شروع اللہ کے پاک نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے اور جو دلوں کے بھید خوب جانتا ہے۔ جمعرات کے روز سوات کے عوام کے نام پر بننے والے نام نہاد قومی جرگہ نے سوات پریس کلب کے کانفرنس ہال میں جرگے کا آغاز کیا۔ جرگہ میں صرف سابقہ خان خوانین کو بلایاگیا تھا جس میں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت سوات کے عوام کو ایک بار پھر تاریکیوں میں دھکیلنے کی ناکام کوشش کی گئی۔ اس جرگے نے صرف اور صرف پاک فوج کو زیر عتاب لایا۔ ان کو سوات میں ہونے والے دہشت گردی کا ذمہ دار ٹھہرایا اور سارا الزام فوج کے سرتھوپ دیا۔ اس جرگے کے ان نام نہاد ارکان میں کوئی مجھے بتا سکتا ہے کہ کیا 2005ء سے 2007ء تک یہاں پر فوج تھی ؟جو دہشت گردی کر رہی تھی۔ فوج تو جولائی 2007ء میں سوات آئی اور وہ بھی یہاں کے عوام کے اصرار اور منتخب شدہ حکومت کے حکم پر جرگے کاپہلے سے پلان شدہ اعلامیہ جاری کیا گیا جو کہ سوات کے بیس لاکھ عوام کے خلاف ایک سازش کے طور پر پیش کیا گیا۔ کوئی مجھے بتاسکتا ہے کہ یہ کس سواتی کی آواز ہے، جو آپ لوگوں نے ہمارے سر تھوپا ہے۔ آپ چند لوگوں کو یہ حق دیا کس نے ہے کہ آپ بیس لاکھ عوام کی نمائندگی کی دعوے داری کر رہے ہیں؟ کیا آپ لوگوں کو سوات کے عوام نے منتخب کیا ہے یا پھر آپ بزعم خویش سوات کے عوام کے نمائندے ہیں؟ اپنے مفادات کے لیے بننے والے اس جرگے کا کوئی فیصلہ یا مطالبہ نہ تو سوات کے عوام کو منظور ہے اور نہ کوئی اس سے متفق ہے اور نہ ہی آپ لوگوں کو ایسا کرنے کا حق حاصل ہے۔
مجھے کہنے دیجیے کہ یہ پختونوں کا وہ ’’جرگہ‘‘ نہیں جو عام لوگوں کی بات کرتا ہے۔ مینگورہ کے چند خان خوانین پر مشتمل یہ جرگہ طالبانائزیشن کے بعد ایک ایجنڈے کے تحت اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے عمل میں آیا۔ میں بار بار ان لوگوں کے مفادات کی بات اس وجہ سے کر رہا ہوں کہ آج تک یہ کوئی ایک میٹنگ بتائیں جو ان لوگوں نے مقامی لوگوں کی فلاح و بہود کے لیے کیا ہو؟ یہاں کی سڑکوں کی ناگفتہ بہ صورت حال، ناروا لوڈشیڈنگ، اسکولوں کی حالت زار اور ان کے علاوہ جو بنیادی مسائل ہیں، کیا آج تک اس حوالے سے ایک بھی میٹنگ ہوئی ہے۔ ان لوگوں نے سوائے اپنے مفادات کے اس نام نہاد جرگہ میں اور کس شے کو مقدم رکھا ہے۔ اس طرح جرگہ کے معززین نے جو اعلامیہ جاری کیا ہے، کیا یہ سوات کے عوام سے پوچھ کر جاری کیا ہے؟ اگر نہیں، تو آپ لوگوں کو اس کا جواب دینا پڑے گا۔ یہ لوگ آج کس منھ سے سوات میں قیام امن کے لیے اپنی قربانیوں اور کردار کا ذکر کر رہے ہیں؟ یہ تو ہم سے پہلے ہی بھاگ گئے تھے۔ میں چیلنج کے ساتھ کہتا ہوں کہ آئیں اور مجھے بتادیں کہ کیا آپریشن کے دوران میں یہ لوگ اس جنت نظیر وادی میں موجود بھی تھے؟ یا یہ ہی بتا دیا جائے کہ ان کی دکانوں، ہوٹلوں یا پھر کاروبارکو کوئی نقصان پہنچا ہے؟ اس کے باوجود بھی ان لوگوں نے یوایس ایڈ سمیت مختلف اداروں سے مراعات لے کر کھلی بندر بانٹ کی ہے۔ اور آج ایک بار پھر ہمارے بیس لاکھ سادہ لوح عوام کی نمائندگی کا ڈھنڈورا پیٹ کر مزید مراعات لینے کی فکر میں ہیں۔
واضح رہے کہ قومی جرگہ میں اے این پی ،پختونخواہ ملی عوامی پارٹی اور گلوبل پیس کونسل کے افراد ہیں۔ گلوبل پیس کونسل وہی این جی او ہے جس کی بنیاد ضیا ء الدین نے اپنے مفادات کے لیے رکھی تھی۔ اس کے ہی پلیٹ فارم سے ضیاء الدین نے اپنی بیٹی کی بلی چڑھائی تھی۔آج وہ کف افسوس مل رہے ہیں اور وہاں پچھتاوے کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ضیاء الدین دیوبندی جو کہ اب ضیاء الدین یوسف زئی بن کر شہرت کی بلندیوں کو چھو رہے ہیں، شہرت اور دولت کے اس پجاری کی اصلیت اب سب پر روز روشن کی طرح عیاں ہے۔یہ وہی شخص ہیجس نے یہاں کی معصوم طالبات کو سیڑھی بنا کر اپنے خوابوں کی تعبیر پائی۔ یہ قانون فطرت ہے کہ جب ایک بندہ شہرت کی اس بلندی پر پہنچ جاتا ہے جس سے آگے کچھ نہیں ہوتا، تو پھر اس کا زوال شروع ہوجاتا ہے۔ اب سمندر پار سے اس نے سوات کی مٹی پلید کرنے اور یہاں کے محسنوں کو بدنام کرنے کی جو سازش کی ہے، اس عمل سے سمجھ لیں کہ اس کا زوال شروع ہوچکا۔ آج ضیا ء الدین کی ایماء پر یہی این جی او (گلوبل پیس کونسل) سوات کے خلا ف ایک اور سازش کر رہی ہے اور مٹھی بھر لوگوں کو جن کی حیثیت آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں، کو سیڑھی بنا کر ایک بار پھر سوات کے امن کو تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ کیا آپ لوگ ایک بار پھر یہاں پر طالبان کو مدعو کر نے جا رہے ہیں؟ کیا کسی اور کو اپنی کسی بچی کو ’’ملالہ پارٹ ٹو‘‘ کے لیے تیار کرنے کا ارادہ ہے ؟ مجھے تو لگ رہا ہے کہ طالبا نائزیشن کے دوسرے فیز میں یہاں پر خانہ جنگی شروع کرنے کی منصوبہ بندی کی جا چکی ہے۔ اس گلوبل پیس کونسل کے موجودہ صدر ’’احمد شاہ صاحب‘‘ تو خود ملالہ یوسف زئی اور ان کے والد بزرگوار کے ’’ترجمان‘‘ بنے بیٹھے ہیں۔ یہاں جتنے پروگرام ہوتے ہیں اس میں ان کی ترجمانی بڑے دھڑلے سے کرتے ہیں۔ ملالہ کو نوبل پرائز ملنے پر سوات کے کسی بھی فرد نے انھیں مبارک باد نہیں دی، سوائے اسی قومی جرگے کے اور ان چند لوگوں نے، جو اُن سے مراعات لیتے ہیں اور انھیں بیرون ممالک کے دوروں پر مدعو کیا جاتا ہے۔ خپل کور آڈیٹوریم میں ملالہ کے پرائز کی خوشی میں منعقد ہونے والے اس پروگرام میں جب سوات کی ایک اہم شخصیت کو تقریر اور ملالہ کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے منت سماجت کی جانے لگی، تو اس نے صاف انکار کیا اور کہا کہ میں اے این پی کے پروگرام میں تقریر نہیں کرسکتا۔
حالیہ ہونے والے جرگے میں وکیل خان کانجو کے وہ الفاظ کے مارے جانے والے امن کمیٹی کے ممبران کے گھروں میں کون گیا ہے، کسی نے پوچھا ہے کہ ان کے گھروں پر کیا گزر رہی ہے، تو کیا آپ نے اخبارات میں ایک ہفتہ قبل مینگورہ فورس کمانڈر کی میٹنگ نہیں دیکھی؟ کیابریگیڈئر محمد عامر کے ان شہدا کے ورثاء کے ساتھ یکجہتی اور ان کے لیے ماہانہ وظیفے کا اعلان نہیں سنا؟ خدا کے لیے کوئی سوات کے سادہ لوگوں کو کیوں آپ گم راہ کر رہے ہیں؟ آپ کے حمایتی ملالہ یوسف زئی کے فنڈ میں تو کروڑوں ڈالر پڑے ہیں اور اس کی بندر بانٹ بھی جاری ہے۔ آپ اس سے رقم کیوں ادا نہیں کرتے۔
امن کے قیام کے لیے آپ لوگوں کی خدمات مجھ سے بہتر اور کون جا نتا ہے۔ جولائی 2009ء میں جب لوگ واپس آگئے اور دسمبر2009ء میں آپ لوگوں کے جرگے کا پہلا اجلاس ہوا۔ اسے کہتے ہیں کارکردگی، یہی ہے آپ کی قربانی؟ پانچ ماہ بعد جب امن بہ حال ہوا،آپ آرام سے واپس آگئے اور ان لوگوں کی خدمت اور امن کے دعوے دار بن گئے۔
آج مجھے دوبارہ غلام فاروق سپین دادا کے وہ الفاظ یا د آ رہے ہیں جب انھوں نے اسی طرح کے ایک اجلاس کے بعد ضیا ء الدین کو کہا کہ تمھاری بیٹی مستقبل میں تمھاری نیک نامی کا باعث نہیں بنے گی۔ٹھیک اسی روز سے ضیاء الدین اور غلام فاروق سپین دا کے درمیان ایک غیر محسوس جنگ جاری ہے۔
حالیہ جرگے کے جتنے اخراجات اٹھائے گئے وہ احمد شاہ صاحب نے گلوبل پیس کونسل کے فنڈ سے دیے۔ اب خیر سے ایک اور سازش کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے مگر شکر ہے کہ کچھ پارٹیوں نے اسے مسترد کردیا۔ ’’اور پلان یہ تھا کہ سوات سے فوج کو نکال باہر کیا جائے۔‘‘
(جاری ہے)
812 total views, no views today


