کبل ، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے سینئر ممبر اور ممتاز قانون دان وقوم پرست رہنما سردار احمد خان یوسفزئی نے صوبائی حکومت اور آئی جی سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سوات میں مخصوص شخصیات سے بلا امتیاز پولیس سیکورٹی واپس لی جائے ، شخصیات کے بجائے سوات کے امن کو یقینی بنانے میں توانائی صرف کریں ، پولیس کے ساتھ اسپیشل برانچ ، اعلیٰ انٹیلی جنس فورسز اور اسپیشل فورس کے انتہائی پروفیشنل ہزاروں اہلکار ڈیوٹیاں انجام دے رہے ہیں لیکن بد قسمتی سے پولیس کی بھاری نفری سوات میں قیام امن کیلئے ڈیوٹیاں دینے کے بجائے مخصوص افراد کی سیکورٹی پر مامور ہیں جس کی وجہ سے پولیس کی مجموعی کارکردگی شدید متاثر ہورہی ہے ، انہوں نے کہا کہ سوات میں قیام امن کیلئے عوام کو خودساختہ جرگوں کے رحم وکرم پر چھوڑنے کے بجائے سول انتظامیہ عدلیہ اور سیکورٹی فورسز کے درمیان براہ راست رشتے کو مضبوط بنانا اشد ضروری ہے ، کیونکہ خودساختہ جرگے سوات کے عوام کے بنیادی انسانی حقوق پر غیر آئینی طور پر مسلط ہے ، انہوں نے مزید کہا کہ سوات کے عوام اپنی آئینی ذمہ داریاں اور بحیثیت شہری اپنے حقوق اور اصول جانتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ سوات کے عوام کے حقوق کیلئے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان اپنے تمام تر آئینی ذمہ داریاں پوری کررہے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ سوات میں صوبائی اور مرکزی حکومتیں ترقی کا روڈ میپ دیں اور محض نعروں پر عوام کو دھوکہ دینا بند کریں ۔
686 total views, no views today


