سوات کی خوب صورت وادی اپنی تاریخ کے بد ترین دور سے گزر رہی ہے۔ یہ وہ تاریخی علاقہ ہے جو ہزاروں سال قبل بدھ مت کا اہم مرکز رہا ہے۔ چھٹی صدی ق م سے لے کر، جب یہ علاقہ ایرانی شہنشاہوں کی عظیم سلطنت کا ایک حصہ تھا، موجودہ دور تک سوات نے اہم انقلابات دیکھے ہیں۔ ڈھائی ہزار ق م میں آریائی نسل کے لوگ جب برصغیر میں داخل ہوئے، تو وہ اسی وادی سے ہوکر گزرے تھے۔ 326 ق م میں سکندر اعظم ایران کو فتح کرکے کابل کے راستے ہندوستان پر حملہ آور ہوا، تو وہ کونڑ افغانستان سے ہوتا ہوا وادئ سوات میں داخل ہوا۔ 100ء میں سوات میں بدھ مت عروج پر تھا۔ اس وقت سوات سلطنتِ گندھارا کا ایک اہم حصہ تھا اور اس پر راجہ کنشک کی حکم رانی تھی جس کا پایۂ تخت پشاور تھا۔ 403ء میں مشہور چینی سیاح اور بدھ مت کے مقدس مقامات کا زائر فاہین سوات آیا۔ 519ء میں ایک اور مشہور چینی سیاح سنگ یون کافرستان سے ہوتا ہوا سوات میں داخل ہوا۔ 630ء میں چین کا ایک تیسرا معروف سیاح، بدھ مذہب کا عالم اور زائر ہیون سانگ کابل سے ہوتا ہوا سوات وارد ہوا۔ چینی سیاحوں میں آخری سیاح وکنگ تھا جو 752ء میں سوات آیا۔ ان چینی سیاحوں نے اپنے اپنے سفرناموں اور یادداشتوں میں سوات کے اس وقت کے مذہبی، معاشی، تہذیبی اور ثقافتی حالات کے متعلق تفصیل سے لکھا ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت یہاں بدھ مت کا دور دورہ تھا اور یہاں کے لوگ کافی ترقی یافتہ اور خوش حال تھے۔
گیارھویں صدی عیسوی میں محمود غزنوی کی افواج باجوڑ کے راستے سوات میں داخل ہوئیں۔ غزنوی لشکرنے اس وقت کے راجہ گیرا نامی حکم ران کو شکست دے کر سرزمینِ سوات کو اسلام کی ابدی قندیل سے منور کیا۔ ایک طویل جنگ کے بعد 1515ء میں یوسف زئیوں نے سوات کے بادشاہ سلطان اویس کو تخت و تاج سے معزول کرکے سوات کے پرانے باشندوں کو مانسہرہ (ہزارہ) چلے جانے پر مجبور کر دیا۔ 1530ء میں یوسف زئیوں کے عظیم مقنن اور مصلح شیخ ملی نے ’’ویش‘‘ یعنی زمینوں کی تقسیم کا طریقہ رائج کیا اور یوسف زئ قبیلہ میں زمین کی تقسیم کا باقاعدہ عمل شروع ہوا جس کے تحت ہر دس سال بعد یوسف زئیوں کو اپنی رہائش اور علاقہ تبدیل کرنا پڑتا تھا۔ یہ طریقہ جدید ریاستِ سوات کے بانی میاں گل عبدالودود بادشاہ صاحب کے دور تک جاری رہا جسے بعد میں انھوں نے مستقل ویش کی صورت میں ختم کیا۔
1850ء تک سوات سیاسی طور پر کوئی منظم علاقہ نہیں تھا۔ اُس وقت اس کی حیثیت ایک قبائلی علاقہ کی سی تھی اور یہاں جدید معاشرے کے قوانین سے لوگ نابلد تھے۔ اسے پختو کا دور کہا جاتا تھا۔ بالادست طبقہ غریب طبقہ پر حاوی تھا۔ لوگ لاقانونیت اور معاشرتی افراتفری سے تنگ آچکے تھے۔ اس لیے ضرورت محسوس کی گئی کہ یہاں کوئی باقاعدہ حکومت قائم کی جائے۔ چناں چہ اس دور کے خوانین اور رؤسا کی مشاورت سے حضرت اخوند عبدالغفور (سیدو بابا) نے پیر بابا کی اولاد میں سے سید اکبر شاہ کو 1850ء میں سوات کی پہلی شرعی حکومت کا امیر منتخب کیا۔ 11 مئی 1857ء میں ان کی وفات کے بعد سوات پھر سیاسی افراتفری کا شکار ہوا۔ 1876ء میں اخوند صاحب (سیدو بابا) وفات پاگئے۔ 1887ء میں سیدو بابا کے بڑے بیٹے میاں گل عبدالحنان نے ریاست بنانے کی کوشش کی لیکن وہ کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کرسکے۔ 1895ء اور 1897ء میں انگریزوں نے ملاکنڈ کے راستے سوات پر دو الگ الگ حملے کیے مگر سوات کے بہادر عوام نے ان کو پسپا ہونے پر مجبور کردیا۔ ان معرکوں میں دیر، باجوڑ، بونیر اور موجودہ ملاکنڈ ایجنسی کے لوگ بھی شامل تھے۔
1914ء میں مختلف قبائل کے مشترکہ جرگہ میں سیدو بابا کے پوتے میاں گل عبدالودود کو مقامی حکومت بنانے کی دعوت دی گئی لیکن جب انھوں نے بوجوہ یہ دعوت قبول نہ کی، تو جرگہ نے ریاستِ امب سے تعلق رکھنے والے سید عبدالجبار شاہ نامی شخص کو حکم ران بنایا۔ اسی جرگہ نے بعد ازاں 1917ء میں عبد الجبار شاہ کو معزول کرکے علاقہ بدر کردیا اور میاں گل عبدالودود(بادشاہ صاحب) کو اپنی نوزائیدہ ریاست کے تخت پر بٹھایا۔ 1917ء سے 1926ء تک اندرونی طور پر ریاستِ سوات کی تشکیل و تعمیر اور اختیارات کے استحکام کے لیے مؤثر کوششیں شروع کی گئیں۔ سڑکیں، ٹیلی فون کانظام اور قلعہ جات وغیرہ بنائے گئے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ریاست کی حدود وسعت اختیار کرتی گئیں اور ریاستی کردار مجموعی طور پر نہایت مؤثر اور مفید ثابت ہوتا رہا۔ برطانوی حکومت کی طرف سے رسمی طور پرریاست سوات کو 1924ء میں تسلیم کیا گیا اور میاں گل عبدالودود کی حکم رانِ سوات کی حیثیت سے تخت نشینی عمل میں لائی گئی۔
12 دسمبر 1949ء کو میاں گل عبدالودود نے عنانِ حکومت اپنے فرزند شہزادہ محمد عبدالحق جہاں زیب (والئی سوات) کو سونپ دیں۔ انھوں نے سوات کو ایک جدید اور ترقی یافتہ ریاست بنانے کی پوری کوشش کی۔ انھوں نے ہر علاقہ میں ہسپتال قائم کیے۔ پورے سوات میں اسکولوں اور کالجوں کا جال پھیلادیا۔ جگہ جگہ پل بنائے اور ہر مقام تک پختہ سڑکیں تعمیر کیں۔ غرض والئی سوات نے ریاست کی تعمیر و ترقی میں ایک ناقابل فراموش ا ور زندۂ جاوید کردار ادا کیا۔ مجموعی طور پر ریاستِ سوات کا دور ہر حوالے سے ایک مثالی دور تھا جس میں قانون کی بالادستی قائم تھی اور سوات کے عوام کو بنیادی سہولتوں کے ساتھ ساتھ حقیقی انصاف کا نظام فراہم کیا گیا تھا۔ 28 جولائی 1969ء میں ریاست سوات کو پاکستان میں ایک ضلع کی حیثیت سے ضم کردیا گیا اور یہاں باقاعدہ طور پر ڈپٹی کمشنر اور دیگر سرکاری انتظامی اہل کاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی۔
پاکستان میں ادغام کے بعد اہل سوات کو امید تھی کہ اب سوات میں نہ صرف شخصی آزادی ہوگی بلکہ حکومت پاکستان اسے مزید ترقی و خوش حالی سے ہم کنار کرے گی لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان کی ہر حکومت نے سوات کو نظر انداز کیے رکھا۔ سوات اپنی خوب صورتی، شادابی اور حسین قدرتی مناظر کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے۔ قدرت نے اسے تاریخی اور تہذیبی عظمت بھی عطا کی ہے لیکن حکومت نے غیرمعمولی طور پر اس اہم سیاحتی اور قدیم تاریخی علاقے کو جدید سیاحتی سہولتوں سے آراستہ کرنے کی کو ئی سنجیدہ کوشش نہیں کی جس کی وجہ سے یہاں کے عوام میں مایوسی پھیلتی گئی۔ عدالتوں میں عوام کو انصاف سے محروم رکھا گیا اور یہاں پاٹا ریگولیشن کے نام سے انتظامی اُمور چلائے جانے لگے جس میں انتظامیہ اورپولیس کو بہت زیادہ اختیارات حاصل تھے۔ عوامی جدوجہد کے نتیجے میں جب 12 فروری 1992ء کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم سے پاٹا ریگولیشن کا خاتمہ کیا گیا، تو سوات میں ایک قانونی خلا پیدا ہوا۔
ملاکنڈ ڈویژن میں نفاذِ شریعت کے لیے مولانا صوفی محمد نے 18 جولائی 1989ء میں ضلع دیر میں تحریک نفاذِ شریعتِ محمدیؐ کے نام سے ایک تنظیم قائم کی، جو فعال انداز میں نفاذِ شریعت کے لیے متحرک رہی۔ اس تحریک کے زیادہ تر جلسے سوات میں ہوتے تھے۔ جب پاٹا ریگولیشن کے خاتمہ کے بعد ملاکنڈ ڈویژن میں قانونی خلا پیدا ہوا، تو مولانا صوفی محمد نے نفاذِ شریعت کے ذریعے اس خلا کو پُر کرنے کے سلسلے میں اپنی تحریک میں مزید تیزی پیدا کی۔ اس سلسلے میں تحریک کے سرگرم کارکنوں نے 2 نومبر 1994ء میں ضلعی عدالتوں اور سیدو شریف ایئرپورٹ کواپنے قبضہ میں لے کر پورے سوات میں حکومت کی عمل داری عملاً ختم کردی لیکن اس وقت حکومت نے حکمت سے کام لیا اور ریاست کے خلاف یہ بغاوت شریعہ ریگولیشن 1994ء، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور فرنٹیئر کور کی مدد سے ختم کردی گئی۔ بہتر حکمت عملی کی وجہ سے اس میں کوئی بڑی خوں ریزی نہ ہوئی۔
9/11 کے بعد جب امریکا نے افغانستان پر حملہ کیا تو مولانا صوفی محمد طالبان کی مدد کے لیے اپنے دس ہزار ساتھیوں کے ساتھ باجوڑ کے راستے امریکا کے خلاف جہاد کے لیے افغانستان چلے گئے لیکن عسکری تربیت اور کوئی باقاعدہ منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے تحریک نفاذِ شریعت محمدی کے کارکن یا تو قتل کیے گئے، یا انھیں گرفتار کرلیا گیا اور جو وہاں سے زندہ بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے انھیں پاکستان واپس آتے ہوئے 16 نومبر 2001ء کومولانا صوفی محمد سمیت پولی ٹیکل حکام نے گرفتار کرلیا جس کے بعد انھیں ڈیرہ اسماعیل خان جیل میں رکھا گیا۔ مولانا صوفی محمد کے داماد اور سوات میں تحریک طالبان کے سربراہ ملا فضل اللہ کو بھی افغانستان سے واپسی کے بعد ان کے ساتھ گرفتار کرلیا گیا تھا۔ 12 جنوری 2002ء میں حکومت نے ’’تحریک نفاذِ شریعت محمدیؐ‘‘ پر پابندی لگا دی۔ 16 نومبر 2007ء کو مولانا صوفی محمد کو اے این پی کی حکومت نے رہا کردیا۔ (جاری ہے)
1,732 total views, no views today


