کبل(تحصیل رپورٹر)سال بیت گئے،حکومتیں تبدیل ہوگئیں،تعیناتیاں اور تبادلے عمل میں لائے گئے ،سول ہسپتال کبل میں خواتین کے الٹراساؤنڈ کیلئے مرد کے بجائے خاتون آپریٹر کا انتظام نہ کرایاجاسکا،اسلامی اور پختون معاشرے کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں،الیکشن کے دنوں میں عوام کے حقوق کے بلند بانگ دعوے کرنے والے مگر مچھوں کی آنکھوں پر پٹیاں بندھی ہوئی ہیں، باپردہ خواتین کی عزت داؤ پر لگ گئی ،متعلقہ اداروں کی معنی خیز خاموشی تفصیلات کے مطابق تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال کبل میں سالوں سے الٹراساؤنڈ کیلئے مرد آپریٹر تعینات ہے جہاں پر افسوس کے ساتھ زیادہ تر خواتین کا ہی الٹراساؤنڈ کیا جاتاہے حالانکہ ہسپتال میں انتہائی قابل اور کوالیفائیڈ فی میل ڈاکٹرز موجود ہیں جو اپنے پرائیویٹ کلینکس میں دھڑا دھڑ الٹرا ساونڈ کراتے رہتے ہیں لیکن کبل ہسپتال میں اسلا می اور پختون معاشرے کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں جس کے فوائد براہ راست پرائیویٹ کلینکس والوں کو مل رہے ہیں کیونکہ باپردہ لوگ مرد ڈاکٹر سے الٹراساونڈ کرانے کے بجائے پرائیویٹ کلینکس کا رخ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں جہاں پر ان کی جیب کا صفایا کیا جاتا ہے لیکن ارباب اختیار خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مختلف مکاتب فکر کے افراد نے کہا کہ غریب اور لاچار مریض پرائیویٹ الٹراساؤنڈ کی فیسیں بھرنے کی طاقت نہ رکھتے ہوئے مجبوراً مرد آپریٹر سے اپنی باعزت خواتین کا الٹراساؤنڈ کرانے پر مجبور ہیں اگر سرکاری اسپتال میں الٹراساؤنڈ نہ کریں تو پرائیویٹ الٹراساؤنڈ اور ٹیسٹ کرنے کے بعد دوائیاں لینے کیلئے پیسے نہیں بچتے عوام کی جان و مال اور عزت کے تحفظ کے دعویدار سیاسی و سماجی شخصیات ، منتخب نمائندوں، ارباب اختیار اور صحت کے گروؤں کی ناک کے نیچے سالوں سے چلتی آرہی اس دیرینہ مسئلے کے حل کیلئے کسی کی زبان بھی نہ بول سکی ان کی تو جیسی زبانوں میں آبلے پڑگئے ہیں عوام الناس نے غم و غصے کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ خواتین کے الٹراساؤنڈ کیلئے خاتون آپریٹر کی تعیناتی فوری طور پر عمل میں لانے سمیت ہسپتال میں تعینات لیڈی ڈاکٹرز کے پرائیویٹ کلینکس میں الٹراساونڈ پر مکمل پابندی لگائی جائے اوریہ سنگین مسئلہ جلد از جلد حل کرایا جائے بصورت دیگر لوگ سخت احتجاج پر مجبور ہونگے ۔
1,300 total views, no views today
Comments



