مینگورہ، سوات کے علاقہ وادی کالام کے مشران نے کالام سڑک اور مٹلتان بجلی منصوبے کی منسوخی کے خلاف صوبائی اور وفاقی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرنے کی دھمکی دے دی۔ وفاقی اور صوبائی حکومت وادی کالام کو پاکستان کاحصہ ہی تسلیم نہیں کررہی، نیا پاکستان بنانے کی دعویدار حکومت پرانا خیبر پختونخوا کی صورت بگاڑ رہے ہیں ، وادی کالام کو تمام حکومتوں نے نظر انداز کیا۔حکمران ہمیں اپنے حقوق کی حصولی کے لئے حکمرانوں کے گریبانوں میں ہاتھ ڈالیں گے۔ وادی کالام کے مشران، ملک غزن خان، ملک امیر سید، ملک محمد زبیر، ملک شہزادہ، ملک عبدالامین، ملک جلاد خان، محمد زیب ،محمد عالم اور دیگر مشران نے اخباری نمائندوں سے مشترکہ بات چیت کے دوران بتایا کہ سیلاب سے تباہ شدہ وادی کالام سڑک چار سال گزرنے کے باوجود تعمیر نہ ہو سکا جس کے باعث روز قیمتی جانوں کا ضیاع معمول بن چکا ہے، انہوں نے گذشتہ روز وادی کالام پشمال کے مقام پر پیش آنے والے حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ، ان کا کہنا تھا کہ کالام سڑک کی خستہ حالی کی وجہ سے اس طرح کے المناک حادثات معمول بن چکا ہے، اوروفاقی و صوبائی حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی، ہمیں ہر صورت نظر انداز کیا جا رہا ہے، اس کے علاوہ انہوں نے مٹلتان بجلی منصوبے کی منسوخی کے خلاف بھی شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ایک طرف تو حکمران بجلی بحران کا رونا رو رہے ہیں اور دوسری طرف بدنیتی اور امتیازی سلوک کی بناء پر اتنا بڑا منصوبہ منسوخ کررہی ہے۔ انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے جلد از جلد کالام شاہراہ پر کام شروع کرنے اور مٹلتان بجلی منسوبے کے لئے فوری طور پر فنڈ منظور کرکے اس پر کام کے آغاز کا مطالبہ کیا، ان کا کہنا تھا کہ وادی کالام کے سڑک کے معیار اوررفتار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے، ہمارے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو گریبانوں سے پکڑیں گے،دونوں منصوبوں پر جلد کام شروع نہ ہوا تو وادی کالام، اتروڑ، مٹلتان اور بحرین سے لاکھوں لوگوں کا سمندر وفاقی اور صوبائی حکومت کے خلاف سراپا احتجاج ہوں گے۔
688 total views, no views today


