سوات (سوات نیوزڈاٹ کام) سوات کے ینگ ڈاکٹر ایسو سی ایشن نے موجودہ حکومت کی ہسپتالوں کو پراویٹائز کرنے کو مسترد کردیا ، سیاسی بورڈ کے تحت کام کرنے سے انکار ، بھر پور احتجاجی تحریک شروع کرنے کی دھمکی ، گذشتہ روز ینگ ڈاکٹرز ایوسی سی ایشن کے صدر ڈاکٹر افتاب انور ، صدر نواز شریف کڈنی ہسپتال ڈاکٹر محبوب ، جنرل سیکرٹری ڈاکٹر منہاس ، انفارمیشن سیکرٹری ڈاکٹر انعام ، ڈاکٹر حیدر شاہ ، ڈاکٹر کریم اور دیگر نے سوات پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ریفارمز کے نام پر ضلعی ہسپتالوں کو پراویٹائز کررہی ہے ،ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی ایکٹ کے تحت ضلعی ہسپتال محکمہ کی بجائے سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے بورڈز کے نیچے کام کریگی ، جس میں ادارہ جاتی پریکٹس کے نام پر مریضوں سے کنسلٹیشن اور سرجری کے ہزاروں روپے چارجز لیگی ، صبح 10روپے کے پرچے والے مریض کو بیڈ اور اپریشن کے لئے مہینوں انتظار کرنا پڑیگا ، لیکن وہی مریض شام کے وقت او پی ڈی میں ہزاروں روپے فیس جمع کرکے اسی وقت بیڈ اور اپریشن کے سہولیات سے مستفید ہوں گے ، انہوں نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں اب صحت سہولیات امیر اور غریب کی بنیاد پر دیئے جائیں گے ، بورڈ کے ممبران حکومت منتخب کریگی جس کے پاس بھرتیوں کا اختیار ہوگا ، اب بھرتیاں پبلک سروس کمیشن کی بجائے سیاسی بورڈ کریگی جس سے اقربا پروری اور میرٹ کا قتل عام ہوگا ، انہوں نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں پراویٹازیشن اور میرٹ کا قتل عام کسی صورت قابل قبول نہیں ، حکومت کا عوام کے ساتھ مفت اور یکساں صحت سہولیات فراہم کرنے کا وعدہ تھا جسے حکومت پورا کریں نہ کہ غریب عوام سے ان کے جینے کا حق چھین لیں ، انہوں نے کہا کہ پاکستان کے آئین کے مطابق مفت صحت اور تعلیم ریاست کی ذمہ داری ہے جبکہ اب حکومت اس مجوزہ قانون کے ذریعے ہسپتالوں کی نجکاری کرکے عوام کو اس بنیادی حق سے محرم کرنے کی سازش کررہی ہے ، جس کو وائی ڈی اے یکسر مسترد کرتی ہے اور اس کے خلاف ہر ممکن حکمت عملی اختیار کرنے پر مجبور ہوگی ، انہوں نے کہا کہ حکومت سے اپیل ہے کہ نئے تجربات کے بجائے موجودہ نظام کے استحکام کے لئے عملی اقدامات کریں ، انہوں نے کہا کہ اگر یہ پالیسی ختم نہ کی گئی تو ینگ ڈاکٹر بھر پور احتجاجی تحریک شروع کریں گے جس کے لائحہ عمل آئندہ اجلاس میں فیصلہ کیا جائیگا ۔
1,434 total views, no views today



