مینگورہ، پشاور ہائی کورٹ میں نئے ججوں کی تقرریوں میں امتیازی سلوک اور ملاکنڈڈویژن کو مکمل طور پر نظر انداز اور اپنے منظور نظر افراد کی تقرریاں کرنے کے خلاف پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی اپیل پر بھرپور احتجاج کی کال دی گئی ہے۔ آج بروز منگل وکلاء پشاور ہائی کورٹ مینگورہ بینچ اور ڈسٹرکٹ کورٹس میں عدالتوں سے مکمل بائیکاٹ کریں گے۔ اس سلسلے میں پشاور ہائی کورٹ مینگورہ بینچ میں صدر فضل غفور ایڈوکیٹ کی صدارت میں ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں وکلاء نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اور متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ جس طرح پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے اپیل پر آج جو ہڑتال کیا جاتا ہے آئندہ بھی ان کی ہدایت پر عمل کرکے جدوجہد کریں گے۔ اجلاس سے نعیم الدین ‘بدیع الزمان خان‘ سعید خان ایڈوکیٹس نے بھی خطاب کیا۔ واضح رہے کہ حالیہ ہائی کورٹ کے ججوں کے تقرریوں میں ملاکنڈڈویژن کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔ اور سوات کے ایک ایسے سینئر ترین وکیل جس کی شرافت ‘ذہانت اور دوسرے تمام صفات کے مالک کہ مخالفین بھی ان کے حمایت کرتے ہے عبدالحلیم ایڈوکیٹ ہے ۔ عبدالحلیم ایڈوکیٹ کا شمار خیبر پختونخوا کے چند نامی گرامی اور قابل ترین وکلاء میں شمار ہوتا ہے۔ اور اپنے پروفیشنلزم سے اس طرح سنسےئر اور کوئی نہیں ہے‘ اس منصب کیلئے اس سے بہتر کوئی اور امیدوار ہو ہی نہیں سکتا‘ بلکہ ہمارے ملک کی بدقسمتی ہے کہ یہاں پر ہمیشہ گنگا الٹا بہتا ہے‘ ذہین اور قابل لوگوں کو اس طرح نظر انداز کیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ ذہین اور قابل ترین لوگ یہاں سے بڑے پیمانے پر ہجر ت کرکے دوسرے ممالکوں میں رہائش پذیر ہے۔ اور ان کے قابلیت اور ذہانت سے غیر ملکی افراد فائدے اٹھا رہے ہیں۔ یہاں پر ہمیشہ ہی ہر جگہ پر فیس ولیو چلتا ہے۔ بڑوں کے آشیر باد سے ایسے وکیل کو بھی لیا گیا ہے جس کا کوئی پریکٹس بھی نہیں۔ ملاکنڈ ڈویژن جو سات اضلاع پر مشتمل ہے‘ اور پاکستان کا سب سے بڑا ضلع چترال بھی اس میں آتا ہے۔ اور مقدموں کی تعداد پشاور ہائی کورٹ کے تمام بینچوں سے یہاں پر سب سے زیادہ ہے۔ جو یہاں کے عوام کے ساتھ سراسر ظلم وناانصافی ہے۔ اس لئے اس ناانصافی کو ختم کیا جائے۔
708 total views, no views today


