مکرم ومحترم جناب محمودخان صاحب سلام مسنون!
آپ وزیر علیٰ خیبر پختونخوا ہونے کیساتھ ایک معروف سیاسی وسماجی شخصیت کے مالک ہیں، آپ نہایت تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک با شعور انسان ہیں ، آپ سیاسی لیڈر ہونے کے ساتھ ایک اچھے انسان بھی ہیں، آپ کے سینے میں ایک ایسا دل ہے جو قوم کیلئے دھڑکتا ہے ایک ایسا دماغ ہے جو سماج کی فلاح اور ترقی کیلئے سوچتا ہے ،مظلوموں اور پریشان حال لوگوں کی خبر گیری کرنا آپ کی پہچان ہے، سوات سمیت ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کے لئے جو آپ کی قربانیاں ہیں ان کو بھلایا نہیں جا سکتا ۔آپ کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا،سوات کے لوگ بھی آپ سے بہت محبت کرتے ہیں ان کے دل میں آپ کیلئے بہت عزت واحترام ہے ۔اوران کے لئے اپ امیدوں کی کرن ہوں ۔
جناب والا ۔اپ کو معلوم ہے کہسوات مصیبتوں اور آفتوں سے گزرا ہوا علاقہ ہے ،دہشت گردی جنگ اور دیگرقدرتی افات زلزلہ ہو یا سیلات میں عام شہریوں کیطرح ہماری صحافتی برادری بھی کافی مشکلات سے دوچار رہے ،ہر دور اقتدار میں صحافی بھائیوں کو میڈیا کالونی کی قیام کے نام پر ورغلایا گیا ،حتیٰ کہ سابق صوبائی حکومت بھی اپ کے جماعت کا اقتدار رہا اور اس وقت کے وزیر اعلیٰ جناب پرویز خٹک نے بھی اپ کے موجودگی میں کالونی کے لئے زمین کے نشاندہی اور فوری کاروائی کا اعلان کیا تھا ۔لیکن تاحال سوات میں میڈیا کالونی کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا ۔

جناب والا ۔اپ کے سابق وزیر علیٰ پر ویز خٹک نے اپنے علاقہ نوشہرہ میں پریس کلبکے لئے نیا بلڈنگ کی تعمیر ہونے کے علاوہ میڈیا کالونی کا قیام بھی عمل میں لایا گیا اور باقاعدہ طورپر 1کروڑ3لاکھ روپے فراہم کی جبکہ انڈومینٹ فنڈز یعنی صحافیوں کے فلاح و بہود کے لئے 50لاکھ روپے بھی دیا تھا۔اپ کو یہ بھی یاد ہوگا ۔کہ صحافیوں کے دیرینہ خواب کے شرمندہ تعبیرکیا تھا ۔اور وزیراعلیٰ پرویز خٹک،مشیر اطلاعات مشتاق احمد غنی، سینئر وزیر بلدیات و دیہی ترقی عنایت اللہ خان،وزیرخزانہ مظفر سید اور سیکرٹری اطلاعات ارشد مجیدنے درانی میڈیا کالونی کے تمام واجبات کی ادائیگی کیلئے پشاورڈویلپمنٹ اتھارٹی کو15کروڑ 75لاکھ روپے کی حتمی منظوری دی تھی، ہم سابق وزیر علیٰ کے اس عمل پر ناخوش نہیں بلکہ انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے علاقے میں صحافیوں کا کچھ نہ کچھ خیال رکھا گیا ۔
جناب والا ۔شکوہ ہم سابق وزیر علیٰ اکرم خان دران اور امیر حیدر خان ہوتی سے بھی نہیں کرتے انہوں نے بھی اپنے اپنے دور اقتدار میں بنو ،پشاوردرانی میڈیا اور مردان میں میڈیا کالونیاں عمل میں لائی گئی جبکہ مزید اس میں توسیع اور دیگر ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے ۔انہیں حکومتوں میں ہمیں سبز باغ دکھائی اور کسی نے عملی اقدامات نہیں اٹھائیں۔
جناب والا ۔ہمارا بدقسمتی ہے جب بھی نئے حکمران بر سراقتدار آجاتا ہے اور صحافی برادری میڈیا کالونی کا قیام کا مہم شروع کرتا ہے تو نادیدہ قوتیں حرکت میں آکر صحافیوں کے مابین اختلافات پیدا کرکے ان کے دیرینہ خواب چکنا چورکرتا ہے ،آج بھی وہی قوتیں سازش کرکے اپ جیسے مخلص وزیرعلیٰ کو غلط گائیڈ کرتے رہتے ہیں ۔وہ قوتیں کافی حدتک اپنے مقاصد میں کامیاب نظر آرہی ہے ۔

جناب والا ۔اپ کو یاد ہوگا کہ اکتوبر 2018کو سوات کے صحافیوں کا ایک وفد اپ سے وزیر علیٰ ہاؤس میں ملا اپ صاحبان نے سپاس نامہ سننے سے پہلے کہا کہ اپنے ڈیمانڈ ز سے میڈیا کالونی کا ذکر نہ کریں کیونکہ سوات میڈیا کالونی میرے دل میں لکھی ہوئی ہیں ۔اور یہ منصوبہ ہر حال میں پورا کرکے دکھاؤنگا ۔آفسوس صد آفسوس کہ چھ ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود اپ صاحبان اپنے دل میں لکھی ہوئی وعدے کو تاحال عملی جامہ نہ پہنایاجاسکی ۔
جناب والا۔10سال پہلے اس وقت کے حکمرانوں نے میڈیا کالونی کا اعلان کیا تھا ۔تو اس وقت موصوف کا عمر 52/53سال تھا اور اب میرا عمر 62سال سے گزر رہا ہے ،اس طرح دیگر صحافی بھی اس عمر کے حد عبور کررہے ہیں ہمیں ڈر ہے کہ ہم میڈیا کالونی کا آرمان دل میں لیکر دنیا فانی سے کوچ کر کے چلی جائی ،لہذا ہمیں اس مطالبے میں کو عار محسوس نہیں کرتے کہ سوات میڈیا کالونی کے بجائے سوات میڈیا قبرستان کے لئے اقدامات کریں ۔

جناب والا ۔اگر اجازت ہوں تو میں اپ کو ایک تجویز پیش کرتا ہوں ،اپ کو معلوم ہے کہ ہر مسئلہ کا حل موجود ہے اگر کوئی حل کرنا چاہتاہے۔اپ کے پاس سوات کے صحافیوں کے ناموں کا لسٹ موجود ہیں اپ اس سے بھی استفاد ہ حاصل کرسکتے ہیں ،اور میڈیا کالونی میں ہر صحافی کے نام پر پلاٹ الاٹ کریں ۔اور گرانٹ کا بھی طریقہ کار ہوسکتا ہے ۔وقت کسی کا انتظار نہیں کرسکتا اگر اپ نے اپنے دورہ حکومت میں سوات کے صحافیوں کا یہ دیرینہ مطالبہ اور قربانیوں کا صلہ نہیں دیا تو پھر ہم کسی آور سے کیا شکوہ کرینگے ۔
جناب والا ۔اپ جیسے باضمیر شخص کو اپنا ضمیر اور تاریخ بھی معاوف نہیں کریگا۔ اپنے دل اور ضمیر کے باتیں کھلی خط کے زریعیاگاہ کرکے حق ادا کیا اور اپ سے توقع رکھتے ہے کہ اپ اپنے شان کے مطابق ہمیں اس خط کا اطمنان بخش جواب دینگے اور ہم انتظار کرینگے ۔
فقط
حضرت بلال سینئر صحافی و سابق صدر (ایس یو جے )سوات

2,190 total views, no views today



