ملالہ اور اس کے والد نے تو سوات کی مٹی کو پلید کرنے کا پکا پروگرام بنا رکھا ہے۔ پختون اور پاکستانی قوم کو بدنام کرنے کی غرض سے ہی تو اب ان کو نوبل پرائز ملنے والاہے۔ مجھے افسوس صرف اس بات پہ ہو رہا ہے کہ نوبل پرائز میں بھی مغرب اپنے مفادات کے لیے دو نمبری کر رہا ہے۔ اب یہی دو نمبر لوگ ہماری جنت نظیر وادی کے ساتھ ساتھ اس مٹی کے محسنوں کو بدنام کرنے کی سازش کر رہے ہیں اور یہ سوات کے عوام کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ کیوں کہ یہ امن ہمیں خیرات میں نہیں ملا ہے۔ اس کے لیے یہاں کے تین ہزار عوام، پانچ سو پچاس فورسز، ایک سو دو پولیس اہل کاروں، چار صحافیوں سمیت امن کمیٹی ممبران اور سول سوسائٹی کے لوگوں نے قربانیاں دی ہیں۔ شاید یہ آپ لوگوں کی عمر کا تقاضا ہے کہ ٓاپ کو چودہ اگست 2009ء کا وہ تاریخی دن یاد نہیں جب یہاں کے عوام اپنے غموں کو بھلا کر یوم آزادی پاکستان کے ساتھ ساتھ جشن آزادی سوات منا رہے تھے اور عسکریت پسندوں سے غلامی کی نجات کا دن منا رہے تھے۔ آپ نے اے این پی کا وہ جلوس بھی نہیں دیکھا جس میں ڈھول بج رہے تھے۔ آپ کا تعلق اے این پی سے ہوتے ہوئے بھی آپ اس صوبے میں اپنے تین سو کارکنا ن کا خون بھنگڑے ڈالتے ہوئے بھول چکے تھے۔ مجھے حیرانی آپ کی قیادت پر ہو رہی ہے کہ وہ ایک طرف سوات میں امن کی دعوے داری کرتے ہیں۔ صوبے میں اپنی قربانیوں کا ذکر کرتے نہیں تھکتی اور دوسری طرف آپ لوگ سوات کا امن تباہ کرنے پر تلے ہیں۔
اب آتے ہیں نام نہاد قومی جرگہ کے اہم ترین رکن کی جانب جن کی تقریر سن کے مجھے کچھ وقت کے لیے ایسا لگنے لگا کہ یہ بند ہ واقعی سوات کا خیر خواہ ہے اور اس مٹی کی جنگ لڑ رہا ہے لیکن جب میں ماضی کی طرف لوٹ گیا، تو سب ڈرامہ لگا اور اس وقت مجھے ایک شعر یاد آیا
یاد ماضی عذاب ہے یارب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
مجھ میں ایک مصیبت ہے کہ مجھے کچھ یاد نہیں رہتا اور میں اس بات کو اپنی خوش قسمتی بھی سمجھتا ہوں۔ کیوں کہ اگر تلخ باتیں مجھے یاد رہتیں، تو شاید میں پاگل ہوجاتا۔
ویسے جب 2012ء میں اس پر قاتلانہ حملہ ہوا جسے آج تک وہ ’’طالبان‘‘کا نام پر کیش کر رہا ہے اور ہر فور م پر یہ کہتے نہیں تھکتا کہ ’’مجھ پر طالبان نے حملہ کیا تھا۔‘‘ بڑے افسوس کی بات ہے کہ ذاتی رنجش کی بناء پر انھوں نے ایک غیر سرکاری تنظیم کے پانچ اہل کاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کی۔ اس روز سارے معاملے کا پتہ چل گیا۔
وہ روز بھی یاد رکھنے کے لائق ہے جب ملالہ کے پروگرام میں اس کو سپانسر بھیجا گیا اور اس نے سفارت خانے میں خوب منت سماجت کی۔ یہاں تک کہ رچرڈ ہالبروک کے ساتھ اتاری ہوئی تصویر بھی سفارت خانے کے عملے کو دکھائی بنائی ہے مگر ویزا آفیسر نے ’’گڈ پکچر‘‘ کا کہہ کر ویزہ دینے سے معذرت کی۔ اس وقت اس کا چہرہ دیکھنے کے لائق تھا۔ اس کے منھ سے ضیاء الدین کے لیے جو پھول جڑ رہے تھے اس پر فیاض ظفر بھی گواہ ہے۔ بیرون ملک کا ویزہ ان کی تقدیر میں نہیں۔ کیوں کہ جب انگلینڈ کے سفیر نے اس کو میل کیا اور خود اسے انوائٹ کیا اور وہ جب سفارت خانے گئے، تو وہاں پر ویزہ آفیسر نے اس کی تواضع ’’معذرت‘‘ کے پانچ حروف سے کی۔
بڑے بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے
بعد میں جب اسکے بیٹے کو ملالہ فنڈ میں پیرس کے لیے ’’سپانسر‘‘ کیا گیا اور اس کی سب ذمہ داری ضیاء الدین اور ملالہ نے لی، تو آج وہ صاحب پھولے نہیں سما رہے ہیں اور وہ ضیا ء اور ملالہ کے گن گاتے نہیں تک رہے ہیں۔ خیر، یہ تو سب مفادات کی جنگ ہے اور اس میں جو ’’جیتا وہی سکندر۔‘‘ ہاں، میں ویسے بھی طالبان کی جانب سے ہرجانے اور پرائیویٹ استغاثہ کے کل تیئس کیس نمٹا رہا ہوں۔ ایک کیس آپ بھی دائر کردیں لیکن آپ نے اس مٹی کو پلید نہ کریں، اس کو کوئی بھی محب وطن برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ خدا کے لیے غیروں کے اشاروں پر ناچنا چھوڑ کر اس دہشت گردی اور سیلاب کے ستائے ہوئے عوام کی فکر کریں۔ میں یہ کہتے ہوئے حق بہ جانب ہوں کہ انھی فورسز کی بہ دولت آج سوات میں سو فی صد امن ہے اور یہاں کے لوگ خوش ہیں۔ اگر آپ لوگ خفا ہیں۔ اس پرامن علاقہ میں ناراض ہیں، تو آپ پر کسی کا زور تھوڑی ہے۔ آپ لوگ یہاں سے بے شک چلے جائیں۔ ویسے بھی آپ لوگوں کو بیرون ممالک جانے کا بڑا شوق ہے اور اب تو آپ کا ضیاء الدین بہت بڑا آدمی بن گیا ہے۔ ان ممالک میں چلے جائیں لیکن وہاں جاکر ضیاء الدین کی طرح اس مٹی اوراس کے لوگوں کو گالیاں نہ دیں۔
ہم اہل سوات یہاں خوش ہیں۔ خدارا، ہمارے پر امن علاقہ کو ایک بار پھر بد امنی کا گڑھ مت بنائیں۔ آپ تو ماشاء اللہ سرکاری خزانے پر کتنا بوجھ بنے بیٹھے ہیں۔ اس وقت چھے پولیس اہل کار جن کی ماہانہ تن خواہ ایک لاکھ اٹاسٹھ ہزار روپیہ بنتی ہے اور اب دو اہل کار جن کی ماہانہ تن خواہ چھپن ہزار روپیہ بنتی ہے، کیا یہ اس قوم کا اس قوم کا روپیہ نہیں ہے؟
ایک ایشو چیک پوسٹوں کا اٹھایا گیا ہے۔ یہی کوئی تین چار روز پیشتر جب درگئی چیک پوسٹ پر بارود سے بھری گاڑی پکڑی گئی تھی، تو اگر یہ چیک پوسٹ نہ ہوتا، تو کتنی بڑی تباہی مچ جاتی۔ یہاں پرپاک فوج کے اپریشنل انچارج میجر جنرل سے اپیل ہے کہ وہ چیک پوسٹوں پر پاک فوج کے با اخلاق عملہ کو تعینات کریں اور انکو اس کی خصوصی تربیت دے کہ وہ عام لوگوں کے ساتھ شرافت سے پیش ائیں کیونکہ اس سلسلے میں مقامی لوگوں سمیت سیاح بھی پر شکوہ ہے ، اور ہاںآپ حضرات شاید اخبارات یا ٹی وی چینل نہیں دیکھا کرتے۔ اسی چیک پوسٹ پر عسکریت پسندوں کو پکڑا جا رہا ہے۔ اس پر ٹارگٹ کلرز کو پکڑا جا رہا ہے۔ آپ لوگ اس سے بے خبر ہیں۔ آپ لوگ کہتے ہیں کہ آرمی کے لوگ ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہیں، تو کیا آپ کو میلہ ڈاک سے پکڑے گئے وہ تین دہشت گرد یاد نہیں، جب وہ کسی کو ٹارگٹ کرنے آرہے تھے۔ جب پکڑے گئے تو ان میں ایک افغانی بھی تھا۔ انھوں نے اعتراف بھی کیا کہ انھوں نے فضاگٹ میں ایک پروفیسر کے گھر پر دستی بم سے حملہ بھی کیا تھا۔ آپ لوگ تو گھوڑے بیچ کر سو جاتے ہیں لیکن شدید سردی اور گرمی میں ان جوانوں کی اڑتی نیندوں کی آپ کو کیا پروا؟
(جاری ہے)
736 total views, no views today


