چکدرہ، چکدرہ میں سیکورٹی فورسز اور شدت پسند کے درمیا ن فائرنگ کے نتیجے میں دھشت گرد ہلا ک ۔فورسز لفٹننٹ سمیت چار اہلکار زخمی ۔ڈھیرئی مسجد میں چھپے دھشت گرد کو دھرنے کیلئے سیکو رٹی فورسز صبح چار بجے کے قریب مسجدسے نکالنے اپنے اپ کو حوالہ کر نے کی اعلانات کئے لیکن سیکورٹی فورسز کے میجر عمر کے مطابق باہر نکلنے کی بجا ئے انھوں نے فورسز پر فائرنگ شروع کی جسکے بعد دو گھنٹوں تک وقفے وقفے سے فائر نگ کا سلسلہ جا ری رہا جسکے نتیجے میں مسجد کے اندر چھپا دھشت گرد جسکا شناخت رشید سے ہو ا ہلاک کر دیا گیا ۔فائرنگ کے نتیجے میں سیکورٹی فورسز کے لفٹننٹ منظور ،نائب صوبیدار جا ن ولی ، سپاہی کمال حسین اور علی حسن زخمی ہو ئے زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرہسپتال بٹ خیلہ پہنچا دیئے گئے ہیں
جہا ں انکے حالت تسلی بخش بتائی جا تی ہے ۔واقعہ سے متعلق چکدرہ چھاؤنی میں اپریشن کما نڈنٹ دیر سکاؤٹ نصر عمر حیات لالیکا نے بریفینگ دیتے ہو ئے کہا کہ ہلا ک دھشت گرد اور انکے دیگر ساتھیوں کی تین مہینے سے پیچھا کیا جا رہا تھا کیو نکہ ان کے تصدیق شدہ معلومات کے مطابق مذکورہ دھشت گرد ممبر صوبائی اسمبلی بخت بیدار خان کے حجرے میں انکے بھائی اور دیگر ساتھیوں کو دھشت گرد ی کا شانہ بنا نے کے علاوہ گل أباد پل میں پو لیس چوکی پر ہینڈ گرنیڈ پھینکنے پولیس اور دیر لیویز وین کو نشانہ بنا نے سمیت کئی دیگر دھشت گرد ی کے واقعات کا ما سٹر ما ئنڈ تھا ۔انھوں نے کہاکہ گزشتہ رات دھشت گرد علاقے میں مو جو دگی کی اطلاع ملنے کے بعد فورسز نے کو ٹیگرام میں مو جود انکے دو ساتھیوں کے گھر پر چھا پہ ما رنے کے بعد مختیار احمد ولد گل با دشاہ اور گلزار احمد ولد مختیار احمد کو گرفتار کر کے انکے قبضے سے دیسی ساخت کے 13ہینڈ گرنیڈ ،6خودکش جیکٹ،2عدد پستول ،ڈی ٹونیٹرز ،ریمورٹ کنٹرول ،ڈی وائسز ،2وائرلس سیٹ،2سلینسر ،کئی کلو گرام بارودی مواد،خودکش جیکٹ میں استعمال ہو نیوالے ہزاروں چرے اور جہادی پمفلٹ برأمد کئے اور تیسری ساتھی اظہار احمد کے حوالے سے انکی مو جو دگی کی نشاندہی پر مسجد میں چھپے دھشت گرد کو کاروائی کے نتیجے میں ہلاک کیا گیا ۔انھوں نے کہا کہ ہلا ک دھشت گرد انتہائی صلا حیتوں کا ما لک تھا ان کو پکڑنے کیلئے تین مہینے فورسز نے ان کا اور انکے ساتھیوں کا پیچھا کیا۔
بٹ خیلہ،لوئر دیر چکدرہ ڈھیری مسجد میں شدت پسند وں اور سیکورٹی فورسزکے مابین جھڑپ میں سنگین واردتوں میں مطلوب ماسٹر مائنڈشدت پسند ہلاک جبکہ سیکورٹی فورسز کے چار اہلکار شدید زخمی شدت پسنددوں کے قبضے سے 13 برآمد عدد دستی ہاینڈ گرنیڈ چار خودکش جیکٹس دو پستول ریموٹ کنڑول ائی ڈی، بال بیرنگ ،پمپلیٹ جہادی لیٹر یچر، کیش مووی اور بھاری مقدار میں بارودی مواد آرمی فورٹ چکدرہ میں شدت پسندوں کے قضبے سے خودکش جیکٹس بارودی مواد اور دیگر الات میڈیا کوپیش کرنے کے موقع پر کمانڈنٹ دیر ٹاسک فورس کرنل نصر عمر حیات لالیکا نے میڈیا کو پریس بریفینگ دیتے ہوئے کہا کہ ماسٹر مائینڈ شدت پسند رشید احمد کی چکدرہ ڈھیری مسجد میں موجودگی کی اطلاع ملی جس پر سکیورٹی فورسز ڈھیری مسجد پہنچ گئے تو مسجد کا دروازہ اندر سے بند تھا سیکورٹی فورسز نے تالا توڑ کر مسجد کے اندر داخل ہوئے تو شدت پسندرشد احمد نے فائر نگ شرروع کی جسکی جواب میں سیکورٹی فورسزنے بھی جوابی کاروائی کرتے ہو ئے جھڑپ میں دہشت گرد بھی مارا گیا ہلاک ہونے والا شدت پسند دہشتگردوں کے نیٹ ورک کا ماسٹر مائینڈ اور اہم رکن تھا اور انتہائی کم وقت میں بم بنانے کا ماہر تھا اور دہشت گردی کا تر بیت بھی حاصل کر رکھی تھی ہلاک ہونے والے شدت پسندنے سابقہ صوبائی وزیر بخت بیدار خان کے حجرے پر بھی حملہ کیا تھا جسمیں تین پولیس اہلکاروں سمیت چھ افراد شہید ہوئے تھے اسکے علاوہ لیویز گاڑی کو بھی دھماکہ خیز مواد سے حملہ کیا تھا جسمیں متعدہ لیویز اہلکار زخمی ہوئے تھے کاروائی کے دوران دو اہم شدت پسند مختیار احمد اور گلزار احمد جو آپس میں باپ بیٹا ہے کو بھی گرفتار کیا گیا ہیں جس سے تفتیش جاری ہے اور سنسنی خیز انکشافات متوقع ہیں جبکہ انکے گھر سے اسلحہ بارودی مواد خودکش جیکسٹس ہانیڈ گرینڈ ریموٹ کنڑول ائی ڈی وائرلیس سیٹ بھی برآمد ہوا ہیں جھڑپ کے دوران سکیورٹی فورسز کے چار اہلکار کمال خان ،منصور احمد ،علی احسن اور جان ولی شدید زخمی ہوگئے جن کی حالت اب خطرے سے باہر ہیں انہوں نے کہا کہ مقامی پولیس اور عوام کے تعاون سے کامیاب کاروائی عمل میں لائی گئی ۔
394 total views, no views today


