تحریر:نور محمد یوسفزے کانجو
تسخیرِ کائنات انسان کی فطرت ہے۔نئی دنیائیں دریافت کرنا،خوبصورت جگہیں اور نظارے تلاش کرنا،فطرت کو قریب سے محسوس کرنا اور اس میں کھو جانا ہر زمانے میں انسان کی اولین خواہش رہی ہے۔اسی خواہش سے مجبور ہم چند ساتھی وطنِ عزیز کے انتہائی شمال میں واقع اپنے حُسن و دلکشی اور رعنائی کے لئے مشہور علاقے گلگت بلتستان کی سیر کے لئے کمر بستہ ہوگئے۔
پہلے سے طے شدہ تاریخ 6 جو لائی کو صبح سویرے ہم 10ساتھی ایک ہایئس (فلائینگ کوچ)کو لیکر روانہ ہوئے اور خوازہ خیلہ بازار میں کچھ ضروری اشیاء خرید کر اپنی پہلی منزل چلاس کے لئے سفر کا باقائدہ آغاز کیا اور شام کو چلاس پہنچ گئے۔وہاں ایک ہوٹل میں رات گزارنے کا فیصلہ ہوا۔چلاس شمالی علاقہ جات کا ایک اہم شہر ہے جو مینگورہ سے تقریباً 280 کلومیٹر کے دوری پر واقع ہے۔آپ اس شہر کو گلگت بلتستان کا گیٹ وے بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہاں سے آ پ نگر،استور،سکردو،خنجراب،غذر اور شندور کے لئے با آسانی نکل سکتے ہیں۔ یہاں سے کچھ فاصلے پر جگلوٹ گاوٗں آ تا ہے جہاں لوگ مرکزی شاہراہ قراقرم چھوڑ کر داہنے مڑتے ہیں اور 172کلومیٹر فاصلہ طے کرکے سیدھا سکردو پہنچتے ہیں۔لیکن ہمارا روٹ الگ تھا۔ہم نے براستہ استور اور دیوسائی سکردو جانا تھا اور براستہ جگلوٹ واپس آنا تھا۔یہ ایک پر خطر، کٹھن، مشکل اور تھکا دینے والا روٹ تھا لیکن علاقے کی خوبصورتی اور ہمارے شوقِ مہم جوئی نے ہم سب کو یہ خطرہ مول لینے پر آمادہ کیا۔
7 جولائی کو صبح سویرے ہم چلاس شہر سے روانہ ہوئے اور مین شاہراہ پر مزید 67 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے استور کے لیے داہنے طرف مڑے۔استور روڈ کچا ہونے کے ساتھ ساتھ تنگ،پر خطراور پرپیچ بھی تھا۔ قدم قدم پر آندھے اور خطرناک موڑ۔ایک طرف بلند و بالا اور ہر وقت سلائیڈنگ کرتے پہاڑ اور دوسری طرف شور کرتا اور موجیں مارتا دریائے استور۔ اللہ اللہ کرتے 45 کلومیٹرکا مشکل راستہ طے کرنے کے بعد ہم استور بازار پہنچ گئے۔وہاں کھانے پینے کی کچھ ضروری چیزیں لی اور استور کے بلند و بالااور سرسبز و شاداب وادی ’راما‘کے لئے روانہ ہوئے۔ یہ علاقہ چونکہ بہت زیادہ اونچائی پر واقع ہے اس لیے ہمیں بہت زیادہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ جگہ جگہ گاڑی سے اتر کر پیدل جانا پڑتا۔البتہ 4×4 جیپ آسانی سے جاسکتی ہے۔بحر حال تھکے ہارے ظہر کے قریب ہم اس جنت نظیر وادی میں پہنچ گئے۔نماز پڑھنے،کھانا کھانے اور تھوڑی دیر سستانے کے بعد ”راماجھیل“ کے لیے HIKE شروع کی۔یہ جھیل انتہائی اونچائی پر واقع ہے اور وہاں تک پہنچنا ہر کسی کی بس کی بات نہیں۔اکثر سیاح بیچ رستے میں ہی ہمت ہار جاتے ہیں۔ہمارے لیے بھی جھیل تک پہنچنا جوئے شیر لانے کی مترادف تھا۔جگہ جگہ برف کے گلیشئرز اور سیدھے ڈھلوان تھے خیر جیسے تیسے وہاں پہنچ ہی گئے۔
راما جھیل کا شمار پاکستان کے خوبصورت ترین جھیلوں میں ہوتا ہے۔ یہاں پہنچ کر انسان اپنی ساری تھکاوٹ بھول جاتا ہے اور جھیل کی خوبصورتی میں کھو جاتا ہے۔یہاں سے کسی کا بھی واپس جانے کوجی نہیں کر رہا تھا پر مجبوراً واپس آنا پڑا۔جھیل سے اُتر کر سب نے وادی راما کی دلکش اور سرسبز وادی میں تھوڑی دیر آرام کیا،چائے پی لی اور تازہ دم ہوکر واپس استور شہر آگئے۔شہر میں سرسری طور پر گھومے اور اپنی اگلی منزل ’چہلم‘ کے لئے روانہ ہوئے۔چہلم گاؤں کو دیو سائی جانے کے لیے بیس کیمپ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ کیمپنگ اور رات گزارنے کے لیے ائیڈیل جگہ ہے۔شام 8 بجے ہم یہاں پہنچے۔ انتہا درجے کی ٹھنڈ اور یخ بستہ ہواؤں نے ہما را استقبال کیا۔ایسا محسوس ہو رہا تھا گویا خون ابھی جسم کے اندر شریانوں میں جم جائے گا۔وہاں دریا کے کنارے ٹینٹ لگایا۔ٹینٹ لگانا بھی جان جوکوں والاکام تھا۔تیز اور سرد ہوائیں ہمارے کام میں مزاہم تھیں۔ ہم جیسے نازک طبع تو کمبلوں میں دبک کر بیٹھے تھے لیکن باقی ساتھیوں کے حوصلے بلند تھے اور پورے جانفشانی سے یہ کام پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ہم سب خیمے کے اندر بھاری بھاری کمبلوں میں پوری جسم ڈھانپ کر بیٹھ گئے اور کھانا خیمے کے اندر ہی پکنے لگا۔چہلم میں رات گزارنے کے بعد علیٰ الصباح دیوسائی کے لیے روانہ ہوئے۔کچھ ہی دیر میں ہم دیو سائی نیشنل پارک میں داخل ہو گئے۔دیو سائی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ دنیا کے بلند ترین بڑے میدان ہیں۔یہ میدان تقریباً تین ہزار مربع کلومیٹر کے رقبے پر مشتمل ہیں۔یہ میدان سطح سمندر سے اندازً ساڑھے تیرہ ہزار فٹ کے بلندی پر واقع ہیں۔ زیادہ بلندی کی وجہ سے اکثر ساتھیوں کو اکسیجن کی کمی محسوس ہو رہی تھی۔دیو سائی میدانوں کے آ غاز ہی میں خوبصورتی میں بے مثال ’شیوسرجھیل‘ واقع ہے۔ ’شیوسرجھیل‘ برف پوش پہاڑوں میں گھیرا پاکستان کے بڑی بڑی جھیلوں میں شمار ہونے والا بے حد خوبصورت جھیل ہے۔دیوسائی کے میدانوں میں برفانی چیتوں اور بھورے رنگ کے بھیڑیوں کی بھر مار ہے۔ہرن بھی کثیر تعداد میں پائے جاتی ہیں۔اس کے علاوہ چھوٹی ٹانگوں اور دُم والی ایک خاص قسم کی گلہری بھی وافر مقدار میں نظر آتے ہیں۔دیوسائی کے نہ ختم ہونے والے میدانوں میں تقریباً 200 قسم کے رنگ برنگے خود رو پھول پائے جاتے ہیں۔ جب یہ پھول پوری طرح کِھل جاتے ہیں تو پورا علاقہ حسن و رعنائی میں جنت کا ٹکڑا بن جاتا ہے۔مقامی زبانوں میں دیوسائی کا مطلب ہے ’دیووکی سرزمین‘۔ میرے نزدیک دیوسائی جنت سے کسی بھی طرح کم خوبصورت نہیں۔ ہر انسان کو زندگی میں کم از کم ایک دفعہ ضرور دیوسائی کی سیر کرنا چاہیئے۔دیوسائی کے وسیع و عریض میدانوں کا اختتام تا حدِ نگاہ سرسبز و شاداب علاقے پر ہوتا ہے جس کو بڑا پانی اور کالا پانی کہا جاتا ہے۔
دیوسائی سے نکل کر ہم اپنی اگلی منزل سکردو کے قریب ہی تھے کہ ’سدپارہ جھیل‘ تمام تر حسن و دلکشی کے ساتھ دعوتِ نظارہ دے رہی تھی۔ سدپارہ جھیل خوبصورتی میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔اس جھیل کا رقبہ ڈھائی مربع کلومیٹر اور سطح سمندر سے اسکی اونچائی لگ بھگ 8600 فٹ ہے۔ اس جھیل کے بارے میں لوگوں کا خیال ہے کہ اس کے پانی اور اس کے ارد گرد کے پہاڑوں میں سونا پایا جاتا ہے۔چنانچہ آپ کو جگہ جگہ ایسے بہت سارے لوگ نظر آئینگے جو ریت اور پانی چھاننے میں مصروف رہتے ہیں۔ اس جھیل کو اب ڈیم میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔
یہاں سے نکل کر سکردو شہر پہنچے۔ گاڑی ایک طرف پارک کرکے شہر کی سیر کو نکلے۔ کچھ کھا یا پیا اور ضروری سودا سلف لیکر رات گزارنے کے لیے اپنی اگلی منزل ’کچورہ جھیل‘ کی راہ لی۔یہ جھیل شہر سے باہر گلگت روڈ پر واقع ہے لیکن سڑک پکی ہونے کی وجہ سے وہاں با آسانی پہنچا جاسکتا ہے۔راستے میں مشہور و معروف ’شنگریلا ہوٹل‘ ہے جس کے بیچوں بیچ ایک بہت بڑی اور خوبصورت مصنوعی جھیل بھی ہے جسکو ’لوئر کچورہ جھیل‘ کہتے ہیں۔ ہم نے دور ہی سے اس جھیل کا نظارہ کیا کیونکہ ہمیں آگے جانا تھا۔ کچھ ہی فاصلہ طے کیا تھا کہ معلوم ہوا رابطہ پل خراب ہے اور بمشکل صرف پیدل ہی جایا جاسکتا ہے۔چنانچہ گاڑی ایک سرکاری سکول میں پارک کرکے ضروری سامان لیا اور کچورہ جھیل کے لیے روانہ ہوئے۔وہاں پہنچے تو سورج ڈھل چکا تھا۔شام کا اندھیرا چھا رہاتھا۔ہوا میں ایک خوشگوار خنکی تھی اور اس نیم روشن ماحول میں جھیل کا حسن دوبالا تھا۔ جھیل سے کچھ فاصلے پر کئی ہوٹل ہیں لیکن ہم نے جھیل کنارے رات گزارنی تھی اور وہ بھی ٹینٹ میں۔ایک ہوٹل والوں نے ہماری یہ خواہش بھی پوری کی اور اور کھانے کا بندوبست بھی کیا۔کچورہ جھیل شمالی علاقوں میں واقع خوبصورت جھیلوں میں سے ایک ہے۔اس کے چاروں طرف برف پوش پہاڑ اور سرسبز و شاداب اونچے اونچے درخت ہیں۔ جھیل کا نظارہ خیمے کی اندر سے بھی کیا جاسکتا تھا لیکن اسکے حُسن نے ہم پر ایسا جادو طاری کیا تھا کہ ہم رات کے آخری پہر تک جھیل کے کنارے گھومتے رہے اور لطف اندوز ہو تے رہیں۔کچھ دوستوں نے مچھلیاں پکڑنے کی ناکام کوشش بھی کی۔رات کے آخری حصے میں کچھ دیر آرام کیا اور سوگئے۔صبح سویرے اٹھ کر جھیل کے پانی میں تازہ دم ہوئے،ناشتہ کیا،جھیل کی خوبصورتی کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیااور نہ چاہتے ہوئے بوجھل قدموں کے ساتھ واپس روانہ ہوئے۔
ہمارا پڑاؤ 250 کلومیٹر دور واپس چلاس شہر تھا۔ اس سفر میں 172 کلومیٹر سکردو تا قراقرم ہائی وے انتہائی خراب اور کچا روڈ بھی شامل تھا۔راستے میں جگہ جگہ تھوڑی دیر کے لیے وقفہ کیا اور رات کو چلاس شہر پہنچ کر اُسی ہوٹل میں قیام کیا جہاں ہم نے پہلی رات گزاری تھی۔ وہاں سے صبح سویرے گھر کی راہ لی۔دوپہر کو شانگلہ ٹاپ پر کھانا کھا یا کچھ دیر آرام کیا اور شام کو واپس بخیریت گھر پہنچ گئے۔
یہ مشکل اور تھکا دینے والا مہم ہمارے لیے تقریباً ناممکن ہوتا اگر ہمارے بیچ کچھ مخلص اور کارکن دوست موجود نہ ہوتے جن کا ذکر نہ کرنا یقینا زیادتی ہوگی۔ ان میں امیر سفر اور رہبر جناب احسان الحق صاحب،پروگرام منتظمین جناب نجیب اللہ صاحب اورجناب شبیراحمد صاحب شامل ہیں۔دورانِ سفر طعام کے انچارج جناب ملک محمود صاحب جو نام کی طرح کام اور طبیعت کے بھی ملک ہیں نے ہمیں لذیذ کھانوں سے محظوظ کیا۔جناب حیدرعلی خان نے اپنی شگفتہ مزاجی اور بزلہ سنجی سے دوستوں کو خوب انٹرٹین کیا۔ تمام ساتھیوں نے ان احباب کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیااور انکی خدمات کو سراہا۔
2,676 total views, no views today



