسوں اور ناروا اور بھاری جرمانے لگا کر تنگ کررہے ہیں
جو کسی بھی صوت قابل برداشت نہیں انہوں نے کہا کہ بے روزگاری اور مہنگائی کی وجہ سے کاروبار نہ ہونے کے برابر ہیں دکان مالکان ایڈوانس میں لاکھوں کے علاوہ دس ہزار سے تیس ہزار تک کرایہ وصول کررہے ہیں جس کی وجہ سے تاجر شدید مشکلات کا شکار ہیں انہوں نے واضح کیا کہ ہم مناسب طریقہ سے چیکنگ کے خلاف نہیں البتہ کسی ایک محکمہ کو چیکنگ کے اختیارات دئے جائیں تاکہ روزانہ کے بنیاد پر دکاندار ذلیل و خوار سے بچ سکیں انہوں نے مزید کہا کہ کبل پولیس بھی کیمروں کے آڑ میں بند دکانوں کے مالکان کو فون کرکے شناختی کارڈ نمبر طلب کرنے کے بعد پرچے کاٹتے ہیں لہذا کم آمد ن والے دکانداروں کو کیمرہ لگانے سے مستثنیٰ کیا جائے انہوں نے مزید کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر بھاری بھر کم جرمانے اور لائسنس فیس کسی بھی صورت برداشت نہیں کرینگے، تحصیل کبل پہلے سے دہشت گردی اور دیگر آفات سے متاثرہ علاقہ ہے تنگ کرنے کے بجائے تاجروں کو بلا سود قرضے دے کر ریلیف دیا جائے،مطالبات تسلیم نہ ہونے پر تحصیل کبل کے تمام بازاریں بند کرینگے ،آل پارٹیز کانفرنس ، وکلاء برادری سمیت مختلف مکاتب فکر کے افراد پر مشتمل جرگہ طلب کرکے وزیر اعلی ،ڈی سوات،کمشنر ملاکنڈ کو صورتحال سے آگاہ کرنے کے بعد آئندہ کے لئے لائحہ عمل طے کرینگے۔
1,460 total views, no views today



