وادی سوات جو والی سوات کے دور میں آمن کا گہواہ ہوا کرتا تھا جب سوات سٹیٹ سے پاکستان میں ضم ہوا یہاں پر نہ ختم ہونے والے مسائل شروع ہو چکے ہیں اور گزشتہ کئی سال سے یہ حسین وادی سازشوں کا مرکز بنا ہوا ہے جس میں ہر کوئی اپنا بنایا گیا ڈرامہ وادی سوات کے غیور لوگوں پر آزما رہے ہیں نوے کے دہائی میں ملاکنڈویژن کے ساتھ ساتھ سوات میں شریعت کے نام پر لوگوں کو ورغلا نے کا اغاز کیا گیادوہزار ایک میں افغانستان پر حملے کے بعد مولانا صوفی محمد کی قیادت میں ہزاروں افراد افغانستان جہا د کے لئے گئے جس میں ہزاروں افراد اب بھی غائب ہیں اسی طرح2007میں یہاں پر ایک اور سازش شروع کردیا گیا جس کیلئے ایک جامع منصوبہ بندی کی گئی اورباقاعدہ طور پھر 2007میں یہاں پر ایک اور سازش شروع کردیا گیا جس کیلئے پوری ساز سامان تیار کرنا شروع ہوگیا اور اس حسین وادی میں طالبان کے نام سے ایک تنظیم بنایا گیا جس نے سوات کے طول وعرض میں حکومت کی رٹ کو چیلنج کیااور اپنی عدالتیں قائم کئے یہ سب ہماری حکومت وقت کے علم میں تھالیکن حکومت کی نا اہلی کی وجہ سے اسی طرح 2007سے لیکر2009تک یہ حسین وادی بارود کے ڈھیر بنا رہا ان دوسالوں میں ایسا دن نہیں گزرا کہ جس میں کوئی خودکش ،بم دھماکہ یا کسی شخص کی سرکٹی لاش نہ ملی ہو 2009میں یہاں پر حکومت نے دوبارہ حکومت کی ر ٹ کی بحالی کے لئے آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا اور یہاں پر ایک بڑا آپریشن شروع کیا جس میں پاک فوج کے جوانوں ،پولیس جوانو ں اور عوام نے اپنی جانیں قربان کرکے سوات کی حسین وادی میں حکومتی رٹ کو بحال کیاآپریشن میں یہاں کے لوگوں نے بہت بڑی مالی وجانی نقصان اُٹھایا اور پاک فوج کے شانہ بشانہ امن قائم کرنے کیلئے لڑے لیکن اُن کو اس قربانی کا کوئی سلہ نہیں ملا سوات میں ایک بہت بڑا مسلہ یہ بھی ہے کہ سوات آپریشن کے بعد ہزار وں لوگ لاپتہ ہیں جس کی خاندان والے اُن کیلئے انتہائی پریشان ہیں لیکن اتنا عرصہ ہونے کے بعد بھی اُن لاپتہ افراد کا کوئی پتہ نہیں چل رہا ہے کوئی بھی ادارہ اُن لاپتہ افراد کی ذمہ داری لینے کیلئے تیار نہیں ہے اور ایسی طرح عرصہ بیت گیا کوئی باپ سے محروم تو کوئی اپنے بیٹے اور کوئی اپنی خاوند کے انتظار میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے ان خاندانوں کا مطالبہ ہے کہ اگر ہمارے لوگ مجرم ہے تو ان کو قانون کی مطابق سزا دیا جائے اور اب توسوات میں جہان صبا نامی خاتون کی سربراہی میں سینکڑوں خواتین باقاعدہ طور پر اپنی لاپتہ رشتہ داروں کیلئے احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں اور اُن کا صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ ہمارے لاپتہ رشتہ دار اگر مجرمان ہیں تو اُن کو عدالتوں میں پیش کیا جائے جس پرہماری تسلی ہو جایگی خیر یہ تو سوات کی ایک نہ ختم ہو نے والا داستان ہیں جس پر سنجیدگی سے سوچنا چاہئے کئی سال گزرنے کے باوجود یہاں کے سینکڑوں سکول ابھی تک دوبارہ تعمیر نہیں ہوسکیں یہی حال یہاں کے تباہ شدہ رابطہ پلوں کا بھی ہے جس پر حکومت نے سنجیدگی سے غور نہیں کیا ہے قارئین کرام ،سوات میں آمن قائم ہونے کے بعد پاک فوج نے سوات بھر میں آمن قائم رکھنے کیلئے ہر تحصیل کے سطح پر آمن کمیٹی کے نام سے کمیٹیا ں قائم کر دئے ہیں اور ان لوگوں نے آمن کیلئے پاک فوج کا ساتھ دیاسوات بھر میں آمن کمیٹیوں کے ممبران کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جاتارہا ہے جو تاحال جاری ہے قارئین کرام ،گزشتہ پانچ سالوں میں امن کمیٹیوں کے 23 ممبران اور سربراہان نامعلوم افراد کی گولیوں کا نشانہ بنے صرف2014کے گیارہ مہینوں میں 16آمن کمیٹیوں کے ممبران نامعلوم افراد کے گولیوں کا نشانہ بنے ہیں کیونکہ باقی پانچ سالوں کی نسبت یہ تعداداس سال کم ہونے کے بجائے دوگنا ہو گیا ہے اور اس طرح نامعلوم افراد کی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے والے امن کمیٹی کے ممبران کا تعداد 23تک پہنچ گیا ہے نامعلوم افراد کی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے والے امن کمیٹی کے ممبران کے قتل کی باقاعدہ طور پر متعلقہ پولیس تھانوں میں درج ہو رہے ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ان 23من کمیٹیوں کے ممبران کے قاتلوں میں سے ایک کو بھی ابھی تک گرفتار نہ کیا جا سکا ہے بہ ظاہر تو پولیس اور باقی سیکورٹی ادارے ابھی تک اس ملزما ن کی گرفتاری میں مکمل طور پر ناکام نظر آرہے ہیں جس کی وجہ سے سواتی عوام ذہنی مریض بن گئے ہیں اور ہر کوئی یہ سوال کرتا ہے کہ سوات میں اتنی سخت سیکورٹی کے باوجود امن کمیٹیوں کے ممبران کے قتل میں ملوث افراد کیو ں گرفتار نہیں ہو رہے ہیں اب تو سوات کے عوام کی صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا جارہا ہے اور وہ آہستہ آہستہ اس ظلم کے خلاف آواز اُٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں جس کی واضح ثبوت گزشتہ روز سوات پریس کلب میں سوات قومی جرگہ کا سیمنار ہے جس میں اُنہوں نے کھل کر سوات میں ٹارگٹ کلنگ اور باقی مسائل پر بات کی جو ایک اچھا اقدام ہے کہ چلوں کوئی تو ہے کہ وہ سواتی عوام پر شروع ہونے والے ظلم کی بات کر تا ہے کیا سوات میں ٹارگٹ کلنگ ،سرچ اپریشن اور چیک پوسٹوں پربات کرنا جرم ہے آخر کب تک یہ سلسلہ جاری رہیگا کب تک ہم نامعلوم افراد کی گولیوں کانشانہ بنے رہے ینگے اب تک سینکڑوں گھر اُجاڑ دئے گئے آخر کب تک یہ سلسلہ جاری رہیگا یہ وہ سوالات ہیں جن پرقانون نافذ کرنے والے اداروں کو ناراض ہونے کے بجائے سوچنا چاہئے کیونکہ عوام کو سیکورٹی دینا ان کی ذمداری ہے اگر وہ اس میں ناکام ہے تو اس میں ہم لوگ کیا کر سکتے ہیں سوات میں بہ ظاہر تو آمن ہیں لیکن وہ آمن نہیں جو پہلے ہوا کر تا تھا سوات میں جب بھی کوئی گھر سے نکلتا ہے تو وہ سہی سلامت گھر واپس آنے کی امید نہیں رکھتا کیونکہ یہاں پر کسی کو بھی کسی بھی ٹائم پر نامعلوم افراد مار سکتے ہیں نہ تو یہاں پر کسی کی زندگی محفوظ ہے اور نہ تو عزت نفس ،قارئین کرام اب اصل ایشوں کے طرف اناچاہتا ہویہاں پر بات ہو رہی تھی سوات قومی جرگہ کی کہ جس نے سوات پریس کلب میں ایک سیمنار کا اہتمام کیا گیا تھا اُنہوں نے سیمنار میں حقائق سے پردہ اُٹھانے کی کوشش کی ہے جس پر بعض سیکورٹی ادارے انتہائی ناراض ہو گئے ہیں اور ان جرگے پر تنقید شروع کردیا ہے اور کہا جارہا ہے کہ یہ لوگ پاک فوج کے خلاف سازش کر رہے ہیں اور سوات میں دوبارہ امن خرا ب کر رہے ہیںیہ کیا سازش ہے چلو اپ بھی پڑھئے کہ کیا ان باتوں میں کونسی غلط بات ہے کیا یہ سب سوات کے عوام نہیں چاہتے، علامیہ سوات قومی جرگہ۔سوات قومی جرگہ نے ضلعی انتظامی امور کو سول انتظامیہ کے حوالے کرنے اور چیک پوسٹوں کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کردیا،سوات پریس کلب مینگورہ میں سوات قومی جرگے کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ضلع بھر کے پینسٹھ یونین کونسلوں کے ممبران ، سیاسی پارٹیوں کے نمائیدہ گان اور صحافیوں نے شرکت کی ، اجلاس کو قومی کانفرنس کا نام دیاگیاتھا قومی کانفرنس جرگے کے سربراہ مختیار یوسفزئی کے زیر صدرات منعقد ہوا جس میں سوات کے مختلف علاقوں کے مشران نے سوات میں امن وامان، ترقیاتی کاموں ، فوجی آپریشن اور سیلاب سے پیدا شدہ صورتحال پر تفصیلی بحث کیا،جرگے سے خطاب میں مختلف مشران نے سوات میں ٹارگٹ کلنگ ، کرفیوں ،سرچ اپریشن اور چیک پوسٹوں پر سخت تنقید کی جرگے کے اختتام پر خواجہ خان نے اعلامیہ جاری کیا جس میں مرکزی و صوبائی حکومتوں اور سوات میں فوج سے مطالبات کئے گئے جن میں سب سے پہلے یہ مطالبہ کیا گیاکہ سوات مقامی لوگوں کی ملکیت ہے اور یہاں ان لوگوں کی قیام کا قانونی حق ہے اور سوات میں قانون کی حکمرانی اور آئین کی پاسداری ہونی چاہئے قومی جرگہ ہرقسم کی دہشت گردی ، فرقہ ورایت اور انتہا پسندی کے مخالفت کرتی ہے اور حکومت کی ذمہ داری ہے کے مستقل قیام امن کے لئے پائیدار اور سنجیدہ اقدامات اٹھائیں اور یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنا کردر ادا کریں اور لوگوں کی عزت نفس کاخیال رکھیں اور حکومت اس سلسلے میں موثراقدامات کریں ، سوات میں قیام امن کے لئے مختلف اداروں اور مقامی لوگوں کی قدر کرتی ہے اور ان کو خیراج تحسین پیش کرتی ہیں، اور پاک فوج ، پولیس اور ایف سی کی جوانوں کی قربانیوں کو قدر کی نگا ہ سے دیکھتی ہے سوات میں مختلف اداروں کے طرف ایسے افراد جو کہ مختلف جرائم اور دہشت گردی میں ملوث ہے ان کو گرفتارکیاجائے ، امن کمیٹی کے ارکان کے قاتلوں کو گرفتارکرکے ان کو قرارواقعی سزاد ی جائے جوامن کیمٹی کے ارکان شہید ہوئے ہیں یا زخمی ہیں ان کو معاوضے دئے جائے، جرگہ مطالبہ کرتی ہے کہ ٹارکٹ کلنگ کے فورا بعد وہاں سرچ اپریشن ، کرفیوں اور مقامی لوگوں کو تنگ نہ کیاجائے اور یہ سلسلہ بند ہوناچاہئے مجرموں کی تلاش کے لئے دوسرا راستہ اختیارکیا جائے ، سوات میں فوجی چھاونی کے قیام میں مقامی لوگوں کو اعتماد میں نہیں لیاگیا اس لئے فوجی چھاونی کی ضرورت ہی نہیں اگر بنانا پھر بھی ضروری ہو تو مقامی لوگوں کے زیرکاشت زمین کی بجائے غیر آباد علاقوں میں بنایاجائے، جرگہ نے مشترکہ طورپر مطالبہ کیا کہ شریف لوگوں سے اسلحہ نہ لیاجائے اور جن لوگوں سے اسلحہ لیاگیاہے ان کو ان کی حفاظت کے لئے واپس کیا جائے،جو شریف اور پر امن لوگوں کو اپنی حفاظت لے لئے اسلحہ رکھنے کی اجازت دی جائے، جرگہ نے مطالبہ کیا کہ سوات کے مختلف علاقوں میں مستقل اور غیر مستقل چیک پوسٹوں پر تعینات سیکورٹی کے اہلکاروں عوام کے عزت نفس کا خیال رکھنا چاہئے ان چیک پوسٹوں پرپاک فوج کے جوانوں کے بجائے پولیس اور ایف سی کے اہلکار تعینات کی جائے اور آرمی اپنی توجہ دہشت گردی کے خاتمے پر مرکوز کریں قومی کانفرنس نے مطالبہ کیا کہ سوات خصوصا کبل کے علاقے میں سول لوگوں پر رات کو پہرہ دینا بند کیاجائے ، کیوں کہ سیکورٹی کوقائم کرنا سیکورٹی اداروں کا آئینی ذمہ داری ہے، سوات قومی جرگہ کے تمام ارکان مرکزی وصوبائی حکومت سے اس بار سختی سے یہ مطالبہ کیاہے کہ دہشت گردی وسیلاب سے متاثرہ لوگوں کو معاوضہ اداکی جائے اور سوات کے لئے باہر سے انے والے اداروں کی امداد جاری کیا جائے، سوات میں خراب سڑکوں اور پلوں کو فوری طورپر تعمیر کیا جائے اور جو ترقی کے کام جاری ہے ان کو جلد ازجلد مکمل کیاجائے مزید رابط پل قائم کئے جائیں، مینگورہ شہر پر ٹریفک کے کنٹرول کے لئے بائی پاس بنائے جائے، دہشت گردی سے متاثرہ سکولوں کو فی الفور بنایاجائے ، سوات میں جنگلات کی حفاظت کے لئے موثر اقدامات کئے جائے اور مزید پودے لگائے جائے ، سوات میں سیاحت کو صنعت کا درجہ دیاجائے اور اس کی فروغ کے لئے اقدمات اٹھائے جائے، سوات میں آثارقدیمہ کی تحفظ اور سوات میوزیم کو بحال کیاجائے، سوات میں صحت کے مراکز اور ہسپتالوں کو اپد گریڈ کیاجائے ، سیدوشریف میں نئے بننے والی کیجولٹی کو چالوکیاجائے نوازشریف کڈنی ہسپتال کے ساتھ ساتھ وہاں مقامی ہسپتال کوبھی قائم کیاجائے، کالام میلے میں مقامی لوگوں کو ادئیگی کی جائے ، مختلف علاقوں میں رابطہ سڑکوں کی تعمیر اور مرمت کی جائے، سوات میں انڈسٹریل اسٹیٹ بنایاجائے اور دریائے سوات پر چھوٹے پن بجلی گھر بنائے جائے۔ مٹلتان پرجیکٹ کو بحال کیا جائے سوات میں سوئی گیس کی مختلف منصوبوں پر کام تیز کیاجائے مینگورہ میں گیس لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیاجائے، سوات میں خواتین یونی ورسٹی قائم کی جائے جوکہ ملالہ یوسفزئی کے نام سے منسوب ہو ، سوات میں روزگارکے مواقع پیدا کئے جائے، سوات میں قائم عدالتوں میں ججز کی کمی پوری کیا جائے ، دارلقضامیں دوسرا جج تعینات کیاجائے ، گلدکدہ روڈ کو عوام کے لئے کھول دیاجائے، سوات میں بھتہ خوری کی خاتمے کے لئے اقدامات اٹھائے جائے، جرکے نے متفقہ طور تمام مطالبات کو منظورکرلیا، اس موقع پر جرکے کے سربراہ مختیار یوسفزئی نے سوات کے حالات پر تفصیلی خطاب کیا ، جرگے سے ہوٹل ایسوسیشن کے صدر زاہد خان، جنرل سیکرٹری وکیل احمدخان، گلوبل فیس کونسل کے صدر احمدشاہ، سوات ٹرید فیڈریشن کے نمائندہ ڈاکٹرخالد محمود، پاکستان پیپلزپارٹی سے اقبال حسین بالے، اے این پی سے واجد علی خان، قومی وطن پارٹی سے شیر بہادرخان، پختون خوا ملی عوامی پارٹی سے ملک ریاض احمد، جرکے ممبر محمدعلی ،خورشید کاکاجی ،سوات پریس کلب سے رشید اقبال اور دیگر مشران نے بھی خطاب کیا۔سوات میں دیر پا قیام امن کے لئے ضروری ہے کہ وفاقی ،صوبائی حکومتوں کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے ادارے سوات قومی جرگہ کے مذکورہ بالا تجاویز کو عملی جامہ پہنائے تاکہ سوات ایک بار پھر امن کا گہوارہ بن سکیں۔
1,230 total views, no views today


