مینگورہ،صوبائی حکومت کی ایماء پر سوات میں مختلف اقدامات کے نتیجے میں بے روزگاری میں بے پناہ اضافہ ‘ معاشی قتل کا سلسلہ عروج پر ہے۔ تفصیلات کے مطابق صوبائی قبائلی علاقہ پاٹا کے مرکزی شہر سوات میں ہزاروں کی تعداد میں سلک انڈسٹری میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ برسرروزگار تھے۔ سوات کی یہ ترقی بڑے صوبوں کے حکمرانوں کو اچھی نظر نہیں آئی اور سوات کا معاشی قتل کر کے ہزاروں سلک انڈسٹری کو ختم کرکے لاکھوں کی تعداد میں کام کرنے والے مزدوروں کو بے روزگار کر دیا۔ اب جبکہ صوبائی حکومت کی ایماء پر سوات کے مرکزی شہر مینگورہ میں مختلف قسم کے گاڑیوں کا کاروبار کرنے والے افراد کا پہلے کٹ گاڑیوں کے نام پر کاروبار ختم کر دیا ۔ اور اب خدشہ ہے کہ چند دنوں کے بعد ان پر چھاپے مار کر اپنے قبضے میں کٹ گاڑیوں لیا جائیگا۔ اس کاروبار سے وابسطہ ہزاروں کی تعداد میں افراد کا کہنا ہے کہ یہ ہمارا معاشی قتل ہے۔ اور صوبائی حکومت وضلعی انتظامیہ کا اس سلسلے میں جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ کیونکہ سوات میں پہلے ہی سے بے روزگاری کی وجہ سے مختلف قسم کے خطرناک مسائل نے جنم لیا ہے۔ اور اسی طرح شہریوں کو بے روزگار کرنے کا سلسلہ جاری رہا تو اس کے نتائج انتہائی خطرناک ہونگے۔ صوبائی قبائلی علاقہ کو پہلے ہی سے حاصل شدہ مراعات کو انتہائی سائنٹفک انداز میں ایک ایک کرکے چھینا جارہا ہے۔ برائے نام شریعت کا اعلان کیا گیا ہے۔ مگر ابھی تک ایک بھی فیصلہ اس پر نہیں ہوا۔ بلکہ اس شریعت کے نام پر یہاں کے مراعات کو چھین لیا گیا ہے۔ اور 95نئے قوانین نافذ کی ہے۔ جس کی وجہ سے عام شہریوں میں لاوا ہی لاوا اندر پکھ رہا ہے۔ ہ
932 total views, no views today


