قارئین کرام! سرزمین سوات کو میں نے کبھی ماں سے کم نہیں سمجھا۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے یہاں ہی روزی روٹی کمانے کو ترجیح دی اور یہاں سے باہر ملک میں اور بیرونی ملک یعنی امریکہ میں ملنے والے جاب کو بھی رجیکٹ کیا۔ سوات پر جو حالات گزرے اس کے بعد تو سوات سے میرا جانا ممکن ہی نہیں تھا۔ کیوں کہ باقی دوستوں کی طرح سوات میں دوبارہ قیام امن کی کوششوں اور لوگوں کو یہ باور کرانا کہ سوات میں اب امن ہے، کے لیے میں بھی اپنا کردار ادا کرنے کی ادنیٰ سی کوشش کرنا تھی۔ آئی ڈی پیز کی واپسی اور سوات میں امن کی بہ حالی کے بعد یہاں اگر جشن سوات میلہ ہو یا اسکی گالہ وغیرہ۔ اس کو میڈیا پر ہائی لائٹ کرنے میں باقی ساتھیوں کی طرح میں نے بھی تھوڑی بہت کوشش کی اور کرتا رہوں گا۔
قارئین کرام! سال 2012ء میں میرے ذہن میں ایک خیال آیا کہ کیوں نہ سوات میں پشتو کا عالمی مشاعرہ کیا جائے اور مختلف ممالک اور پاکستان کے مختلف شہروں سے پشتو کے معروف شعراء سوات آجائیں اور یہاں اپنا کلام پیش کریں۔ یوں ایک طرف تو سوات کے باذوق لوگوں کو اُن شعراء کو سننے کا موقع میسر آئے گا اور دوسرا یہ کہ میڈیا پر کوریج ملنے کے بعد لوگوں کو سوات میں امن کا یقین ہو جائے گا ۔ اس بارے میں، مَیں نے اپنے سواستو آرٹ اینڈ کلچرل ایسو سی ایشن کے دوستوں عثمان اولس یار، عطاء اللہ جان اور دیگر سے بات کی۔ انھوں نے اس کو احسن اقدام قرار دیا لیکن بات پھر بجٹ کی آڑے آتی تھی۔ بہ ہر حال میں نے دوستوں سے کہا کہ اس کے لیے میں کوشش کر رہا ہوں۔ اس سلسلے میں، مَیں نے سابق ڈی سی او سوات کامران خان کے ساتھ بھی بات کی۔ پارسا ، پی ڈی ایم اے کے سابق ڈائریکٹر جنرل شکیل قادر صاحب سے بھی بات کی۔ انھوں نے تو یقین دہانی کرائی تھی لیکن کچھ وجوہات کی بناء پر مشاعرہ کے لیے فنڈ دستیاب نہ ہوسکا۔ رواں سال اگست میں ڈپٹی کمشنر سوات محمود اسلم وزیر صاحب کے ساتھ ایک نشست میں موقع ملنے پر میں نے سوات میں عالمی پشتو مشاعرہ کی بات کی۔ میری تجویزسے انھوں نے اتفاق کیا۔ انھوں نے میرے اس خیال کو سراہا اور وعدہ کیا کہ اس کے لیے وہ پارسا پی ڈی ایم اے سے بات کریں گے۔ کچھ دن گزرنے کے بعد سوات میں پارسا پی ڈی ایم اے نے ’’سوات اسپورٹس فیسٹول‘‘ کا اہتمام کیا تھا۔ افتتاحی تقریب میں پارسا پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل طاہر اورکزئی صاحب مہمان خصوصی تھے۔ مذکورہ تقریب میں، مَیں بھی مدعو تھا۔ ڈی سی سوات نے اس سے ایک دن قبل مجھے فون کرے تقریب میں لازمی شرکت کرنے کا کہا۔ تقریب کے آغاز پر اسٹیج پر مہمان خصوصی طاہر اورکزئی اور ان کی دائیں جانب نشست پر ڈی سی سوات محمود اسلم وزیر بیٹھے تھے۔ میں دور بیٹھا تھا کہ ڈی سی سوات نے مجھے بلا کر طاہر اورکزئی کی بائیں جانب والی نشست پر بیٹھنے کا کہا۔ ان سے میرا تعارف کرایا اور ان کو کہا کہ فیاض ظفر کے ساتھ ایک آئیڈیا ہے، جو وہ خود آپ کے ساتھ شیئر کریں گے۔ میں نے ڈی جی پارسا کو عالمی مشاعرہ کے لیے جیسے ہی کہا تو انھوں نے اس تجویز سے اتفاق کیا اور اسے سراہابھی۔ انھوں نے ڈی سی سوات کو کہا کہ آپ اس بارے مجھے ایک لیٹر بھیج دیں جس کے بعد میں اس بارے میں ’’ یو این ڈی پی‘‘ سے بات کروں گا۔ اس کے چند دن بعد 28 اگست2014ء کو ڈی سوات نے مجھے فون کرکے اپنے دفتر بلایا اور کہا کہ آپ مجھے ایک لیٹر ابھی لکھیں۔ میں نے اس وقت ایک سادہ کاغذ پر ڈپٹی کمشنر کے نام سواستو آرٹ اینڈ کلچرل ایسو سی ایشن کی جانب سے بعنوان ’’ درخواست برائے عالمی پشتو مشاعرہ‘‘ایک خط لکھا اور آخر میں دستخط کرکے ان کو دیا۔ انھوں نے اس وقت پروگرام منیجر پارسا کے نام ایک خط نمبر 24266DA مؤرخہ 28/08/2014 لکھا اور خط کے اوپر ’’IMMEDIATE‘‘ رقم کیا۔ اس میں اس مشاعرہ کے لیے پچیس لاکھ روپے کا مطالبہ کیا، جس کے اگلے دن مذکورہ مشاعرہ کے لیے یو این ڈی پی نے فنڈز کی منظوری دی لیکن یہ طے نہیں ہوا کہ انھوں نے کتنا فنڈ منظور کیا ہے۔ منظوری کے بعد ڈپٹی کمشنر نے مجھے فون کرکے مبارک باد دی اور کہا کہ ٓاپ کی وجہ سے سوات میں عالمی پشتو مشاعرے کا انعقاد ہوگا۔ اس کے لیے انھوں نے کمیٹی بھی تشکیل دی۔ میں نے ڈپٹی کمشنر صاحب کو کہا کہ مشاعرے کے انتظامات کے بارے میں، مَیں اور میرے سواستو کے ساتھی آپ کے ساتھ ہر ممکن اور بغیر کسی لالچ کے تعاون کریں گے لیکن پیسوں کے حساب میں ہم آپ کے ساتھ نہیں ہوں گے۔ رقم کے لین دین کا معاملہ آپ خود کریں۔ اس حوالے سے انھوں نے کہا کہ رقم والا تمام کام پارسا والے خود کریں گے۔ ابتدائی خاکہ میں، مَیں نے ان کو بتایا کہ ہم اس میں افغانستان، بلوچستان اور دیگر شہروں سے معروف اور اچھے شعراء کو بلائیں گے۔ پارسا کی جانب سے مجھ سے رابطہ ہوتا رہا لیکن مجھے ان شعرا کے بارے میں نہیں بتایا گیا جس کی لسٹ ہم نے مشترکہ طور پر فائنل کرنا تھی۔ انتظامات کے بارے میں بھی زبانی رابطے تھے لیکن جب یو این ڈی پی کی جانب سے پندرہ لاکھ روپے منظور ہوئے۔ رقم پارسا سوات کے پاس پہنچی تو پھر
اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی
جس مشاعرے کے انعقاد کے لیے میں نے دن رات کوشش کی تھی، فنڈ ملنے کے بعد وہ ہونے والا مشاعرہ ’’ہائی جیک‘‘ ہوگیا۔ مجھ سے رابطے بھی ختم ہوئے اور جس عالمی مشاعرے کا اہتمام میں نے کیا تھا، اس میں اکیس نومبر کو ودودیہ ہال میں بہ طور میزبان نہیں بلکہ ایک رپورٹر گیا۔
قارئین کرام! سوات میں بہترین ساونڈ سسٹم موجود ہے لیکن ہال میں باہر سے ساؤنڈ سسٹم والے کو بلایا گیا تھا۔ ساونڈ سسٹم خراب تھا کسی کو شعراء کے کلام کی سمجھ نہیں آرہی تھی۔ ہال میں بچوں اور خاص کر حکومتی پارٹی کے نوجوانوں کو بلایا گیا تھا جو مسلسل ’’گو نواز گو‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے ہال میں منچلے نوجوان سیٹیاں مارتے رہے۔ شعرائے کرام کو ’’واہ واہ‘‘ اور تالیوں کے بجائے سیٹیوں سے داد دی جا رہی تھی۔ افغانستان اور بلوچستان اور دیگر علاقوں سے چند معروف شعراء کے علاوہ یار دوستوں کو دعوت دی گئی تھی۔ آنے والے سنجیدہ شعراء اپنے آنے پر پشیماں تھے۔ ہال کی آخری نشستوں پربیٹھ کر میں رپورٹنگ تو کر رہا تھا لیکن مجھے رونا آگیا کہ کیا جس عالمی پشتو مشاعرہ کے لیے میں نے جدوجہد کی، اس کے لیے فنڈ منظور کیا، بار بار ڈپٹی کمشنر سوات صاحب سے میٹنگ کی اوران کی کوششوں کی وجہ سے میں جس مشاعرہ کو کرنے میں کامیاب ہوا، کیا یہ وہ مشاعرہ تھا؟ یہ تو مشاعرہ سے زیادہ منچلوں کا اسٹیج شو یا سنیما میں پشتو فلم دکھائی دے رہا تھا۔ پھر مجھ سے رہا نہ گیا۔ میں نے ڈپٹی کمشنر سوات کے موبائل نمبر پر ایک میسج میں یہ ٹپہ
د لیونئی ارمان پورہ شو
پہ لارہ زی پہ کانڑو ولی مزارونہ
ٹیکسٹ کیا اور ہال سے اٹھ کر چلا گیا۔ راستے میں سوچتا رہا کہ عالمی مشاعرہ کے نام پر ہم نے شاعروں کی جو بے عزتی کی، کا ش! میں اس مشاعرہ کو منعقد کرنے کے لیے اپنی کبھی کوشش نہ کرتا۔
1,002 total views, no views today


