لفظ ’’ماں‘‘ ادا کرتے وقت دونوں ہونٹ ایک دوسرے سے پیوست ہوکر ایک دوسرے کا بوسہ لیتے ہیں۔ تب جاکر ’’ماں‘‘ کی ادائیگی ممکن ہوتی ہے۔
زبانوں پہ اگر غور کیا جائے، تو بہت سی ایسی زبانیں رائج ہیں کہ ’’ماں‘‘ کے لیے بولے جانے والے لفظ کا آغاز حرف ’’میم‘‘ سے ہوتا ہے۔ جیسے ماں، مادر، مما، مور وغیرہ۔
ماں کی عظمت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ لفظ محبت اور ممتا بھی ’’میم‘‘ ہی سے شروع ہوتے ہیں۔
اسی طرح لفظ محمد ؐ کا ابتدائی حرف ’’میم ہے، حتیٰ کہ ’’حرف ثانی‘‘ بھی ’’میم‘‘ ہے۔
ایک ’’ماں‘‘ کی محبت کا اندازہ بھلا کون لگا سکتا ہے، یقیناًبچے کے پاؤں میں چبھنے والے کانٹے کا درد ’’ماں‘‘ اپنے کلیجے میں محسوس کرتی ہے۔
’’ماں‘‘ کے قدموں میں اگر جنت ہے، تو اُس کی ممتا کوتو دیکھو کہ تمھارے قدموں میں اُسی ’’ماں‘‘ کا دل ہے۔ وہ تمھارے پاؤں کی چاپ پہ کان لگائے تمھاری آمد کی منتظر رہتی ہے۔
کچھ لوگ تنہا ہوتے ہوئے بھی خوش و خرم اور مطمئن رہتے ہیں۔ دراصل وہ اپنی ایک تصوراتی دنیا بسا کر فارغ وقت میں اُسے آباد کرلیتے ہیں۔
یہ تو ایک میم کی محبت کا والہانہ انداز ہے، جس نام میں دو میم ہوں، اُس ہستی مقدسؐ کی محبت، ہم دردی اور چاہت کا عالم کیا ہوگا۔
لفظ محمدؐ ادا کرتے وقت ہونٹ دو مرتبہ ایک دوسرے کا بوسہ لے کر الگ ہوتے ہیں، تو صدائے محمدؐ مرتب ہوتی ہے۔
ایک روایت مشہور ہے کہ کوئی شخص دھوپ میں بیٹھ کر برف بیچ رہا تھا۔ کچھ دیر بعد جب اُس نے غور کیا تو برف پگھل کر پانی ہوچکی تھی۔ اُسے بہت دکھ ہوا۔ وہ رونے لگا، چیخنے اور چلانے لگا۔ میں لٹ گیا، برباد ہوگیا، میرا سارا سرمایہ پانی بن کر بہہ گیا، ہائے میرا سرمایہ، ہائے میرا سرمایہ۔۔۔
ایک دیہاتی نے پہلی مرتبہ شہر جانے کا قصد کیا بستی والوں نے اُسے سمجھایا کہ شہر میں چور بھی ہوتے ہیں، ذرا دھیان رکھنا۔ دیہاتی نے اُنھیں مطمئن کیا اور شہر چلا گیا۔ وہ بڑی حیرت اور محویت سے بازار میں رکھی ہوئی سجی سجائی چیزیں دیکھتا رہا اور سیر کرتا رہا۔ اُس نے بکتی ہوئی ایک عجیب چیز کو دیکھا۔ لوگوں سے معلوم کرنے پہ پتہ چلا کہ یہ پانی ٹھنڈا کرنے والی چیز ہے جسے ’’برف‘‘ کہا جاتا ہے۔ دیہاتی نے بھی حسب توفیق، برف خرید لی اور واپس گاؤں جانے کی راہ لی۔ راستے میں اُسے جاننے والا ملا اُس نے برف زمین پر رکھ دی اور اُس سے باتوں میں مصروف ہوگیا۔ کچھ دیر بعد جب وہ شخص رخصت ہوا دیہاتی برف اُٹھانے کے لیے مڑا تو برف غائب تھی۔ وہ بہت پریشان ہوا۔ ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے اُسے خیال آیا کہ بستی والوں نے سچ ہی کہا تھا کہ شہر میں چور ہوتے ہیں، میرا برف بھی کوئی چور اُٹھا کر لے گیا۔
دیہاتی کی سوچ ایک محدود نقطے تک کام کررہی تھی۔ اُسے یہ معلوم نہ ہوسکاکہ اُس کی برف تو بے دھیانی میں کب کی پگھل چکی ہے اور اُسے خبر بھی نہ ہوئی۔ ذرا سی دیر میں اس ظالم وقت نے ایک سادہ لوح دیہاتی کا برف پانی میں بدل کر رکھ دیا۔
وقت نے اُسے بھی معاف نہ کیا جو اس سے قبل برف کو جانتا تک نہیں تھا۔
ایک دوست نے دوسرے سے پوچھا، کیا ہم بھی بوڑھے ہوجائیں گے؟ دوست نے جواب دیا اگر زندگی رہی، تو ضرور بوڑھے ہوجائیں گے۔ اُس نے دوبارہ پوچھا، وہ کس طرح؟ اُس نے جواب دیا، بچپن سے لے کر جوانی تک، کیا تمھیں پتہ چلا کہ کیسے بچپن سرک کر جوانی میں بدل گیا۔
وقت کے متعلق سوچتے ہوئے ایک عجیب طرح کے افسوس اور زیاں کا احساس ہوتا ہے۔ ایک بے نام سا دکھ گھیر لیتا ہے کہ وقت کیوں گزر جاتا ہے اور اگر گزر ہی جائے، تو پھر لوٹ کر دوبارہ کیوں نہیں آتا؟ وقت کیوں ہمیشہ بے وقت ہی گزرتا ہوا محسوس ہوتا ہے؟
عموماً وقت کے گزرجانے کے بعد ہی وقت کے گزر جانے کا احساس ہوتا ہے۔
وقت اپنے گزر جانے کے نشان ضرور چھوڑتا ہے۔
یہ وقت ہی تو ہے، جوآہستہ آہستہ ہمارے پاؤں کے نیچے سے زمین کھینچ کھینچ کر اچانک کسی گہرے کھڈے میں پٹخ دیتا ہے۔
تنہائی ایک بوجھل احساس کا نام ہے۔
تنہائی اختیار کرلینے اور تنہا رہ جانے میں بڑا فرق ہے۔ تنہائی اختیار کرلینا تکلیف دہ نہیں جب کہ تنہا رہ جانا انسان کو توڑ کر رکھ دیتا ہے۔
اگر خود انسان تنہا نہ رہنا چاہے تو وہ کبھی تنہا نہیں ہوسکتا اگر وہ خود سوچے کہ میں تنہا ہوں تو پھر وہ تنہا ہی ہے خواہ لاکھوں کروڑوں لوگوں کا ہجوم اُس کے گرد جمع کیوں نہ ہوجائے وہ اپنے آپ میں تنہا ہی ہوتا ہے۔
ایک طرف سمٹ کر اپنے ارد گرد خول بنا لینا تنہائی کی شدت میں مزید اضافے کا باعث بن جاتا ہے۔
776 total views, no views today


