سوات(سوات نیوزڈاٹ کام )فوڈ سیفٹی اور حلال فوڈ اتھارٹی کی جانب سے ملاکنڈ ڈویژن کے تمام اضلاع میں مضر صحت اور ناقص اشیاء فروخت کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی ہر چیز کیلئے قانون، قاعدہ و قواعد اور اخلاقی اقدار مقرر ہیں اسی کو مدنظر رکھ کر غذائی اشیاء فروخت کی جائیں ہم کسی کو بھی کسی بھی شکل میں عوام کی صحت سے کھیلنے کی اجازت نہیں دینگے ان خیالات کا اظہار حلال فوڈ اینڈ سیفٹی اتھارٹی کے ریجنل ڈائریکٹر محمد اسد قاسم، اسسٹنٹ ڈائریکٹر شہاب خان اور تاجر رہنما ڈاکٹر خالد محمود نے پختونخوا ریڈیو کے پروگرام ”رنگونہ د سوات“ میں عوامی صحت کے موضوع پر خصوصی مذاکرہ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ ہمارا ادارہ غذائی صحت کیلئے کمپین چلا رہا ہے ہم بازاروں میں انسپکشن کے علاؤہ سکولوں اور حجروں میں لوگوں سے ملاقاتیں بھی کر رہے ہیں اور ان کو آگاہی دیتے ہیں کیونکہ اکثر لوگ اور دکاندار غذائی اشیاء کے صحت بخش ہونے کی اہمیت سے بے خبر ہیں بس جہاں موقع ملا اور جو چیز اٹھائی بیچ دی اور لوگوں نے بے خبری میں کھا لی لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ اس کا ہماری صحت پر کس طرح منفی یا مثبت اثر پڑ سکتا ہے انہوں نے کہا کہ حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق اشیائے خوردونوش کی فروخت اور کاروبار پر کسی قسم کی پابندی نہیں ہے اور سوات بارے میں اس حوالے سے بھی ہم مہم چلا رہے ہیں ہم مینگورہ شہر کے علاؤہ ضلع بھر کے مختلف علاقوں کا وزٹ کرتے ہیں اور ہوٹلز، ریسٹورنٹ اور بیکریوں میں کام کرنے والوں اور باورچی خانوں کو چیک کرتے پہلے ہم انہیں پوری آگاہی دیتے ہیں اور خوراک کے اسلامی آداب بھی سکھاتے ہیں تاہم مسلسل اور سنگین خلاف ورزیوں پر ایکشن لینا ہماری مجبوری بن جاتی ہے ہم کافی حد تک دکانداروں اور صارفین کو ایک پلیٹ فارم پر لاکر حفظان صحت کے مطابق غذائی اشیاء کی خرید و فروخت پر متفق کر چکے ہیں اور وہ اب قانون کے مطابق کام کرتے ہیں اور صاف و شفاف اشیاء فروخت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ تاجر برادری، ہوٹلز ایسوسی ایشن اور عوام کے تعاون کے بغیر ہمارا کام ادھورا ہے ان کے تعاون سے ہم سب کچھ کریں گے اس موقع پر ڈاکٹر خالد محمود کا کہنا تھا کہ کچھ مجبوریاں ہیں جن کی وجہ سے تاجر و دکاندار برادری کو مشکلات درپیش ہیں جیسے کہ چالان، زیادہ جرمانے اور رجسٹریشن کی فیس کیونکہ سوات کے تاجر بھی متاثرہ لوگ ہیں اتنا بوجھ برداشت نہیں کر سکتے ہم بھی چاہتے ہیں کہ قانون کی بالادستی ہو اور ہر کسی کو مقرر نرخ اور کوالٹی کے مطابق اشیاء ملیں چاہے وہ خوراک کی اشیاء ہوں یا دیگر چیزیں البتہ ہم ہر صورت میں تعاون ضرور کرینگے۔
1,574 total views, no views today



