روایت میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شکل وصورت کے ان کے صاحبزادے حضرت اسماعیل علیہ السلام تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے ذبیح اللہ کہہ کر پکارادونوں باپ بیٹے ایک ہی جسے شکل کے تھے کبھی کبھی مغالطے میں لوگ حضرت اسماعیل علیہ السلام کوخلیل اللہ کہہ دیا کرتے تھے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کوذبیح اللہ ، اللہ تعالیٰ کویہ بات پسند نہیں آئی تو اللہ تعالیٰ نے باپ اوربیٹے میں تھوڑاسافرق پیدافرمادیا۔سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بال سفیدہوئے اس وقت تک دنیامیں کسی انسان کے بال سفیدنہیں ہوئے تھے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آئینہ دیکھا بڑا تعجب ہواکہاکہ یہ بال کیسے سفیدہوگئے اللہ سے عرض کیا اے اللہ ! یہ کیاہے ؟ اللہ تعالیٰ نے ارشادفرمایاکہ یہ ہمارانو رہے اورفرمایاکہ ہمیں یہ بات پسندنہیں آئی کہ کوئی ہمارے خلیل کوذبیح کہہ کرپکارے اس لیے ہم نے سفیدبال پیدافرمادیئے تاکہ لوگوں کومغالطہ نہ ہو،تو ابراہیم علیہ السلام کی یہ خصوصیت ہے کہ سب سے پہلے دنیامیں آپ کے بال سفیدہوئے گویااللہ تعالیٰ نے آپ کوبزرگی مسلّم طورپر عطافرمائی تھی ظاہری طورپربھی اورباطنی طورپربھی ،رسالت کے اعتبارسے بھی اورانسانیت کے اعتبارسے بھی…
3,760 total views, no views today



