امید کی ایک کرن نمودار ہوکر غائب ہو جاتی ہے۔ ویسے تو پورے ملک کے عوام کی زندگی میں کوئی خاطر خواہ خوش گوار تبدیلی نہیں آئی لیکن ہماری کوشش ہوگی کہ ہم ضلع شانگلہ کی حدود میں رہ کر ہی بات کریں۔ شانگلہ کے عوام سے بڑھ کر نہ کوئی محروم ہے اور نہ مظلوم۔ ہم فکری، نظر یاتی اور روایتی حوالے سے بیمار ہیں بلکہ یہ کہنا زیادہ بجا ہوگا کہ ہمیں بیمار رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انجینئر امیرمقام، حاجی سید فرین، حاجی عبدالمنعم، محمد رشاد، ڈاکٹر افسر الملک، انجینئر حمید اقبال، سابق سنیٹر مولانا راحت حسین، فضل اللہ پیر محمد خان، متوکل خان ایڈووکیٹ اور بہت سے دوسرے اپنے آپ کو صوبائی اور مرکزی سطح کے سیاست دان تصور کرتے ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں لیکن اس سے شانگلہ کے مفلوک الحال عوام کو کیا ملا؟
ملاکنڈ ڈویژن کے سیاسی حوالے سے زرخیز سرزمین شانگلہ بنیادی ضروریات اور سہولیات سے آج بھی اتنا ہی محروم ہے جیسا کہ یہ بیس سال پہلے تھا۔ مذکورہ بالا شخصیات میں ہر ایک کسی نہ کسی حوالے سے اقتدار کا حصہ رہی ہے، بلکہ ہمارے انجینئر امیر مقام تو مشرف دور میں لا محدود اختیارات کے مالک تھے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ انھوں نے کچھ کیا نہیں۔ کیا ہے، مگر اپنی حیثیت سے کم بلکہ بہت ہی کم۔
سال دو ہزار چودہ اب ختم ہونے کو ہے، لیکن شانگلہ کے مسائل اب بھی تشنہ تکمیل ہیں۔ ڈاکٹر عباد پانچ سال ضلعی ناظم رہے۔ ہمارے خیال میں اگر ڈاکٹر عباد ضلع ناظم نہ ہوتے، تو شانگلہ میں آج انجینئر صاحب کی یہ حیثیت نہ ہوتی اور اس کی وجوہات واضح ہیں۔ مرکز میں مصروفیت کی وجہ سے وہ حلقے کو وقت نہیں دے پا رہے تھے۔ تاہم ڈاکٹر عباد نے اس کمی کو احسن طریقے سے پورا کیا۔ مولانا راحت حسین نے بھی کافی کام کیا ہے بلکہ ایک بڑی سیاسی کا میابی حاصل کرتے ہوئے الپورئ تحصیل کی نظامت میں کامیابی حاصل کی۔ لیکن ہمارے لیے انتہائی قابل احترام ان کے بڑے بھائی طیب خان مولانا ہیں، لیکن وہ بھی عوام کی تو قعات پر پورا نہیں اترے۔ مذکورہ بالا اشخاص میں اگر کوئی اقتدار میں نہیں آیا، تو وہ متو کل خان ایڈووکیٹ ہیں۔ باقی بہ راہ راست یا بالواسطہ اقتدار میں رہے۔ جب کہ انجینئر امیرمقام، ڈاکٹر عباد، محمد رشاد اور حاجی عبدلمنعم آج بھی اقتدار میں ہیں۔پھر بھی شانگلہ کو شانگلہ کا حقیقی حق نہیں ملتا۔ عوام کے زیادہ تر مسائل صوبائی حکومت حل کر سکتی ہے۔ اس حوالے سے وزیر اعلیٰ کے مشیر حاجی عبدلمنعم پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہیں کہ اس حیثیت میں وہ ایک حلقے کے نہیں پورے صوبے کے نمائندہ ہیں اور حاجی منعم کے مضبوط کندھے یہ بوجھ اٹھانے کے قابل بھی ہیں۔ جس کو بھی شانگلہ میں سیاسی حوالے سے ذندہ رہنا ہے، اسے عوام کے مسائل حل کرنا ہوں گے۔ شانگلہ کے مسائل کیا ہیں؟ یہ مذکورہ بالا مقتدر اور غیر مقتدر شخصیات کو خوب معلوم ہے۔ ہمارے جنگلات کی اتنی بے دریغ کٹائی اور اسمگلنگ ہو رہی ہے کہ درد مند دل تو ہل جاتے ہیں اور یہ سب کچھ ہماری با اثر شخصیات کی پشت پناہی میں ہو رہا ہے۔ شانگلہ کا مواصلاتی نظام انتہائی ناقص اور جدید دور کے تقا ضوں کے بر عکس ہے۔ شانگلہ کے اکتالیس فی صد لوگ آج بھی پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں۔ ہمارے ساٹھ فی صد لوگ کول ماینوں میں مزدوری کر کے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں اور انھی کول ماینوں سے ہر سال شانگلہ کو لاشوں کے تحائف ہی ملتے ہیں۔ صوبائی حکومت کے اصلا حات کے باوجود شانگلہ میں تعلیم اور صحت کے شعبہ میں وہ تبدیلیاں نہیںآئیں جو صوبے کے دیگر اضلاع میں کسی نہ کسی حد تک آچکی ہیں۔ 2005ء کے زلزلہ اور 2010ء کے سیلاب میں تباہ شدہ اسکول اور صحت کے بنیادی مراکزآج بھی اس طرح پڑے ہوئے ہیں۔ اسکول میں استاد نہیں، اسپتال میں ڈاکٹر نہیں۔ کیا ہمارے قائدین نے کبھی اس پر بھی سوچنے کی زحمت گوارا کی ہے۔ مجھے یقین ہے ایسا کبھی نہیں ہوا ہوگا۔ ذاتی مفاد پر نظریں مرکوز رکھنے والوں کو عوامی مسائل کا خیال کبھی نہیں آتا۔ ہم اپنے بھائی بیٹے کے لیے ملازمت تو مانگتے ہیں، لیکن شانگلہ کے وسیع تر مفادات میں کوئی قدم سنجیدگی کے ساتھ نہیں اٹھاتے۔
شانگلہ والو! آپ کے مسایل کبھی حل نہیں ہوں گے کہ ہم اب بھی پائپ اور کھمبے کی سیاست کے گرد گھو متے ہیں اور ہم جیسے برائے فروخت لوگوں کی تقدیر کبھی نہیں بدلے گی۔
اصل موضوع کی طرف لوٹتے ہوئے یہ عرض کریں گے کہ شانگلہ کو تعمیر و ترقی اور عوام کوحقیقی حقوق کون دے گا؟ ایوان سے باہر رہنے والے تو ایسے غائب ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ جب کہ ایوان کے اندر قوم کی نمائندگی کے دعوے داروں نے ان سترہ مہینوں میں گراؤنڈ پر کیا کچھ دکھایا ہے؟ شانگلہ کے کسی مسئلہ پر ایوان میں کسی نے بات کرنے کی جسارت کی ہے؟ ایک قبائلی علاقے سے کول مائن سے غائب مزدوروں میں سولہ آج بھی لاپتہ ہیں۔ ان کے لوا حقین اس حد تک مایوس ہوچکے ہیں کہ اب یہ معاملہ سرد خانے کی نذر ہوچکا ہے۔ کاغذ کے چند ٹکڑوں پران کے لواحقین کے زخموں پر مرحم نہیں رکھا جاسکتا۔ ان کے گھر والوں کی نظریں آج بھی دروازہ پر ہوتی ہیں۔
یہ انتہائی ازیت ناک صورت حال ہے، مگر ہمارے لیے نہیں ان کے لیے جن کے پیاروں کو ان کی زندگی اور موت کے بارے میں کوئی علم نہیں۔ان کے دلوں میں تو جھانکا نہیں جا سکتا، لیکن ان کے چہروں پر خوف، اضطراب اور بے چینی واضح طور پر عیاں ہے۔ ہمارے عمائدین اور قائدین کو ان مسائل پر سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا۔برادری ازم اور قبائلی سیاست روزبہ روز دم توڑ رہی ہے۔ اب سیاسی مستقبل اسی کا ہوگاجو عوام دوست ہوگا۔
702 total views, no views today


