کہا جاتا ہے کہ اسم کا مسمی پر اثر ہوتا ہے مگر تخلص یا کنیت کے بارے میں ابھی تک نہیں سنا کہ اس کا کسی شاعر و ادیب کی زندگی پر کتنا اثر ہوتا ہے، تاہم شاعر شاذ اللہ اسیرؔ کے تخلص کے بارے میں اگربات کی جائے، تو یہ اپنے تخلص کے بالکل متضاد یا الٹ ہیں جس کا اعتراف انھوں نے نہ صرف اپنے تازہ شائع ہونے والے شعری مجموعہ ’’سڑیکی مے سندرے کڑے‘‘ میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کیا ہے بلکہ ان کے اشعار سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ وہ ’’اسیر‘‘ نہیں بلکہ آزاداور باغی ذہن کے مالک ہیں۔ شاذ اللہ اسیر صاحب اپنی کتاب کے صفحہ نمبر ایک پر ’’یو سو خبرے د لوستونکو پہ نوم ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ’’ڈیرو سرکاری او نیم سرکاری اداروں کے مِ ملازمت کڑے دے خو غلام ذہن نہ لرم نو یوہ م ھم سر تہ نہ دہ رسولے۔ ‘‘ کتاب پر دوسرے شعراء و ادباء کی طرف سے سریزہ اور دیباچہ کی روایت سے شدید اختلاف رکھتے ہوئے اپنے باغیانہ ذہن کا اظہار اس طرح کرتے ہیں کہ ’’د ازل نہ پہ ادبی دنیا کے دا روایت راروان دے چہ کوم شاعر او ادیب ورور خپل منظوم یا نثری مواد چاپ کول غواڑی ، نو اول پرے د چا ستر شاعر ادیب نہ لیکل کوی چہ د ھغہ د فن تلہ پرے درنہ شی۔‘‘ اور یہی وجہ ہے کہ موصوف نے اپنی دوسری کتاب پر بھی کسی شاعر و ادیب کی کچھ لکھنے کی روایت سے بغاوت کی ہے۔ کتابوں پر تبصرے، تجزئے اور دیباچے لکھنے والوں کے بارے میں بھی ارشاد فرماتے ہیں کہ وہ کتاب کو توجہ سے پڑھنے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ اپنی تحریروں میں مصنف سے زیادہ اپنی تعریف رقم کر دیتے ہیں۔ اس وجہ سے وہ کتاب پر اس قسم کے تبصروں کے بھی مخالف ہیں۔ خیر، یہ تو اسیرؔ صاحب کی اپنی رائے ہے مگر ان حوالوں سے ان کے اسیر ہونے سے زیادہ باغی ہونے کا ذکر مقصود تھا۔ پشتو کی کہاوت ہے کہ ’’مڑے اول خاندی نہ او چہ خاندی نو کفن شلوی‘‘ یہ کہاوت اسیرؔ صاحب پر اس لیے پورا اترتی ہے کہ انھوں نے اپنی چونسٹھ سالہ زندگی میں پہلے کتاب کو شائع کرنے کی کوشش نہیں کی اور 2013ء میں پہلے شعری مجموعہ کی اشاعت کے بعد 2014ء میں اب دوسرا شعری مجموعہ شائع کیا ہے۔ تیسری کتاب کی کتابت بھی بہ قول ان کے آخری مراحل میں ہے۔ موصوف کی پہلی کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے میں نے اس میں موصوف کے تعارف کی کمی کا ذکر کیا تھا جسے انھوں نے اس کتاب میں پورا کرکے اپنا مختصر تعارف بھی شامل کیا ہے۔ کتاب میں مٹکنئی ملاکنڈ ایجنسی کے نوجوان شاعر مستجاب شاہیؔ کی ایک مختصر نظم بہ عنوان ’’ د ھر چا خپلہ خوخہ ‘‘بھی شامل ہے جس میں شاہیؔ نے شاذ اللہ اسیرؔ کومنظوم کلام میں خراج عقیدت پیش کرکے انھیں حمزۂ ثانی قرار دیا ہے۔ کتاب میں شامل تصوف کے اشعار کو اگر ملاحظہ کیا جائے، تو مستجاب شاہیؔ کے دعویٰ میں کوئی مبالغہ نہیں ہے۔ صوفی ازم میں وحدت الوجود کے نظریہ کا یہ شعر ملاحظہ کریں تا وے چہ یو یوُ دا خبرہ م دے اومنلہ موندلے تہ بہ م کہ ڈیر لٹون د ؤان م اوکڑو اسیرؔ جو کہ استاد شاعر ہیں اور شعر کے رموز و آداب سے بہ خوبی واقف ہیں، اس لیے کتاب میں شامل ان کی غزلوں کو ہر عمر کے لوگ اپنی آواز سمجھتے ہیں۔ شاعر کا کمال یہ ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی بات کو رمز و کنایہ میں بیان کرکے اپنے دل کی بھڑاس بھی نکال لیتے ہیں اور دوسروں کے احساسات کو بھی مجروح ہونے نہیں دیتے۔ اس قسم کے اشعار کو ادبی اصطلاح میں واقعاتی شاعری یا شعر کہا جاتا ہے۔ اسیرؔ صاحب کا یہ شعر بھی کسی خاص واقعہ کی طرف اشارہ کرتا ہے حرام ! د تشے خلے کہ م غمونو تہ ست کڑے دا أنے میلمانہ گورہ د ۂانہ پاتے کیگی موصوف کی تشبیہات کی جدت کا اندازہ اس شعر سے لگایا جاسکتا ہے جس میں موصوف نے’’ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے‘‘کے پیغام کو کس خوب صورت انداز میں پیش کیا ہے وئی کتاب د مینی ’’پٹے سترگے جنتی دے‘‘ قتل چی ارمان شی د قاتل زڑہ کے دفن شی راز کو ہیرے سے تشبیہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ راز چہ د زڑہ پردو کے تنگ شی ژبہ اوتخنوی لکہ صدف غاڑے لہ راشی ترے ہیرہ رااوؤی موصوف کے کلام میں رومانیت، تصوف، سیاست، معیشت کے ساتھ ساتھ اصلاحی پہلو بھی موجود ہے۔ کسی بھی تقریب میں بن بلائے مہمان بن جانے کو انتہائی برا فعل قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں زڑگیہ تو یواأے نہ ئے چہ دے ہتک اوشو چہ بے بلنے ۂی محفل تہ ھغہ سپک داسے وی سوات شانگلہ کے بزرگ صوفی شاعر حافظ الپورئی باباجی نے اگر اپنے لوگوں سے شکوہ کرتے ہوئے یہ شعر باز پہ ژالہ کے چا نہ دے پیژندلے قدر نیشتہ د حافظ پہ الپورئی کے کہا تھا تو اسیر صاحب اپنے معاشرہ سے کچھ اس انداز میں شکوہ طراز بھی ہیں اور اس میں شاعرانہ تعلی بھی موجود ہے ہر یو کردار د افلاطون م ورتہ اولوبوو خو کاش! چہ دے معاشرے رالہ مقام را نہ کڑو اردو کے اس مشہور شعر یاد ماضی عذاب ہے یاروں چھین لے مجھ سے حافظہ میرا کے خیال کو اس انداز میں بیان کیا ہے کہ د ژوند کتاب کے اوڑیدلے پانڑے لولم ژاڑم د ماضی بُت چہ آئینے تہ م د حال راویستو اور پشتو کے اس مشہور شعر د زڑگی چہ وینہ اوسسوم بیت شی زمانے زما نقصان تہ خو خیال اوکڑہ کو اس انداز میں پیش کرتے ہیں کہ فن چہ د زڑہ پہ وینو رنگ شی ژوند ہلہ بیا مومی لکہ شہید پہ خپلو وینو کے رُتبہ بیا مومی موجودہ دور میں یہ بات بھی شدت سے محسوس کی جاتی ہے کہ جس کو آپ نے سہارا دیا، اٹھانے کا حوصلہ دیا اور اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کا گر سیکھایا، تو وہی شخص سنبھل کر آپ کے ہی پاؤں کھینچتا ہے۔ اس خیال کو شعر میں ملاحظہ کریں نورد گونگیانو پہ مکتب کے چاتہ درس نہ کڑم اول ئے ما پسے راسپڑی چہ سوک خلہ بیامومی شاذ اللہ اسیرؔ کی اس کتاب میں بھی پہلی کتاب کی طرح خوب صورت شاعری موجود ہے اور ہر شعر کا اگر بہ غور مطالعہ کیا جائے، تو اس میں قارئین کے ذہن کی تسکین کے لیے بہت کچھ مل سکتا ہے، مگر آخر میں یہ عرض کرتا چلوں کہ پشتو کے نئی رسم الخط (نوے املا) نے بہت سے شعرا ء کے غلط قافیوں کو طشت از بام کیا اور خصوصاً ہمارے ملاکنڈ کے شعراء کے کلام میں تو بڑی ’’ے‘‘جس کو تذکیر یا مذکر’’ے‘‘ کا نام دیا گیا ہے اور مؤنث یا تانیث ’’ی‘‘ جس میں چھوٹی ’’ی ‘‘ کے نیچے دو نقطے دیے گئے ہیں کو تو پہنچانا بڑا مشکل ہوگیا ہے۔ کیوں کہ ہم اکثر ان دونوں کو ایک ہی طریقے سے ادا کرتے ہیں۔ اس وجہ سے ہمارے اس ’’ے‘‘ پر بہت سے کلاموں میں اکثر قافیے غلط ہو جاتے ہیں جیسا کہ شاذاللہ اسیرؔ کی اس کتاب میں بھی ایک غزل میں نزدی، ازغے، پوٹے، سڑے، پردے، شے، شپی اور خزانی کو ہم قافیہ استعمال کیا گیا ہے مگر اس میں نزدی، شپی اور خزانی ہم قافیہ نہیں ہیں۔ اس طرح دوسری غزل میں بھی ایری، ذری، معنی، زمانی کو، لیونے، ژوندے، سڑے اور میخ بندے کے ساتھ قافیہ میں استعمال کیا گیا ہے جوکہ علم قافیہ کی روکے خلاف ہے۔ اس لیے ملاکنڈ کے شعراء کو کم از کم اس قافیہ اور نئی رسم الخط کی سمجھنے کی شدیدضرورت ہے۔
1,905 total views, no views today


