چند روز قبل شام کو آفس میں نیوز میل کرنے سے فراغت ملنے ہی والی تھی کہ اچانک فون پر اطلاع ملی کہ پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق ناظم فضل حیات چٹان کو نامعلوم افراد نے گولی ماردی ہے اور انھیں شدید زخمی حالت میں سیدو اسپتال پہنچایا گیا ہے۔ وہ بعد میں شہادت کے مرتبہ پر فائز ہوگئے اور میں اسٹوری فائل کرنے اور اسپتال سے فوٹیج حاصل کرنے کے انتظام میں لگ گیا۔ اس دھکم پیل میں پتہ ہی نہیں چلا کہ وقت کیسے گزر گیا۔واقعہ کے بعد پولیس اور سیکورٹی فورسز کی بڑی تعداد جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور سرچ آپریشن کا آغاز کیا گیا۔ اسی اثناء میں مینگورہ فورس کمانڈر بریگیڈئر محمد عامر اور کمانڈ نگ آفیسر سکندر چوہدری ’’شہید چٹان‘‘ کے گھر پہنچ گئے اور ان کے لواحقین سے تعزیت کی۔ جنازہ میں مینگورہ کمانڈنگ آفیسر کرنل سکندر نے شہید چٹان کی قبر پر قسم کھائی کہ وہ قاتلوں کو قانون کے کٹہرے میں لاکر دم لیں گے، جس پر مقامی عمائدین اور ان کے ورثاء نے اطمینان کا اظہار کیا۔ شہید چٹان بلاشبہ مینگورہ شہر کی مقبول ترین شخصیت تھے۔ ان کو مقامی لوگوں نے صرف ان کی قربانیوں اور خدمت کی وجہ سے دو بار قمبر کا ناظم منتخب کیا۔ انھوں نے ان ادوار میں علاقے کے عوام کی جو خدمت کی، اس کا اندازہ ان کے جنازہ سے بہ خوبی لگایا جا سکتا ہے کہ والئی سوات کے بعد سوات کی تاریخ کا یہ سب سے بڑا جنازہ اور فاتحہ تھا۔ لوگ دھاڑیں مار مار کر روتے رہے جیسے ان کے گھر کا ہی کوئی فرد ان سے بچھڑ گیا ہو۔آپ سوات کے ہر گھر غمی خوشی میں سب سے پہلے پہنچنے والے شخص تھے۔ جب بھی ہماری ملاقات ہوتی، تو ان کے لبوں پر صرف ایک بات ہوتی کہ آپ اور فیاض ظفر نے کب کھانے پر آنا ہے؟ ہر بار وہ قمبر والی پہاڑی کی چوٹی پر آنے کی دعوت دیتے اور ہم ان کو ہنسی مذاق میں یہ کہہ کر ٹال دیتے کہ گھر تیار ہونے دیں، تب ہم آئیں گے۔ ہم انھیں کہتے کہ ہم بھیڑ کھائیں گے اور وہ ہر بار جواباً کہتے کہ بھیڑ تیار کھڑا ہے۔ صرف آپ لوگوں کی آنے کی دیر ہے۔ لیکن شاید ہمارا ایک ساتھ رات گزارنا ہماری قسمت میں نہیں لکھا تھا۔ انھیں بھی اللہ تعالی نے شہادت کی ایسی موت دی جس کے لیے ایک دنیا دل میں حسرت لیے بیٹھی ہے۔
میں اکثر اپنے ساتھ یوں ہی سوچتا رہتا ہوں کہ اس موت کا کیا فائدہ جس پر کوئی آنسو نہ بہائے۔ ہر روز کتنے لوگ حادثاتی یا اتفاقی موت مرتے ہیں، ہے کوئی انھیں یاد کرنے والا؟ میری ہر نماز میں ایک ہی دعا ہوتی ہے کہ مجھے بھی شہادت ہی کی موت ملے، مگر مجھے بھی کچھ علم نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری موت کس طرح لکھی ہے۔
شہید چٹان کے ایک قریبی دوست کے مطابق امن کمیٹی کے رکن بخت زرین، جنھیں شہید چٹان کے دو روز بعد شہید کیا گیا، چٹان شہید کے جنازے میں انھوں نے خواہش ظاہر کی تھی اور دعا کی تھی کہ یا اللہ مجھے بھی چٹان کی طرح شہادت کی موت عطا فرما۔ یوں اللہ تعالی نے ان کی دعا قبول کرلی اور انھیں بھی شہادت کی موت نصیب ہوئی جو کہ ہر مسلمان کی خواہش ہے۔ موت ہو تو شہید چٹان جیسی جنھیں پورے فوجی اور سرکاری اعزاز کے ساتھ دفنایا گیا جس کے لیے ایک دنیا ترستی ہے۔ شہید چٹان کو یہ عزت ان کی فوج کے لیے قربانیوں کی بہ دولت ملی۔ شاید ہی ایسی عزت کسی سول شخصیت کو ملی ہو۔ انھوں نے یہاں نام نہاد شخصیات کی طرح ایسی عزت کی سفارش بھی نہیں کی تھی۔ انھوں نے کسی قسم کا ایوارڈ مانگا تھا اور نہ اس کے لیے کسی کو درخواستیں ہی دی تھیں۔ اس کے باوجود اللہ تعالی نے انھیں اتنے بڑے اعزاز سے نوازا۔ یہاں ذکر چھیڑنا چاہیے ان قاتلوں کا جو امن کی بحالی کے بعد سوات کے نام ور لوگوں کو ٹارگٹ بنا رہے ہیں۔ اس کے بارے میں کافی خدشات عوامی دلوں میں پائے جاتے ہیں کہ قاتل کون ہیں؟ ان کو کیوں نہیں پکڑا جاتا؟ ان کا تعلق کس گروہ سے ہے اور یہ لوگ کیوں یہاں امن کے درپے ہیں؟ کوئی کہتا ہے کہ یہ ایجنسیوں کے لوگ ہیں، تو کوئی طالب کا نام لیتا ہے۔ سب اندھیرے میں ہیں۔ لیکن سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ دن دیہاڑے بھرے بازار میں بخت زرین کو قتل کیا جاتا ہے، لوگ موجود ہیں، بازار کھلے ہیں اور اس کے باوجود کوئی منھ کھولنے کو تیار نہیں۔ کوئی ملزمان کا خاکہ بتانے کو تیار نہیں، تو ان ملزمان کو کیسے پکڑا جاسکتا ہے؟
سیکورٹی ذرائع کے مطابق مینگورہ شہر میں ٹارگٹ کلنگ گروپ کے سات افراد کو پہلے ہی سے گرفتار کیا جا چکا ہے اور مزید کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، تو کیا ان کو عوام کے سامنے پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے خلاف مؤثر گواہ اور ثبوت عدالتوں کو فراہم کرکے ان کو کیفر کردار تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔ اور اگر بخت زمین کے قتل کے وقت اتنے لوگ موجود تھے، تو ان میں سے کسی نے ان حملہ آوروں کو مارا کیوں نہیں؟ جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ کون لوگ ہیں؟ اس سے خدشات کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے سوات کے عوام قاتلوں کی گرفتاری کے ساتھ ساتھ عوام میں شعور اجاگر کرنے کے مہم اور ساتھ بھرپور کارروائی کامطالبہ کرتے ہیں۔ کیوں کہ اس وقت پورے ملک کے پر امن ترین ضلع کے دامن پر صرف اور صرف ٹارگٹ کلنگ بدنما داغ ہے ۔
766 total views, no views today


