سوات (سوات نیوزڈاٹ کام )دنیا میں سالانہ ایک کروڑ دس لاکھ جبکہ پاکستان میں پانچ لاکھ دس ہزار مریض ٹی بی سے متاثر ہورہے ہیں جس میں تقریباًسات فیصد لوگ مرجاتے ہیں ، ٹی بی کے عالمی دن کے موقع پر سوات پریس کلب میں ایسو سی ایشن فار کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے زیر اہتمام آگاہی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ضلعی نائب ناظم عبدالجبار خان ، ڈسٹرکٹ ہیلتھ افیسر ڈاکٹر غلام سبحانی ، ڈسٹرکٹ کنٹرول آفیسر ڈاکٹر ظاہر شاہ ، ایکس پی ڈی پی ٹی پی کے پی کے منیجر ایچ ایم ڈی آر ٹی بی کوارڈنیٹر ڈاکٹر لطیف ، ریجنل کوارڈنیٹر ڈاکٹر موسیٰ خان ، ایچ ڈی آر کوارڈ نیٹر ڈاکٹر رفیع اللہ اور فیلڈ سپر وائزر زجواد اور شیر محمد خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹی بی سوفیصد قابل علاج مرض ہے اور عوام کے لئے سوات میں32سنٹر قائم کئے گئے ہیں جس میں مریض آئیں اور اس مرض سے چھٹکارا پائیں ، انہوں نے کہا کہ ایم ڈی آر کے ایک مریض کے علاج پر 10لاکھ روپے کا خرچہ آتا ہے جو کہ بلکل مفت کیا جارہا ہے ، اسلئے عوام کھانسی ، بخار یا بھوک نہ لگنے پر فوری طور پر ان سنٹرز سے رابطہ کریں ، انہوں نے کہا کہ دنیا میں سالانہ ایک کروڑ 10 لاکھ مریضوں میں ٹی بی کی تشخیص ہورہی ہے ، پاکستان میں پانچ لاکھ دس ہزار ، خیبر پختونخوا میں 60ہزار اور سوات میں سالانہ 6ہزار مریض ٹی بی سے متاثر ہورہے ہیں اور سوات میں تین ہزار مریض سنٹروں میں آرہے ہیں اور تین ہزار مریض ٹی بی کی تشخیص اور علاج سے محروم ہے جس کو علاج کرکے ان کو سنٹروں میں لانا ضروری ہے تاکہ ان کا علاج ہوسکے ، انہوں نے کہا کہ 2019ٹی بی کے مرض کے خاتمے کا سال ہے اسلئے ہمیں مل کر گھر گھر میں یہ پیغام پہنچانا چاہیئے کہ لوگ معمولی شکایت کی صورت میں ان سنٹروں کا رُخ کریں تاکہ ہم اس معاشرے سے ٹی بی کے خاتمے میں کامیاب ہوسکیں ، انہوں نے کہا کہ سوات سمیت ملاکنڈ ڈویژن میں ٹی بی کا مفت علاج ہورہا ہے اور اسکے لئے جدید مشین اور آلات موجود ہے ، اسلئے عوام آگاہی مہم میں بھر پور حصہ لیں اور ٹی بی کے خاتمے میں ہمارا ساتھ دیں ۔
1,116 total views, no views today



