جولائی کی ایک انتہائی گرم دوپہر تھی۔ سورج آگ برسا رہا تھا۔ بدن کی حرارت کم کرنے کی خاطر میں اور میرا دوست زاہد سہراب خان چوک میں ایک ریڑھی بان کا تیار کردہ ٹھنڈا مشروب حلق سے اتار رہے تھے کہ اچانک دوست کی کال آئی۔ معلوم ہوا کہ ہوٹل کے نلکے کھلے رہ گئے ہیں اور پوری کی پوری بلڈنگ سمندر کا نظارہ پیش کررہی ہے۔ ہم ایک لمحہ ضائع کیے بنا ایک رکشے میں بیٹھ گئے اور ڈرائیور کو ہوٹل کی طرف اڑنے کا اشارہ کیا۔ چوں کہ منگورہ شہر کی سڑکوں کی ’’عجب ٹریفک کی غضب کہانی‘‘ سے تو آپ بہ خوبی واقف ہوں گے، اس لیے بندہ بیش تر کسی گاڑی میں گھسنے کی غلطی پر اپنے آپ کو برا بھلا ہی کہتا ہے۔ گاڑی کی نسبت پیدل چلنے میں ہی عافیت جانتا ہے۔
مجھے رکشہ ڈرائیور کو بھگانے کی ایک ترکیب سوجھی اور جلد ہی اپنے دوست سے مخاطب ہوکر کہا: ’’یار حوالدار صاحب، کیا قیامت بپا ہوئی ہے، جو اتنی جلدی میں ہو؟‘‘ اس نے میرا جواب رکشہ ڈرائیور کو حکم دیتے ہوئے دیا:’’ استاد اتنی رفتار لو کہ پلک جھپکتے میں ہم پیپلز چوک میں ہوں۔‘‘ حوالدار کا لفظ سننا تھا کہ استاد محترم ٹریفک کے تمام قانون اور اصولوں سے مستثنیٰ ہوگئے اور رکشہ کو راکٹ کی طرح اڑانے لگے۔ تیز رفتاری کی وجہ سے اچانک استاد محترم سے رکشہ بے قابو ہوگیا اور اس نے ایک دوسرے رکشے کو اس طرح ٹکر ماری کہ وہ سیدھا جاکر ایک دوکان میں گھس گیا، مگر استاد محترم تو اپنے آپ کو بادشاہ سمجھے ہوئے تھے۔ انھوں نے بس صرف پیچھے مڑ کر جاتے جاتے یہ جملہ ہوا کے ہاتھ بھیج دیا کہ ’’ہاں بھئی، ہمارے ساتھ تو حوالدار صاحب بیٹھے ہیں۔ ہم نہیں رکنے والے۔‘‘
بعد میں تو ہم گئے ہوٹل میں نلکا مرمت کرنے لیکن واپسی پر استاد محترم کی کس طرح تواضع کی گئی ہوگی، اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
قارئین کرام! آپ کے ذہن میں یہ سوال ضرور ابھرے گا کہیہ تو عام اور معمول کے واقعات ہیں، پھر اس کو کاغذ پر اتارنا چہ معنی دارد؟ لیکن اگر میں یہ کہوں، تو بے جا نہ ہوگا کہ اس طرح کے معمول کے واقعات میں بڑی منطقی بات چھپی ہوتی ہے۔ عرض کرتا چلوں کہ اس وقت رکشہ ڈرائیور اس بات سے بہ خوبی واقف تھا کہ’’ حوالدار‘‘ یعنی مملکت خداداد کا کوئی بھی سرکاری افسر صرف قانون بنانا جانتا ہے اور ہم عوام پر لاگو کرنا جانتا ہے۔ رہی بات اس پر عمل کرنے کی، تووہ صرف ہم عوام کے لیے ہے۔ خواص یعنی ’’سرکاری افسران یا جاگیرداران اور وڈیرہ گان‘‘ کی ڈکشنری میں ’’عمل‘‘ نام کا کوئی لفظ موجود ہی نہیں ہے۔
یہ واقعہ ہمیشہ مجھے اس وقت یاد آتا ہے، جب مجھے کسی سرکاری ادارے یا افسر کے درشن کرنے کا اتفاق ہوتا ہے۔ اسپتالوں میں ہم عوام لاغر و بے سہارا مریضوں کی شکل میں قطاروں میں اپنی باری کا انتظار کرتے کرتے بے ہوش ہوجاتے ہیں لیکن خواص تو ڈاکٹروں کو اپنے جسم میں عدم موجود امراض کو تلاشنے کے لیے ڈاکٹروں ہی کو اپنے انتظار میں کھڑا رکھتے ہیں۔تھانہ کچہری میں ہم عوام ناکردہ جرائم کی پاداش میں مہینوں چکر کاٹتے رہتے ہیں۔ لیکن خواص ہیں کہ وہ جرائم بھی ’’قانون‘‘ کے دائرے کے اند ر کرتے ہیں۔ کیوں کہ قانون کے خاردار تارکے دائرے ان کی حفاظت میں، ان کے گرد لپٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ پھر انصاف اور قانون کے تمام دروازے بند پاکر ہم عوام جب امید کی آخری کرن ’’عدالتوں‘‘ کا رخ کرکے انصاف اور رحم کی بھیک مانگنے جاتے ہیں، تو ہم عوام کی فریاد صرف فائل ہوتی ہے اور ان مصروف ترین اور باوقار اداروں کی گستاخی کی سزا ہم تاریخ پہ تاریخ کے نام پر بھگتتے رہتے ہیں۔ مال و دولت اور تھوڑی بہت جائیداد تک سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور بالآخر ہماری فائلیں یا تو ردی کی ٹوکری کی نذر ہوجاتی ہیں یا پھر کسی الماری کے تہ خانہ میں دیمک کی نذر ہوجاتی ہیں۔
یہ میں بہک کر کہاں نکل گیا۔ بات در اصل ہورہی تھی قانون اور انصاف کی، تو جب تک عوام و خواص کے لیے یکساں نظام قانون رائج نہ ہو، جب تک وی آئی پی کلچر کا خاتمہ نہ ہو، جب تک خان ازم ، ملک ازم، جاگیرداری، وڈیرہ راج کا خاتمہ نہ ہو، جب تک وی آئی پی کلچر کا خاتمہ نہ ہو، مستحکم اور منظم پاکستان کا خواب دیکھنا دیوانے کی بڑ کے سوا کچھ نہیں۔
پاکستان تحریک انصاف وی آئی پی کلچر کے خاتمے کا راگ تو الاپتی ہے اور کپتان صاحب بھی جلسے جلوسوں میں گلا پھاڑپھاڑ کر وی آئی کلچر کے خاتمے کے نعرے بلند کر رہا ہے، لیکن ان کے صوبۂ خیبر پختون خوا میں وی آئی پی کلچر جوں کا توں ہے ۔ ایک نجی ٹی وی چینل کی سروے رپورٹ میں پشاور کے نوے فی صد لوگوں نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ وی آئی پی کلچر میںآٹے میں نمک کے برابر تبدیلی نظر نہیں آرہی۔
آخر میں ایک بار پھر اپنے حکم رانوں اور سیاست دانوں سے ایک احمقانہ سی گزارش کرتا ہوں کہ اگر آپ واقعی وطن عزیز کے اداروں کے استحکام میں سنجیدہ ہیں اور آپ وطن عزیر کے اداروں کو منظم کرنے کے خواہش مند ہیں، اگر آپ ٹکڑوں میں بٹے اس ملک کو ایک پرچم کے سائے تلے دیکھنا چاہتے ہیں، اگر آپ دہشت گری اور انتقام کی آگ سے وطن عزیز کو آزاد کرانے چاہتے ہیں، تو عوام اور خواص کے بیچ کھنچی گئی لکیر مٹادیں۔ باقی فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے، ملک کو مستحکم کرنا ہے یا اپنی کرسی کو؟
*۔۔۔*۔۔۔*
746 total views, no views today


