دیکھیں جی، سچ تویہ ہے کہ سرکار کا ہم سے اور ہمارا سرکار سے کوئی ’’سروکار‘‘ نہیں۔ تاہم، وہ اچھا کام کریں، ارادتاً کریں یا وارداتاً یا ’’بغض معاویہ‘‘ میں کریں اور ہم اس کی تعریف کریں، تو کسی کو کیا پرخاش؟ پچھلے دنوں حالیہ عوامی سرکار کی ایک کانفرنس بارے ریلیز کی گئی ’’پریس ریلیز‘‘پڑھی، تو سوچا کہ اس کی تفصیل آپ تک پہنچانے کا فریضہ فری میں ادا کیا جائے، تاکہ اس کشورِ حسین میں رہنے والوں کو علمی و فکری خوشی تو نصیب ہو۔ کشورِ حسین کے موجودہ خادمین کی جو خوبیاں ہیں، وہ ہوبہوپچھلی خادمین جیسی ہیں۔ لا ریب فیہ یعنی عوام میں بلا تفریق خوشیاں ’’تقسیم‘‘ یعنی ڈیوائیڈ کرنا، مارا ماری کو ’’ضرب‘‘ دینا، سکون ’’منفی‘‘ کرنا، ہاتھ کا میل ’’جمع‘‘ کرنا اورہماری ذمہ داری ہے، ان کاموں سے ’’جنتا‘‘ کو باخبر کرنا اور خوش ہونے کی ترغیب دینا۔ باقی رہے دورے شورے، دھرنے ورنے اور آپس میں جھگڑے جرگے، تو یہ تو محض قصے کہانیاں ہیں۔ جو ’’لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ۔‘‘ توبے خبروں کو خبر ہو کہ ’’غیر موجودہ‘‘ حکومت کے موجودہ ’’مویشیوں کے مشیر‘‘ نے سرکار کے حق میں منعقدہ ایک ’’نیشنل امیج بلڈنگ ایڈوکیسی کانفرنس‘‘ (این آئی بی اے سی) میں اعلان فرمایاہے کہ اُن کی حکومت اپنے ’’زیرِ تسلط و زیرِ غضب علاقہ جات‘‘ کی ترقی کے لیے ’’دوووور ۔ رس‘‘ اقدامات کر رہی ہے۔ ’’اس بلاغتِ بے جا پہ کوئی قبر سے اُٹھ نہ جائے اے مشیر۔‘‘ بے جا اس لیے کہ کیے گئے اقدام تو قدم بہ قدم، جا بہ جا خود چِلا رہے ہیں، منھ دکھائی دے رہے ہیں، دُہائی دے رہے ہیں کہ ’’ہم ہیں نا‘‘ اور ہمارا میڈیا اس کو ریفلیکٹ کرنے کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہا ہے، تو ایسے میں مشیرِ مویشیاں کو میدان گرمی کی تکلیف کرنے کی کیا ضرورت؟ اور’’دووور۔رس‘‘ اقدام کی ایڈوکیسی کی، کیا حاجت؟ بلاشبہ جیسے دور کے ڈھول سہانے ہوتے ہیں، اسی طرح ’’دوور کا رس‘‘ بڑا ’’ٹے سٹی‘‘ ہوتا ہے، جس سے عوام بلا ناغہ مستفید ہو سکتے ہیں۔ ہاں، جب ڈھول کا پول کھلے گا، تب مشیر وہ نہیں، کوئی اُن جیسا ہوگا۔ ہم بہ ذاتِ خود اس ’’خود ساختہ کانفرنس‘‘ میں موجود نہ تھے، لیکن خبر کی بنیاد پر آگے کا قصہ کچھ’ ’یوزوَل ویلیو ایڈیشن‘‘ کے ساتھ خود ہی ڈیزائن کرنے میں کیا قباحت’’ہے گا؟‘‘ صرف مشیرِ موصوف پر کیا موقوف، قیامِ پاکستان ہی سے ’’ایڈوکیسی‘‘ کا یہی ’’پری اسکرائبڈ‘‘ ڈیزائن چل رہا ’’ہے گا۔‘‘ تو فارمیٹ کے مطابق ’’این آئی بی اے سی‘‘ میں چائے کی ہلکی سی سپ لیتے مع پتلی ڈکار مارتے ہوئے مشیرِ موصوف نے یہ بھی انکشاف فرمایا ’’ہے گا‘‘’’کہ وہ مویشیوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو کبھی معاف نہیں کرے گا، اور یہ کہ وہ ان کے حقوقِ مخفی و بشری پر کوئی کمپرومائز نہیں کرے گا، چا ہے اس کے لیے ان کو مویشیوں کے مشیر کے عہدۂ جلیلہ سے ’’گلا خلاصی‘‘ کر کے گلیوں میں گلی ڈنڈا کھیلنے اور جھاڑو پھیرنے پر کیوں نہ مامور ہونا پڑے۔‘‘ یہ سن کر موقع پر موجود’ ’نا معلوم تالی مار‘‘ مارے خوشی کے دیر تک تالیاں مارتے رہے۔ ہم ابھی تک یہ بات نہ سمجھ سکے کہ معزز مہمانوں کے ’’چندری گل‘‘ سوری ’’چنگی گل‘ ‘سننے پر ’’تالی مار جنتا‘‘ اپنی ہتھیلیوں کو کیوں سزا دیتی ہے۔ اپنے کھوپڑے کو کھرپے، کدال یا کلہاڑے سے کیوں نہیں پھوڑتے کہ بندے کو اس تالی مار دھندے سے فراغت نصیب ہو جائے؟ خیر، تو تالیوں کے وقفے میں معاونِ خصوصی سے خفیہ مشورہ کرنے کے بعد مویشیوں کے مشیر یہ بھی ڈیسکلوز کرتا’’ہے گا‘‘ کہ ’’انھوں نے قلیل عرصہ میں اداروں میں کافی اصلاحات کی ہیں جس سے عوام کو ان کی دہلیز پر موجود ہٹی میں انصاف مفت میں فراہم ہونے کا سلسلہ تیزی سے زور پکڑتا جا رہا ’’ہے گا‘‘، اب تو خیبر پختون خوا میں جہاں عوام ماضی میں انصاف سونگھتے تھے، اب اس کو پیتے بھی ہیں، اس سے سالن بھی پکاتے ہیں۔ جیسے انصاف کڑائی قیمہ اور انصاف دال دلیہ بڑے ہِٹ جا رہے ہیں، اب تو دور دور کے مہمان ’ ’معدہ ازم ٹوورازم‘‘ کی جانب راغب ہو رہے ہیں اور ہم پرمہمان نواز کے بجائے انصاف نواز کا ٹھپہ لگنے والا ہے۔‘‘ (ریسپانس میں دیر تک تالیاں اور سرکار کے حق میں’’جب تک جنتا تنگ رہے گی، جنگ رہے گی جنگ رہے گی، جب تک بھوک و ننگ رہے گی، جنگ رہے گی جنگ رہے گی‘‘ والے نعر وں اور گانوں کا سونامی ملحوظِ خاطر رہا)۔ اب مشیر محترم سانس لیتا ’’ہے گا‘‘، اعتماد کی معراج پر چڑھتا ’’ہے گا‘‘، مینڈک کی طرح کشمیر دیکھتا ’’ہے گا‘‘ اور’ ’چنگی گال‘‘ کانٹی نیو کرتا ’’ہے گا‘‘۔’’تو بھائیو، کمال یہ ہے کہ عوام اب سانس لیتے ہیں، تو انصاف برآمد کرتے ہیں اور نکالتے ہیں، تو پھر بھی انصاف بر آمد کرتے ہیں، اس برآمدی عمل میں تیزی کی وجہ سے معاشی سرگرمیاں عروج پر پہنچ چکی ہیں (ہلکی تالیاں، جنتا والے ریکارڈڈ گانے کے لیے وقفہ اور پھر ریزیوم) ۔ بازاروں میں انصاف کے ٹریڈ نام سے اسٹورز کھل رہے ہیں۔ مثلاً حضرت انصاف علی خان کریانہ مرچنٹ، انصاف اسٹریٹ انصاف کدہ، انصاف گل میڈیکوز، مسٹرانصاف حمام مع دماغ مساج سنٹر، دی انصافیئن پبلک اسکول اینڈ کالج پرائیویٹ لمیٹڈ، انجمن انصاف پسند بنجمن سسٹرز، انصافی روزگار مارکہ اگربتی ٹرید مارک اَن رجسٹرڈ (نقالوں سے ہوش یار رہیں)، انصاف خان عادل تنہا قصائی، حلال گوشت سنٹر۔ یار لوگوں نے اپنے متوقع بچوں کے نام’’انصاف‘‘ سے منسلک کرنا شروع کر دیے ہیں اور ایسے ناموں کو ’’پہلے آئیں، پہلے پائیں‘‘ کے بیسز پر ریزرؤ کرنا شروع کیا ہے۔ مثلاً یہ نام پہلے سے بک ہیں۔ میاں انصاف علی خان منصف پال، چوہدری منصف الدین المعروف بے دین، پرویز انصاف شاہ گیلانی، ڈی لے رام ڈینائیڈ، انصاف سنگھ سرینگری (برائے سفید فام گورے، ہندو و سکھ کمیونٹی بالترتیب۔ سیاہ فام اور دیگر مینارٹیز کے لیے یہ نام شجرِ ممنوعہ ہیں)۔
نوبت بہ ای جا رسید کہ اب تو یہ خدشہ پیدا ہونے کا خدشہ محسوس ہورہا ہے کہ کہیں انصاف کی اتنی کھلی ڈھلی فراوانی سے عوام اُکتا نہ جائیں، وہ ناانصافی کی قلت پر اعتراض نہ کریں اوراس کے دوبارہ فروغ کا مطالبہ شروع نہ کریں۔‘‘
بہاروں کے قافلے کچھ دیر روک لو
ٓآتے ہیں ہم بھی پاؤں سے کانٹے نکال کر
دُعا کروائی نشست سے پہلے، مشیر مویشیاں نے ساتھ بیٹھے محکمہ ڈھور ڈنگر کے کرتے دھرتے کو بہ ذریعہ لاؤڈ اسپیکربھی تاکید کی اور میڈیا کے ذریعے بھی تاکید کی کہ اقدام بالا سے متعلق ’’غیر سوشل اے نیملز‘‘ کی آگاہی کے لیے ڈور ٹو ڈور مہم شروع کی جائے تاکہ’’سوشل اے نیمل‘‘ کی طرح وہ بھی اس لطیف بات سے کماحقہ لطف اندوز ہوسکے۔ انھوں نے عوام کے پُرزور اصرار پر مختلف علاقوں میں ’’ڈنگری انصاف اسکول‘‘ کھولنے کے احکامات بھی جاری کیے، جس میں ڈنگر مفت میں اور لوگ آن پیمنٹ داخلے کے مجاز ہوں گے۔ اس وقت سامعین گم سم اور ’’کاٹو تو لہو نہیں بدن میں‘‘ والی کیفیت میں اس لیے نہ تھے کہ ہر انکشاف کے بیچ والے وقفہ میں اُن کے جسم ڈانس سے ترترا رہے تھے اوریوں تالیاں بجا رہے تھے، گویا یہ ہاتھ صرف تالیاں بجانے کے عمل کے لیے عنایت کیے گئے ہیں۔ ’’اللہ نہ کرے زورِ تالیاں اور زیادہ‘‘۔ قیامت کے دن تالیاں بجاؤ پارٹی سے پوچھ گچھ ہو نہ ہو، اُن کے ہاتھوں سے ضرور ہونی چاہیے، آخران کو کرنے کے لیے اور کوئی کام نہ تھا، جو صرف اور صرف تالیاں بجانے پر ہی اکتفا کیا۔ آخر میں ککڑ کھلائی نشست کے بعد ایک ’’تالی مار شاملِ باجا‘‘ نے دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ مشیرِ میلہ مویشیاں کے درجات مزید بلند کریں اور اُن کو وزارت کا قلم دان عطا فرمائیں، تاکہ تالی ماروں کو فری میں ککڑ کھانے کے فریکوینٹ مواقع ملیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تالی ماروں اور شاملِ باجوں کو اس کانفرنس میں آنے اور تہہ کندھوں سے تالیاں بجانے کے بدلے پارٹی میں مناسب جگہ نصیب فرمائیں۔ تمام حاضرین نے باآوازِ بلند آمین اور مشیر نے ثمہ آمین کہہ کر ’’ا ین آئی بی اے سی‘‘ کے خاتمے کا اعلان کیا؟
باعثِ تحریر آنکہ اب ہم اپنے جلیل القدر، وجیہہ الجثہ اور قادر الکلام مشیر صاحب سے دست بستہ ایک التجا کرتے ہیں اور وہ یہ کہ اتنے بڑے بڑے اقدام کے بعد وہ سوات کے لیے مزیدبرآں اور کچھ نہ کریں، بس بہت ہو چکا۔ آخر ’’اور بھی لوگ ہیں پختون خوا میں سواتیوں کے سوا۔‘‘ بس ایک کرم کرلیں کہ جس طرح پختون خوا سلطنتِ پنجاب کا ہمسایہ ہونے کی حیثیت سے ’’ملحقہ علاقہ جات‘‘ کا درجہ رکھتا ہے۔ عین اسی طرح پختون خوا والے سوات کو صرف ملحقہ علاقہ جات کا اسٹیٹس دیں، تو اُن کی کرم نوازی ہوگی، اس طرح ان کے کندھوں سے اضافی بوجھ اُتر جائے گا اور وہ توجہ سے اپنے نئے پختون خواکو ترقی دے سکیں گے، لیکن یہ ترقی ’’دوور۔ رس‘‘ نہیں، ’’نزدیک رس‘‘ ہونی چاہیے۔
تنبیہ :۔ آپ کے ذہن میں لفظ ’’لائیو اسٹاک‘‘ کے لیے ’’مویشی‘‘ کے علاوہ کوئی اور مناسب لفظ موجود ہو، تو برائے کرم لفظ ’ ’مشیر‘‘ کے ساتھ وہ مستعمل اور لفظ’’مویشیاں‘‘ غیر مستعمل سمجھیں۔ علم اپنا اپنا۔
2,643 total views, no views today


