صوبائی حکومت کے زیر انتظام جیلوں میں قیدیوں کے لیے روزانہ خوراک کی مد میں تین روپیہ بیالیس پیسے جب کہ جیل کے نگران ملازمین کے لیے نو روپیہ یومیہ مختص ہیں۔ یہ قابل افسوس خبر کئی ایک سرکاری غفلتوں کی طرف نشان دہی کرتا ہے۔ یہ درست ہے کہ قیدی عموماً ثابت شدہ مجرم ہوتے ہیں۔ یہ کسی نہ کسی شدید نوعیت کے جرم میں سزا یافتہ ہوتے ہیں، لیکن بہ حیثیت انسان یہ لوگ بھی بہتر سلوک کے مستحق ہوتے ہیں۔ خاص کر اس حوالے سے بھی کہ حکومت ہی ان کے تمام امور کی نگران ہوتی ہے اور دین اسلام احسان کا مطالبہ کرتا ہے۔ جیلوں کا موجودہ نظام بھی انگریزوں کا وضع کردہ ہے اور انگریزوں کے زمانے میں زیادہ تر قیدی حکومت مخالف و آزادی پسند ہندوستانی ہوا کرتے تھے جن کی صحت اور عزت نفس دونوں کو کم زور کروانا حکومت کی ترجیح ہوا کرتی تھی۔ کافی عرصہ تک قیدیوں پر آگ کی پکی اشیاء کھانا ممنوع تھا۔ ایک جانور کی سطح کی خوراک اُن کو دی جاتی تھی۔ جیل کے اندر قیدیوں کو مشقت کرکے اپنی روزی روٹی خود پیدا کرنا پڑتی تھی۔ چکی پسوانا، کھڈیوں پر کپڑے بنوانا اُس محنت مزدوری کی یادگاریں ہیں۔ شاید آج بھی محنت اور بیگار قیدی کی زندگی کا حصہ ہوں۔ ہماری یہ مراد نہیں کہ قیدیوں کو بہت اچھا کھانا اور رہائش میسر ہو، کیوں کہ مجرم مجرم ہوتے ہیں۔ اُن کو اُن کے کیے کی سزائیں دی جاتی ہیں، پیار نہیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ہر چیز اور ہر معاملے پر مؤثر نظر رکھنا بھی حکم رانوں اور عمال حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اب موجود خبر ہی کو مثال بناکر سوچیے کہ آج کل کے مہنگائی کے دور میں تین روپیہ بیالیس پیسے یومیہ سے جیل حکام قیدیوں کو گھاس بھی فراہم نہیں کرسکتے۔ اس طرح جیل کے اہل کاروں کا نو روپیہ یومیہ معاش سے آدھی پیالی بازاری چائے بھی نہیں خریدی جاسکتی۔ حکومت کی تحویل میں دہشت گردی کے الزام میں پڑے ہوئے بے شمار قیدیوں کے بارے میں کبھی کبھار اخبارات میں خبریں آتی ہیں کہ اُن میں سے کچھ دوران حراست مرگئے۔ چند روز قبل عدالت عالیہ نے بھی اس کا نوٹس لیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ ایسے مرحومین کا پوسٹ مارٹم ضرور ہو تاکہ موت کے سبب کا پتہ چلے۔ عین ممکن ہے کہ دہشت گردی کے الزام میں گرفتار سب کے سب افراد مجرم نہ ہوں۔ جیسا کہ لوگ اکثر زبانی طور پر کہتے رہتے ہیں کہ فلاں بے گناہ گرفتار ہے، وہ شریف آدمی ہے۔ ممکن ہے کہ زیر حراست ملزمان میں سے بعض حساس کم خوراک، بے یقینی، نا امیدی اور مایوسی کی وجہ سے موت کا شکار ہوتے ہوں۔ ان اموات کی ذمہ داری بہ ہر حال حکم رانوں ہی پر آتی ہے کہ وہ اپنے فضول اور بے مقصد کاموں میں مصروف ہوتے ہیں اور اس اہم اور حقوق انسانی کے معاملہ پر چشم پوشی کررہے ہیں۔ علاقے میں موجود دہشت گردی کی وجہ اس علاقے کے ممالک کے حکم رانوں کی نا اہلی اور نالائقی ہی ہے۔ اگر واقعی دہشت گردی کے واقعات میں مذہبی لوگ ملوث ہیں، تو یہ بھی حکم رانوں ہی کی وجہ سے ہے، جو یہ نہ دیکھ سکے اور نہ یہ محسوس کرسکے کہ مذہب کو کون کس مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اگر یہ غیر مقامی اور بین الاقوامی کھیل ہے، توبھی اس کھیل میں حصہ دار بننے کی ذمہ داری حکم رانوں ہی پر آتی ہے۔ اگر یہ بین الاقوامی مفادات کا معاملہ ہے، تو پھر بھی حکم ران ہی اس کو بہتر محسوس کرنے والے تھے۔ انھوں نے حقیقت کو بروقت محسوس نہ کیا اور وطن عزیز کو دہشت گردی کا شکار بنوایا۔ سوات سمیت دوسرے علاقوں سے مسلح افواج نے مختلف ملزمان کو حراست میں لے لیا، یہ اُن کی ذمہ داری تھی کہ مشکوک افراد کو قابو کریں۔ تب انھوں نے ایسا ہی کیا اور مبینہ طور پر بہت سارے افراد کو حراست میں رکھا۔ انھوں نے وہ کام کیا جو اُسے تفویض کیا گیا تھا۔ اب ذمہ داری سویلین حکومت اور انتظامیہ کی تھی کہ دونوں ان زیر حراست افراد کو باقاعدہ طور پر چارج شیٹ کرتیں۔ اُن کے چالان بناکر مجسٹریٹ اور عدالت کے روبہ رو پیش کیا جاتا۔ جو بے گناہ ہوتے اُن کو چھوڑ دیا جاتا، جو کسی جرم کے مرتکب ثابت ہوتے اُن کو قانون کے مطابق سزا دلوائی جاتی۔ بہ ظاہر ایسا نہ کیا گیا۔ البتہ حالات سے ثابت ہوا کہ حکومت اس معاملے میں متحرک تھی۔ غالباً کچھ قانونی رکاؤٹیں موجود تھیں، اس لیے حکومت نے صدرِ مملکت سے ایک ریگولیشن جاری کروایا تاکہ پاٹا اور فاٹا کی آئینی حیثیت کے پیش نظر کارروائی ہو۔ اس ریگولیشن کے مطابق زیرحراست ملزمان کے خلاف مقدموں کے چلانے کی ہم نے کوئی خبر پڑھی اور نہ کسی سے سنا اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قیدیوں کی رکھوالی کا بوجھ آج بھی فوج کے کاندھوں پر رکھا گیا ہے۔ سویلین لوگوں کو اپنی حراست میں رکھنا شاید فوج کی ذمہ داریوں میں نہ آتا ہوگا اور فوج کے بجٹ میں ان پر اخراجات کرنے کے لیے رقوم بھی نہ ہوں گی۔ پھر یہ لوگ ابھی قیدیوں کی تعریف میں بھی شاید نہ آتے ہوں گے، معلوم نہیں فوج پر مالی دباؤ کم کرنے کا صوبائی حکومت کچھ کرتی ہے کہ نہیں۔ اگر چہ کسی ریگولیشن کو اسمبلی میں لانے اور اُسے منظور کروانے کی شرط موجود نہیں جیسا کہ صدر یا گورنر کی جاری کردہ آرڈی نینس کے لیے موجود ہے۔ اس لیے ریگولیشن ایک قسم کا غیر جمہوری عمل ہے۔ کافی لمبا عرصہ گزر گیا ہے لیکن نہ تو ریگولیشن بہ ذاتِ خود اور نہ اس کا کوئی متبادل قانون کا صوبائی اسمبلی میں قومی اسمبلی میں لانا اور منظور کرنا ہم نے سنا ہے۔ اب ایک قیدی کے لیے تین روپے بیا لیس پیسے اور جیل اہل کاروں کے لیے نو روپیہ یومیہ والی خبر، حکم رانوں کی غفلت بلکہ جرم کی نشان دہی کرتا ہے۔ کیا ہی اچھا ہوگا کہ خٹک سرکار اورنواز سرکار موجودہ نورا کشتی چھوڑ کر زیر حراست پاکستانی شہریوں کی صورت حال، فوج پر غیر ضروری دباؤ، قیدیوں اور اُن کے رکھوالوں کی مشکلات اور دوسرے بہت سارے مسائل پر توجہ دیں۔ ہماری توجہ عمران خان نے قومی اسمبلی کے انتخابات میں دھاندلی کی طرف موڑ دی، لیکن صوبائی انتخابات بھی فرشتوں نے کروائے اورنہ ان کے تحت بننے والی صوبائی حکومت نے عمدہ قانون سازی کی طرف تا حال مؤثر توجہ دی ہے، جس کی بڑی ضرورت ہے۔
1,208 total views, no views today


