مینگورہ(خصوصی رپورٹ) سوات کے مرکزی شہر مینگورہ میں فرعونیانیہ فرمان جاری‘ کے پی کے کے وزیر اعلیٰ کے آبائی ضلع میں کمشنر ملاکنڈ ڈویژن ریاض محسودکے حکمنامے سے ایک ہی جھٹکے میں ایک لاکھ سے زائد خاندان فاقوں‘ بیروزگاری‘ کروڑوں روپے کا نقصان اُٹھانا ہوگا‘ جبکہ لینڈ مافیا‘ قبضہ مافیا‘ زبردستی لوگوں کو بے دخل کرنے والے مافیا کو خوش کرنے کیلئے کارروائیاں عروج پر ہے‘ عمران خان بے خبر‘ نیب آنکھیں بند کرکے تماشا دیکھ رہا ہے‘ واقعات کے مطابق سوات کے مرکزی شہر مینگورہ میں واقع سبزی منڈی جس میں تقریباً ایک سو تیس سے زائد آڑھتی‘اور ایک لاکھ سے زائد خاندان اس کاروبار سے وابستہ ہے‘ تحصیل میونسپل ایڈ منسٹریشن (ٹی ایم اے) بابوزئی نے با اثر لینڈ مافیا‘ قبضہ مافیا‘ زبردستی لوگوں کو زمینوں سے بے دخل کرنے والے افراد کے ساتھ خفیہ ساز باز کرکے چند روپیوں میں خریدنے والے زمین کو ہزاروں روپے میں فروخت کرنے کیلئے معاہدہ کیا گیا‘ 130اڑھتیوں میں صرف اور صرف 7‘ آٹھ آڑھتیوں کے ساتھ ساز باز کرکے منڈی کو زبردستی منتقل کرنے کیلئے کارروائیاں شروع کردی گئی‘ وزیرستان سے تعلق رکھنے والے کمشنر ملاکنڈ ڈویژن ریاض خان محسود اس مسئلے اور لاکھوں افراد اس سے وابستہ کروڑوں روپے کاروبار کرنے والوں کے پرواہ کئے بغیر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ کے آبائی ضلع سوات میں ایسا فرمان جاری کیا گیا ہے کہ سبزی منڈی کو بند کریں‘ کاروبار یہاں پر نہیں چلے گا‘ بے پناہ قربانیوں سے بحال ہونے والے امن کی کوئی پرواہ نہیں‘ کوئی مرے یا کوئی جاگے ہمارا اس سے کوئی غرض نہیں بلکہ منڈی کو بند کردوں‘ اسی طرح کے فرمان کبھی ڈکٹیٹر بھی جاری نہیں کرتے‘ اور نہ ہی اسی طرح سابقہ وقتوں میں ہوا ہے‘ کہ آپ جن لوگوں کو اپنے ہی زمینوں سے بے دخل کرتے ہیں نوٹس تک جاری نہیں کیا ہے جبکہ یہ بھی عام طور پر چہ میگوئیاں ہورہی ہے کہ اس سکینڈل میں کروڑوں روپے لوگوں نے ہضم کئے ہیں‘ اب بھی یہاں پر مختلف قسم کے آفسران منتخب نمائندوں کروڑوں روپے لینے کے الزام لگا رہے ہیں‘ کیونکہ کاروباری لوگوں کی پہنچ کسی بھی جگہ نہیں بلکہ ان اڑھتیوں اور ان سے وابستہ لاکھوں افراد کو یہ کیڑے مکوڑے سمجھ رہے ہیں‘ اور جمعے کی شام کو منڈی بند کرنے کیلئے فورس بروئے کار لائی جائیگی‘ کیونکہ مینگورہ سبزی منڈی کسی بارڈر پر واقع ہے اور بارڈر پر کارروائی کیلئے تمام ادارے حرکت میں لانے کیلئے کمشنر ملاکنڈ ڈویژن ریاض محسود اقدامات کررہے ہیں‘ عام طور پر آڑھتی کہہ رہے ہیں‘ اگر اس میں خون خرابہ یا امن وامان کا مسئلہ پیدا ہوا تو اس کی تمام تر ذمہ داری کمشنر ملاکنڈ ڈویژن پر عائد ہوگی‘ سوات میں غیر یقینی صورتحال کے اگر رابطے دیکھے جائیں جو بڑے بڑے دہشت گرد تھے‘ حکیم اللہ محسود‘ بیت اللہ محسود وغیرہ وغیرہ کے نام سب کو یاد ہے‘ انہیں لوگوں نے سوات میں امن وامان کا مسئلہ پیدا کیا‘ جو اب تک بھی بحال نہیں ہوا‘ مصنوعی امن ہے جو کسی بھی چنگاری بن کر نکل سکتی ہے‘ لوگوں کو فاقوں اور خود کشیوں پر مجبور کرنے والے آفیسر کو یہاں ایسا تعینات کیا گیا ہے‘ کمشنر ملاکنڈ ڈویژن ریاض محسود عوام کے مسائل حل کرنے کیلئے نہیں بلکہ یہاں بے امنی پیدا کرنے کیلئے لائے گئے ہیں‘ لہٰذا وزیر اعظم پاکستان عمران خان پہلے ہی فرصت میں ان کو یہاں سے فارغ کردیں‘ اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ محمود خان جو انتظامی صلاحیتوں سے مکمل طور پر محروم ہے اب مزید اس کو اس اہم عہدے پر رکھنے کیلئے کوئی ضرورت نہیں ہے‘ ان کی کارکردگی کا اندازہ نو دس مہینوں میں سامنے آیا ہے‘ ہر سطح پر ناکامی کا سامنا ہے‘ اور یہاں پر تو قانون نام کی کوئی چیز نہیں‘ یہ با اثر افراد لینڈ مافیا جو بھی کام کرے انتظامیہ کے کمشنر ملاکنڈ جیسے آفیسر ہر وقت موجود رہتے ہیں‘ اسے سوات کے امن سے کوئی سروکار نہیں‘ بس اپنے ذاتی مفادات کیلئے کام کررہے ہیں‘ سوات کے غیور عوام ان کے خلاف کسی بھی سڑکوں اور پورے سوات میں نکلیں گے‘ واضح رہے جس جگہ پر اوڈیگرام میں منڈی منتقل کررہے ہیں‘ یہ جی ٹی روڈ پر وقع ہے اور ہر وقت ٹریفک جام رہتا ہے‘ جبکہ اکثریتی اڑھتیوں نے جس جگہ یعنی تختہ بند میں جو زمین لیز پر لی ہے وہ لنک روڈ ہے اُس پر ان کو کاروبار نہیں کرنے دیا جارہا‘ حالانکہ ان اکثریتی اڑھتیوں کا یہ مطالبہ ہے کہ ہم تختہ بند منتقل ہوتے ہیں مگر اوڈیگرام نہیں‘ مگر یہاں پر گنگا اُلٹا بہتی ہے۔
1,910 total views, no views today



