جب مدین اور بائی پاس روڈ پر دو جوانوں کے سر کاٹے گئے اور عوام ایک بار پھر تشویش کا شکار ہوگئے کہ کیا طالبان واپس آگئے ہیں، تو یہ ڈی پی او سوات شیر اکبر خان ہی تھے جن کی کوششوں سے تین گھنٹوں میں ملزمان پکڑے گئے۔ کیا بائی پاس روڈ کے واقعے میں ملوث ملزمان میں ایک سابق طالب نہیں تھا؟ خیر آپ تو کہیں گئے کہ نہیں۔ اب آپ ضیاء کی مدد سے یہاں سے چلے جائیں گے، لیکن احمد شاہ صاحب سے پوچھ لیں کہ ان باضمیر ممالک میں چیکنگ کے نام پر لوگوں کے جوتے اور بوٹ تک اتارے جاتے ہیں۔ آپ لوگ اس کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھاتے؟ سوات کے بیس لاکھ عوام مرکزی و صوبائی حکومت ،انتظامیہ اور تمام سیاسی پارٹیوں کے قائدین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سوات میں ایک بڑی کانفرنس منعقد کرکے اس نام نہاد جرگے کے خلاف ایک حقیقی جرگہ بنائیں،جس میں ہر طبقے کی نمائندگی ہو اور اس میں ان مٹھی بھر ’’خان خوانین‘‘ پر پابندی لگائی جائے۔ اور ہاں اس جرگے کا باقاعدہ سے ایک تحریری اسکرپٹ بھیجوایا گیا تھا لیکن یہ تو شکر ہے کہ اس جرگے میں قومی وطن پارٹی کے ضلعی صدر شیر بہادر خان اور اے این پی کے سابق صوبائی وزیر واجد علی خان موجود تھے کہ انھوں نے بھجوائے گئے اس اسکرپٹ کی مخالفت کی اور اس میں ترامیم کیں، ورنہ ایک نیا ایشو ابھر کر سامنے آتا، لیکن افسوس اور تعجب اس بات پہ ہورہا ہے کہ یہ اسکرپٹ بھیجوایا کس نے تھا اور اس کے پیچھے مقاصد کیا ہے؟ جو لوگ اس کو سواتی عوام اور سیاسی جماعتوں کا جرگہ کہتے ہیں، ان سے بھی ایک سوال ہے کہ اس جرگے میں پاکستان مسلم لیگ، جماعت اسلامی، جمیعت علمائے اسلام، پاکستان تحریک انصاف، تاجر برادری، وکلاء، طلبہ یا ان شہید ہونے والے وی ڈی سیز،پولیس اہل کاروں یا کسی اور فرد کی نمائندگی کون کر رہا تھا؟ کیا ان لوگوں کی حمایت حاصل ہے اس جرگہ کو ؟ اے این پی کے سابق صوبائی وزیر واجد علی خان کا کہنا ہے کہ فوج کی موجودگی یا نکالنے کے لیے ایک کمیٹی کام کرتی ہے جس کے ممبران میں وزیر اعلیٰ، گورنر، کورکمانڈر اور دیگر اعلیٰ حکام شامل ہوتے ہیں اور یہی لوگ اپنے انٹیلی جنس کی رپورٹ کو دیکھتے ہوئے اس کا فیصلہ کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہاں پر قربانیوں سے قائم ہونے والے امن پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی ہم چھاؤنی کے مخالف ہیں۔ چھاؤنی کے قیام سے سوات میں ترقی کا نیا دور شروع ہوگا۔ قومی وطن پارٹی کے ڈویژنل صدر فضل رحمان نونونے اپنی پارٹی کا مؤقف بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوات میں اس وقت فوج کی سخت ضرورت ہے۔ کیوں کہ ہم قربانیوں سے حاصل ہونے والے امن کو دوبارہ کھونا نہیں چاہتے۔ یہاں پر فوج نے امن کے لیے جو قربانیاں پیش کی ہیں اور جو اہل کار شہید ہوئے ہیں، ہم اس پر ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ سول انتظامیہ کو مضبوط کیا جائے، تاکہ یہ اپنا کام کرے۔ کیوں کہ جہاں لوگ جلوس نکالتے ہیں، انتظامی آفیسر کے نہ جانے کی وجہ سے وہاں آرمی آفیسر چلا جاتا ہے۔ اس وجہ سے لوگ اس قسم کی سرگرمیوں کو آرمی کی ذمہ داری سمجھتے ہیں اور وہ پھر آرمی سے توقع رکھتے ہیں جب کہ فنڈ انتظامیہ اور حکومت کے ساتھ ہونے کی وجہ سے پھر عوام میں ہماری فوج کی بدنامی ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ ہماری اپنی فوج ہے۔ یہ اس ملک کا ایک مضبوط ادارہ ہے۔ اس لیے ہم اس کی بدنامی نہیں چاہتے۔ انھوں نے اس حوالہ سے مزید کہا کہ چیک پوسٹوں کی اس وقت بھی ضرورت ہے اور ان کی تعداد کافی کم ہوچکی ہے۔ لہٰذا اس پر آرمی اہل کاروں کو اپنا رویہ نرم کرنا چاہیے۔ سرچ آپریشن میں بھی انھیں نرمی سے کام لینا چاہیے، تاکہ عام آدمی اور طالب میں فرق واضح ہو۔ قومی جرگہ کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اسی قومی جرگے کا ازل سے سوات میں فوج کا مطالبہ تھا اور اب اپنے ذاتی مفادات کے لیے لوگوں کو استعمال کرکے انھیں بدنام کیا جا رہا ہے۔ قومی جرگہ پہلے صرف اے این پی اور مختیار یوسف زئی پر مشتمل تھا لیکن جب اس کے کرتا دھرتاؤں نے خود کو اکیلا محسوس کیا، تو اب دوسروں کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ سب سے مؤثر جرگہ ،منتخب ممبران اسمبلی کا ہے۔ وہ سوات میں اغواء برائے تاوان، بھتہ خوری اور دیگر جرائم کے خاتمے کے لیے اپنی حکومت اور انتظامیہ پر زور ڈالیں، کیوں کہ یہ ان کی ذمہ داری ہے، فوج کی نہیں۔ انھوں نے کہا کہ چھاؤنی سوا ت کی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ اس سے یہاں پر ترقی کا نیا دور شروع ہوگا۔ پاکستان پیپلز پارٹی پی کے اسّی کے سابق امیدوار ریاض احمد ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ قومی جرگے میں نام زد لوگ ہیں، منتخب نہیں۔ اور یہ لوگ جو سوات کے مسائل کے حوالے سے بات کرتے ہیں، تو صرف اپنی بات کرتے ہیں۔ ان میں عام طبقات کا کوئی بندہ شامل نہیں ہوتا۔ یہ چند مخصوص خاندانوں پر مشتمل لوگ ہیں جو صرف اور صرف اپنے مفادات کی بات کرتے ہیں اور یہ جرگہ بھی اپنے مفادات کی تکمیل کے لیے بنایا گیا ہے۔ ان کی عوام میں کوئی مقبولیت نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ سوات میں فوج کی اشد ضرورت ہے۔ اس کو بدنامی سے بچانا ہمارا قومی فرض ہے۔ ’’قومی جرگہ‘‘ اس طرح نہیں ہوتا۔ ان کو چاہیے کہ تمام سیاسی پارٹیوں کے اسٹیک ہولڈرز اور سول سوسائٹی کو اعتماد میں لیں اور اپنے فیصلے مسلط کرنے کے بجائے ان کے صلاح و مشوروں سے کام کریں۔ کیوں کہ یہ تو صر ف اے این پی اور پختون خواہ ملی عوامی پارٹی کا جرگہ ہے۔ سیدو میڈیکل کالج کے فائنل ائیر کے طالب علم ڈاکٹر عدنان قیوم کا کہنا ہے کہ پاک فوج ہماری محسن ہے۔ انھوں نے یہاں پر امن کے لیے جو قربانیاں دی ہیں۔ اس کا صلہ انھیں اس طرح نہیں دینا چاہیے۔ کسی ایک شخص سے ذاتی یا نظریاتی اختلافات پر پورے ادار ے کو بدنام کرنے سے گریز کیا جائے اور ان کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے۔ کیوں کہ جب سوات کے سترہ لاکھ عوام یہاں سے ہجرت کرکے چلے گئے تھے، اگر فوج نہ ہوتی، تو یہ جنت نظیر وادی ہمارے ہاتھوں میں دوبارہ کیسے آتی؟ مقامی شہری نیاز محمد کا کہنا ہے کہ میں آج بھی مئی جون جولائی کے وہ تپتے دن یاد کرکے کانپ اٹھتا ہوں اورجب آج کے سوات کو دیکھتا ہوں، تو میرے دل سے فوج کے لیے دعائیں نکلتی ہیں۔ کیوں کہ میں نے زندگی میں اپنی جنت نظیر وادی کو کبھی چھوڑنے کا سوچا تک نہیں تھا۔ آج کا سوات پاک آرمی کی بہ دولت ہے۔ فوج نے ہمارے لیے قربانیاں دی ہیں۔ ہم فوج کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ اصلاحی کمیٹی کے سابق چیئرمین محمد زبیر نے بتایا کہ آج سوات کی ترقی اور بہ حالی اسی فوج کی مرہون منت ہے۔ سوات کے لیے چھاؤنی کی ضرورت ہے۔ علاقے میں امن کو برقرار رکھنے کے لیے چیک پوسٹیں قائم رکھی جائیں۔ سوات میں پائیدار امن کے لیے فوجی چھاؤنی کی ضرورت ہے۔ فوجی چھاؤنی بنائی جائے۔ فوج کے بغیر علاقے میں امن برقرار رکھنا مشکل ہے۔ فوج نے مشکل گھڑی میں ہمارا ساتھ دیا ہے اور سوات کے عوام کے لیے جان کے نذرانے پیش کیے ہیں۔ سوات کے عوام امن پسند اور غیرت مند ہیں۔ وہ اپنی بہادر افواج کی قربانیوں کو بھول نہیں سکتے۔ پوری قوم اپنی فوج پر فخر کرتی ہے۔ چیک پوسٹوں پر فوج ہمارے علاقے کے امن کو برقرار رکھنے کے لیے ڈیوٹی سر انجام دے رہی ہے۔ تاکہ کوئی دشمن ضلع سوات کے امن کو نقصان نہ پہنچا سکے۔ زبیر نے یہ بھی کہا کہ بعض ملک دشمن عناصر یہ نہیں چاہتے کہ علاقے میں امن ہو اور ہمارے علاقے کے امن کو دوبارہ خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم کسی کو یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ ہماری صفوں میں بے اتفاقی پیدا کرے۔ ہم نے مشکل وقت میں اپنے ملک اور قوم کے لیے قربانیاں دی ہیں جو ریکارڈ پر ہیں۔ یہ ملک ہمارا ہے۔ ہم اپنے ملک کی مضبوطی کے لیے اور امن کے لیے پاک فوج کے شانہ بہ شانہ ہوں گے۔ ہر قسم کی قربانی دیں گے۔ فوج نے ہمارے علاقے میں بہت ترقیاتی کام کیے ہیں اور کر رہے ہیں۔ پاک فوج نے ہمارے بچوں کو دوبارہ اسکول جانے کے مواقع فراہم کیے ہیں اور سوات کے عوام کو دوبارہ سوات میں تحفظ اور امن کے لیے مواقع میسر کیے ہیں۔ سوات کے سینئر صحافی فیاض ظفرؔ کا کہنا ہے کہ سوات کی ترقی اور یہاں کے عوام کی خوش حالی کے لیے چھاؤنی کی اشد ضرورت ہے۔ کیوں کہ اگر یہاں پر چھاؤنی بن گئی، تو اس سے سوات کے ہر شعبے کو ترقی مل جائے گی۔ یہاں پر سی ایم ایچ اسپتال، آرمی اسکول اور دیگر سہولیات سمیت سیاحت خوب ترقی کرے گی۔
952 total views, no views today


