2003ء میں ملا فضل اللہ نے سوات کے ایک نواحی گاؤں مام ڈھیرئ میں ایف ایم ریڈیو کا آغاز کیا۔ 2004 ء میں اس ریڈیو کے تحت انھوں نے بچوں کی پولیو مہم اور لڑکیوں کی تعلیم کی مخالفت شروع کی۔ 2006ء میں ملا فضل اللہ نے اپنے معتقدین کو الیکٹرانک اور موسیقی کے آلات مثلاً ٹیلی وژن، وی سی آر اور سی ڈی پلیئر وغیرہ جلانے کی ترغیب دی۔ بڑی تعداد میں لوگ اپنے ان آلات کو اجتماعی طور پر جلانے لگے۔ مقامی انتظامیہ نے اسی سال ملا فضل اللہ کے ایف ایم ریڈیو کا نوٹس لیا اور اس کے خلاف کارروائی کی لیکن مقامی انتظامیہ کو اس سلسلے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ انتظامیہ کو ملا فضل اللہ کے خلاف فیصلہ کن اقدام نہ اٹھانے کا حکم اس وقت کی مرکزی حکومت کی طرف سے دیا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک پھیلتی گئی اور اس میں باقاعدہ اسلحہ کی نمائش شروع کی گئی۔ اس کے بعد ملا فضل اللہ باقاعدہ طور پر مقامی پولیس اور پاک فوج کو چیلنج کرنے لگے۔ اسلام آباد کی لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں فوجی آپریشن کے خلاف ملا فضل اللہ نے شدید ردِ عمل کا اظہار کیا اور آپریشن ابھی پایۂ تکمیل تک بھی نہیں پہنچا تھا کہ تین جولائی 2007ء کو مٹہ (سوات) کے پولیس اسٹیشن پر پہلا راکٹ حملہ کیا گیا جس میں ایک پولیس اہل کار جاں بحق اور کئی زخمی ہوگئے۔
جامعہ حفصہ کے آپریشن کے بعد سوات میں باقاعدہ خود کش حملوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ جب پورے سوات میں حکومت کی عمل داری ختم ہوگئی، تو حکومت نے باقاعدہ طور پر سوات میں فوجی آپریشن کا اعلان کیا۔ چار نومبر 2007ء کو سوات میں میجر جنرل ناصر جنجوعہ کی سرکردگی میں ریگولر آرمی بھیجی گئی۔ چوبیس نومبر2007ء کو سوات آپریشن کا باقاعدہ چارج پاک فوج کے حوالے کردیا گیا۔ سوات آپریشن کے انچارج میجرجنرل ناصر جنجوعہ نے اہلیانِ سوات سے وعدہ کیا کہ دسمبر2007ء میں فوج آپریشن مکمل کرکے سوات میں امن قائم کرے گی اور اسی مہینے وادئ سوات کو سیاحوں کے لیے کھول دیا جائے گا لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ وقت گزرنے کے ساتھ سوات کے حالات مخدوش سے مخدوش تر ہوتے چلے گئے۔ 2007ء سے لے کر مئی 2009ء میں سوات میں آخری فوجی آپریشن ’’راہِ راست‘‘ تک مکمل لاقانونیت کا دور دورہ رہا۔ ریاستی رِٹ کو پاؤں تلے روندا جاتا رہا۔ اس دورانیے میں مقامی پولیس اور ایف سی اہل کاروں کے سر تن سے جدا کیے جاتے رہے۔ ان کی لاشیں مینگورہ کے چوکوں میں کھمبوں سے لٹکائی جاتی رہیں اور عسکریت پسندوں کے اعلان کے مطابق دن کے گیارہ بجے تک کوئی ان سرکٹی، لٹکتی ہوئی لاشوں کو ہاتھ تک نہیں لگا سکا۔ گیارہ بجے کے بعد مینگورہ کے بازاروں میں بکتربندگاڑیوں میں گشت کرتے سیکورٹی اہل کار ان لاشوں کو کھمبوں سے اتارتے لیکن اس دوران میڈیا اپنا کام مکمل کرچکا ہوتا۔ ان لاشوں کی تصویریں اور ویڈیوز قومی اور بین الاقوامی میڈیا تک پہنچ چکی ہوتیں اور اُس وقت خفیہ ہاتھ کو یہی مقصود تھا۔ بہ ہرحال آپریشن راہِ راست کے ذریعے سوات سے عسکریت پسندی کا خاتمہ کردیا گیا اور سوات کے طول و عرض میں حکومت اور ریاست کی رِٹ قائم کردی گئی لیکن اس کے لیے پندرہ لاکھ سے زائد سواتیوں کو نہایت بے سروسامانی کی حالت میں اپنی جنم بھومی سے ہجرت کرنا پڑی اور انھیں کئی مہینوں تک سخت گرمی میں کیمپوں، اسکولوں اور نامناسب رہائش گاہوں میں آئی ڈی پیز کی حیثیت سے تکلیف و اذیت سے گزرنا پڑا۔ اس کے بعد چیک پوسٹوں اور سرچ آپریشنوں کے ذریعے جس طرح سوات کے لوگوں کو ذلیل و خوار کیا گیا، وہ تاریخِ سوات کے ایک ناخوش گوار اور تلخ باب کی حیثیت رکھتا ہے۔
اس وقت سوات میں بہ ظاہر امن و امان ہے۔ کاروبارِ زندگی رواں دواں ہے لیکن ایک معلوم اور نامعلوم خوف اب بھی وادی کی فضاؤں پر مسلط ہے۔ سوات بھر میں ٹارگٹ کلنگ جاری ہے اور ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے ان لوگوں کو راستے سے ہٹایا جا رہا ہے جو امن کمیٹیوں کے ممبر ہیں اور یا جن کی حالات پر حقیقت پسندانہ نظر ہے اور وہ سوات میں حالیہ شورش کو اپنے فہم و فراست کی عینک سے دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سوات میں اگرچہ سیکورٹی ادارے پوری طرح فعال ہیں لیکن اس کے باوجود قاتل گرفتار کیے جاسکے ہیں اور نہ ہی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ رُکنے میں آ رہا ہے جس کے نتیجہ میں فوج اور عوام کے درمیان بدگمانی اور شکوک و شبہات بڑھ رہے ہیں۔
ایک ریاست کا اوّلین فرض اپنے عوام کو جان و مال اور عزت و آبرو کا تحفظ فراہم کرنا ہوتا ہے لیکن بدقسمتی سے سوات میں ایسا نہیں ہو رہا ہے۔ سوات کے عوام پہلے عسکریت پسندوں کے چنگل میں پھنسے ہوئے تھے اور اب سیکورٹی فورسز کے نامناسب رویہ کا نشانہ بن رہے ہیں۔ اہل سوات کے بنیادی انسانی حقوق سلب ہیں اور وہ اپنے اوپر ہونے والے کسی ظلم کے خلاف صدائے احتجاج بلند نہیں کرسکتے۔ یوں عوام اور پاک فوج کے درمیان خلیج روز بہ روز وسیع سے وسیع تر ہوتی جا رہی ہے اور تنگ آمد بہ جنگ آمد کے مصداق کسی بھی وقت اہل سوات کا پیمانۂ صبر لبریز ہوسکتاہے۔ اہلِ سوات مقتدر قوتوں سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ اگر آئینِ پاکستان میں انھیں بنیادی انسانی اور شہری حقوق دئیے گئے ہیں، تو وہ ان سے محروم کیوں ہیں؟
سوات گزشتہ پانچ سو سالوں سے یوسف زئیوں کا مسکن چلا آ رہا ہے اور اس دوران یہ تاریخی خطہ مختلف ارتقائی مراحل اور نشیب و فراز سے گزرتا رہا ہے لیکن مذہب سے غیرمشروط وابستگی یہاں کے عوام کا ہر حال میں شیوہ رہا ہے۔ یہاں مذہبی اور روحانی شخصیتوں کا ہمیشہ سے احترام کیا جاتا رہا ہے۔ سوات میں پہلی شرعی حکومت کے قیام کے لیے علاقے کی مشہور روحانی اور مذہبی شخصیت پیربابا کی اولاد میں سے سید اکبر شاہ کا انتخاب کیا گیا تھا۔ ان کے بعد اسی خاندان سے سید عبدالجبار شاہ کو سوات میں حکومت بنانے کی دعوت دی گئی تھی اور آخر میں سیدو بابا کے پوتے میاں گل عبدالودود نے جدیدریاستِ سوات کی بنیاد رکھی۔ حکومتوں کے بنانے اور بگاڑنے میں اُس وقت کی دو مذہبی اور روحانی شخصیات سنڈاکئی ملا اور سیدو بابا کا ہاتھ رہا ہے۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ سوات میں مذہب ابتداء ہی سے ایک اہم فیکٹر رہا ہے، لیکن اس کے باوجودسواتی معاشرہ میں پاکستان کے کسی بھی علاقے کے مقابلہ میں مذہبی برداشت اور رواداری سب سے زیادہ ہے۔ اگرچہ بعض ادوار میں یہاں شرعی قوانین کے حوالے سے مذہبی شدت پسندی بھی رہی ہے لیکن وادئ سوات مذہب کے نام پر فرقہ بندی سے ہمیشہ پاک رہی ہے۔ سوات میں سیکڑوں برس سے ہندو اور سکھ ہمارے ساتھ رہتے چلے آ رہے ہیں لیکن آج تک کسی ہندو یا سکھ کو مذہب کی بنیاد پر قتل کیا گیا ہے اور نہ ہی اس کے ساتھ مذہبی تعصب برتا گیا ہے۔ یہاں تک کہ حالیہ شورش کے دوران بھی سواتی طالبان یا عسکریت پسندوں نے کسی ہندو یا سکھ کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا ہے۔ وہ مکمل طور پر امن میں رہے تھے۔
سوات کی حالیہ شورش کے دوران مذہب کے مقدس نام پر جو کچھ ہوتا رہا تھا، اسے اہل سوات دوسری نظر سے دیکھتے ہیں۔ جو کچھ دُنیا کے سامنے نظر آ رہا تھا، حقیقت میں ایسا کچھ نہیں تھا۔ سوات کے لوگ نہ تو کسی کا گلا کاٹ سکتے ہیں اور نہ ہی لاشوں کی بے حرمتی کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔ یہ سب کچھ کیوں ظہور پزیرہوا، اس میں کس کا کیا کردار رہا ہے اور یہ سب کچھ کیوں کرنے دیا گیا، اس کا جواب آنے والا وقت بہتر طور پر دے سکے گا۔ تاہم یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ سوات کے لوگوں کے مذہبی جذبات سے کھلواڑ کیا گیا اور انھیں مذہب کے نام پر دھوکا دیا گیا۔ اس وقت ضرورت اس اَمر کی ہے کہ سوات میں پائیدار امن کے قیام کے لیے نیک نیتی سے کام کیا جائے۔ ٹارگٹ کلنگ کے خاتمہ کے لیے سیکورٹی ادارے اور عوام مل کر کام کریں۔ سوات میں طالبانائزیشن اور سیلاب کی تباہ کاریوں کے نتیجے میں ہر شعبۂ زندگی بری طرح متاثر ہوچکا ہے۔ سوات کے انفراسٹرکچر کو از سرِ نو تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔ سوات کے مرکزی شہر مینگورہ میں زندگی بدنظمی کا شکار ہے۔ ٹریفک کا ازدحام اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا شور اور فضائی آلودگی انسانی اعصاب پر بری طرح اثر انداز ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے سماجی زندگی میں عدم برداشت پیدا ہو رہا ہے۔ بے ہنگم آبادی اور بیرونِ سوات مختلف علاقوں سے آنے والے متفرق لوگوں کی وجہ سے سواتی معاشرہ کی روایتی اقدار میں تیزی سے مثبت و منفی دونوں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں جس کی وجہ سے بہ ظاہر سوات سماجی عدم توازن کا شکار ہو رہا ہے۔ حکومت، فوج اور مقامی انتظامیہ کے علاوہ سوات کی سول سوسائٹی کا فرض ہے کہ وہ سوات میں حالیہ شورش کے بعد عام لوگوں کے طرزِ عمل اور ان میں پیدا ہونے والی معاشرتی تبدیلیوں پر نظر رکھیں اور ان تبدیلیوں کو مثبت رُخ دینے کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کریں۔ ہمیں سوات میں اپنی آنے والی آئندہ نسل کے لیے ایک متوازن، پُرامن اور خوشحال معاشرہ تشکیل دینا ہے اور اس کے لیے متعلقہ سرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ میں اپنے کالم کا اختتام ان اشعار پر کروں گا جن میں سوات کی قدیم تاریخی عظمت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
سرزمینِ سوات تیری منفرد اِک شان ہے
تیرا ذرہ ذرہ ہے تاریخ و تہذیبوں کا گھر
تیرے دامن میں ہے کھولی کتنی تہذیبوں نے آنکھ
تیرے ہر منظر میں جنت کی بہاریں جلوہ گر
تیری وادی میں دراؤڑ بھی رہے منگول بھی
آریاؤں کو ہے لایا حسن تیرا کھینچ کر
946 total views, no views today


