تہذیب،تمدن،روایات ،رہن سہن اور ثقافت کسی بھی قوم کے تشخص وپہچان ہوتے ہیں،قوم کوثقافت اورثقافت کو قوم سے ہی جانااورپہچاناجاتاہے ،جس قوم کی ثقافت کو مسخ کیاجائے تو اس قوم کی پہچان مشکل ہوجاتی ہے اورآج کل پشتون ثقافت کو کچھ اس طرح کا مسئلہ درپیش ہے کہ ایک مخصوص گروہ چندٹکوں کی خاطرہاتھ دھوکر اس قوم کی ثقافت کے پیچھے پڑاہواہے جو سی ڈی ڈراموں کے ذریعے اس کے تشخص کو پامال کررہاہے ،پشتوسی ڈی وسٹیج ڈراموں اورٹیلی فلموں کی آڑ میں پشتون ثقافت کیساتھ گھناؤنا کھیل کھیلا جارہاہے ،کلاشنکوف کلچر،نیم برہنہ ڈانس،شراب وشباب،ماردھاڑ،قتل مقاتلے اورغیر مہذب مکالموں کے ذریعے پختون کلچرکا چہرہ مسخ کیاجارہا ہے جس سے باہر کی دنیا میں پختون قوم کی بدنامی ہورہی ہے،ایک گہری سازش کے تحت پختونوں کوایک فحش اورعیاش قوم کی شکل میں پیش کیا جارہا ہے۔ گذشتہ ایک عرصہ سے بننے والے پشتوسی ڈی وسٹیج ڈراموں اورٹیلی فلموں میں فحاشی اورعریانی سمیت کلاشنکوف کلچر،شراب نوشی،نیم برہنہ ناچ گانوں اورغیرمہذب مکالموں کے ذریعے پشتون قوم اوراس کی ثقافت کوبدنام کرنے کا ایک نہ ختم ہونے والاسلسلہ جاری ہے ،ان ڈراموں میں کام کرنے والے اداکار،اداکارائیں اوردیگرکردارباہر کی دنیاکے سامنے پختونوں کو ایک فحش،شرپسند،منشیات کی عادی اورانتہائی غیر مہذب قوم کی شکل میں پیش کرنے میں مصروف ہیں اوراس عمل میں ان ڈراموں اورفلموں کے رائٹر،ڈائریکٹرسمیت وہ تما م عناصر برابر کے شریک ہیں جو اس صنعت کے ساتھ کسی نہ کسی شکل میں وابستہ ہیں،حالانکہ پختون ایک امن پسند،مہذب اورمحب وطن قوم ہے مگریہ عناصر اسے بدنام کرنے کی سازشوں اورکوششوں میں لگے ہوئے ہیں، اس وقت پشتوسی ڈی ڈرامے اورفلمیں اس سٹیج پر پہنچ چکے ہیں کہ کوئی بھی شخص اہل خانہ سمیت انہیں نہیں دیکھ سکتامگربدقسمتی کی یہ ہے کہ ہوٹلوں،دکانوں،گاڑیوں اوردیگرجگہوں پر دن رات سی ڈی اورٹی وی پر یہی ڈرامے اورٹیلی فلمیں چل رہے ہیں ۔ ان بے مقصدڈراموں میں بات بات پر کلاشنکوف اٹھانا ،فائرنگ کرنا،شراب وشباب کی محفلیں،عریاں ناچ وگانوں کے سوااورکچھ نہیں ہوتا جس سے نئی نسل بے راہ روی کا شکارہورہی ہے تو دوسری طرف معاشرہ میں بگاڑ پیداکرنے کابھی سب بن رہے ہیں، یہ پختون کلچرنہیں کیونکہ وہ تو ایک بہت باپردہ اورمہذب قوم ہے ،یہ کون لوگ ہیں جو ہماری ثقافت کے دشمن بنے ہوئے ہیں؟اورکس کے اشاروں پر وہ یہ سب کچھ کررہے ہیں؟سی ڈی ڈراموں میں پشتوکلچراورآج کل شاعری میں پشتوادب کی دھجیاں کیوں اڑائی جارہی ہیں۔۔؟پختونوں کے بدنامی کاسبب بننے والے پشتوکے یہ سی ڈی وسٹیج ڈرامے اورٹیلی فلمیں سوات اورپشاور سمیت صوبے کے دیگر علاقوں میں بآسانی دستیاب ہیں اوراس مقصدکیلئے بڑی بڑی مارکیٹیں قائم ہیں جہاں پر روزانہ سینکڑوں کی تعدادمیں یہ سی ڈی فروخت ہورہی ہیں، ایک طرف سی ڈی ڈراموں،سٹیج ڈراموں اورٹیلی فلموں کے ذریعے پشتون کلچرکا جنازہ نکالا جارہاہے مگر دوسری طرف حکومت نے اس پر آنکھیں بند کررکھی ہے اورحکومت کی اسی لاپرواہی کا نتیجہ ہے کہ پشتواداکاراوراداکارائیں بلاخوف وخطر ہماری ثقافت کو تباہ کررہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں بسنے والی تمام قومیں چاہئے پنجابی ہو،اردوبولنے والے ہو،ہندکواوریاکوہستانی ہوقابل احترام ہیں مگریہاں صرف پختون قوم کا اس لئے تذکرکیاجارہاہے کہ اس وقت اس کی ثقافت اورروایات کیخلاف سازشیں جاری ہیں تاہم اگرخدانخواستہ پاکستان میں بسنے والی کسی اورقوم کی ثقافت کے ساتھ اسی طرح کا گھناؤناکھیل شروع ہواتواس پر بھی ہمیں اتنادکھ ہوگا جتنا کہ پختون ثقافت کی تباہی پر ہورہاہے کیونکہ اس ملک میں بسنے والے لوگ الگ الگ اقوام نہیں بلکہ ایک ہی قوم ہے اورزندہ قوم ہے اس وجہ سے سب کا دکھ دردبھی ایک ہی ہے ۔ پختونوں کی دم توڑتی ثقافت کوسہارادینے کے سلسلے میں حکومت کومزیدغفلت اورلاپرواہی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے بلکہ پشتوسی دی ،سٹیج ڈرامے اورٹیلی فلمیں بنانے والے ہدایت کاروں،مصنفوں،اداکاروں اوراداکاراؤں سمیت ان تمام عناصر کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں جو کسی نہ کسی صورت میں اس صنعت سے وابستہ رہ کر پشتون ثقافت کی بدنامی کا سبب بن رہے ہیں جبکہ ساتھ ساتھ اب تک بننے والے سی ڈی ڈراموں ،ٹیلی فلموں اورسٹیج ڈراموں کو ضبط کرنے کا بھی انتظام کرے تاکہ یہ ثقافت مزید تباہی سے بچ سکے کیونکہ اس وقت یہ ثقافت آخری سانسیں لیتی محسوس ہورہی ہے اگراسے اب بھی نہ بچایاگیاتوبہت جلد ہمیں اپنی اس ثقافت کا جنازہ اپنے کاندھوں پراٹھانااورپچھلے زمانوں میں تباہ ہونے والی ثقافتوں کے قبرستان میں دفنانا پڑ ے گا،جاتے جاتے زیرنظر تحریر کی مناسبت سے ایک شعرنذرقارئین کرناچاہوں گا۔ دشمنو،ہاتھ اٹھاؤ کہ میں جیوں برسوں دوستوں نے میرے مرنے کی دعا مانگی ہے
1,057 total views, no views today


