مینگورہ،مینگورہ شہر اور قریبی علاقوں میں سوئی گیس کی نہ ختم ہونے والی لوڈشیڈنگ شروع ‘گھریلو صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا‘ کھانا پکانے کے اوقات میں گیس کا تصور ناممکن ‘ میٹر لگانا بھی خواب بن گیا،بڑی سفارش اور بھاری رشوت کے بغیر نئے کنکشن اور میٹر کا حصول عام عوام کیلئے عذاب بن چکا ہے کئی کئی مرتبہ دفتر کے چکر لگانے کے باوجود عام صارفین کو نئے کنکشن اور میٹر کے کیلئے عملہ کے رحم و کرم پر ہے،مینگورہ شہر اور گردونواح کے علاقوں میں محکمہ سوئی گیس نے ظالمانہ لوڈشیڈنگ شروع کر دی ہے‘ پریشر تو پہلے سے کم تھا اب 17سے 18گھنٹے مسلسل گیس بندکرنا ان کا معمول بن چکا ہے۔ کھانا پکانے کے وقت تو گیس کا تصور ہی ناممکن ہے۔ سکول جاتے بچے ناشتہ کئے بغیر گھروں سے رخصت ہوتے ہے۔ احتجاج اور جلسے جلوس کے باوجود گیس انتظامیہ سوئی گیس کی فراہمی یقینی نہ بنا سکی۔ دوسری طرف سوات میں سیاسی مفادات کیلئے غریب عوام کو بھینٹ چڑھا یا جارہا ہے جن کوگوں کے پاس سفارش اور رشوت دینے کیلئے بھاری رقوم ہوتے ہیں ان کاکام مہینوں اور سالوں کے بجائے دنوں میں ہوتا ہے جبکہ جن لوگوں نے دو دو سال پہلے داخلے کیئے ہے وہ ابھی تک کنکشن اور میٹر کیلئے خوار ہورہے ہیں،مقامی ایم این اے بھی محکمہ سوئی گیس والوں کے اگے بے بس ہوگئے جلسوں میں دھاڑنے والا اپنے حلقے میں محکمہ سوئی گیس اور واپڈا والوں کے سامنے ڈھیر ہوجا تا ہے،وفاقی حکومت سوات میں کئی سالوں سے تعینات محکمہ کے افسران کو سوات سے تبدیل کرکے سواتی عوام کو نجات دلائے۔وفاق کے زیرانتظام محمکہ سوئی گیس سے سفارش کلچر کا خاتمہ پی ٹی ائی ممبران اسمبلی کے بس میں نہ ہونے کیوجہ سے عملہ من مانیوں میں مصروف ہے کئی سال پہلے داخلہ کرنے والے تاحال سوئی گیس کے نعمت سے مستفید نہ ہوسکے ۔عوام نے ممبران اسمبلی اور دیگر ذمہ داروں سے حال و احول کا مطالبہ کیا ہے۔
706 total views, no views today


