بیس نومبر کے شمارہ میں ایک تین کالمی خبر میں سوات کے لوکل شعراء و ادباء کی طرف سے اکیس نومبر کو سوات میں بین الاقوامی مشاعرے کے انعقاد میں انھیں مدعو نہ کرنے کا شکوہ کیا گیا تھا کہ اس ’’بین الاقوامی ‘‘مشاعرہ میں لوکل شعراء کو نظر انداز کیا گیا ہے، مگر میں نے سوات سے تعلق رکھنے والے شعراء کی نظر انداز ہونے کی خبر کو نظر انداز کرکے بین الاقوامی مشاعرے پر توجہ دی اور سمجھنے لگا کہ سوات میں منعقد ہونے والے اس ’’بین الاقوامی‘‘ مشاعرے (جس طرح اس کا نام رکھا گیا ہے) میں ضرور مختلف ممالک سے شعراء کو دعوت کلام دی گئی ہوگی، مگر مقررہ تاریخ گزرنے کے بعد کسی بھی قومی صوبائی یا مقامی اخبار میں اس ’’بین الاقوامی‘‘مشاعرے کی کوئی خبریا بیان نظروں سے نہیں گزرا اور نہ اس ’’بین الاقوامی‘‘ مشاعرہ کے بارے میں کسی ٹی وی چینل پر کوئی رپورٹ ہی دیکھی۔ ہوسکتا ہے کہ اس ’’بین الاقوامی ‘‘ بلکہ کثیر الاقوامی مشاعرے کی کوریج بھی اس طرح کے بین الاقوامی ٹی وی چینلز اور اخبارات نے کی ہو مگر مقامی سطح پر کوریج نہ ہونے کی وجہ سے اس ’’بین الاقوامی مشاعرہ‘‘ کے بارے میں میرا سارا تجسس ختم ہوکر رہ گیا۔ میں یہ سمجھا کہ ہوسکتا ہے کہ کسی این جی او نے کاغذی کارروائی یعنی دستاویزی ثبوت پورے کرنے کے لیے کوئی شوشہ چھوڑا ہو کہ سوات میں بین الاقوامی مشاعرہ منعقد ہورہا ہے۔ کیوں کہ زیادہ تر این جی اوز والے ایسے ہی بین الاقوامی شوشے چھوڑا کرتے ہیں۔
چند سال قبل سوات میں ایک انگریز نے آکر ملاکنڈ ڈویژن کے شعراء کی کتابیں مفت شائع کرانے کا شوشہ چھوڑا تھا اور اس سلسلے میں ملاکنڈ، دیر، سوات، شانگلہ اوربونیر کے درجنوں شعراء سے ان کی شاعری کا مواد لے کر شائع کرنے کا وعدہ بھی فرمایا مگر ’’کال تیر شو، تلین راغے، او تیر شوے ماما را نغے‘‘ کے مصداق کئی سال گزرنے کے باوجود نہ تو مذکورہ کتابیں شائع ہوئیں اور نہ ان شعرائے کرام سے کوئی رابطہ ہی کیا گیا۔ مجھے یہ واقعہ اس وجہ سے یاد ہے کہ ہماری تنظیم کے رکن ممتاز شاعر و ادیب جناب اقبال شاکرؔ نے مجھے بھی مذکورہ انگریز ’’مہربان‘‘ کے ذریعے کتاب شائع کرنے کا کہا تھا، مگر میں نے یہ کہہ کر یہ پیشکش ٹھکرائی تھی کہ ’’ میں کسی این جی او کے ذریعے اپنی کتاب شائع کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اور شکر ہے کہ میں نے انکار کیا تھا، ورنہ آج میری تخلیق بھی مذکورہ انگریز کے این جی اوکے پاس پڑی پڑی دیمک کی نذر ہوچکی ہوتی یا پھر معلوم نہیں کہ وہ اس سے کون سے مقاصد حاصل کرتا؟ مقام افسوس ہے کہ جن شعراء کے ناموں کا اعلان (کتاب چھاپنے کی غرض سے) کیا گیا تھا، وہ بھی اب تک اس سلسلے میں خاموش ہیں۔ اس لیے سوات کے شعراء و ادباء سے میری گزارش ہے کہ کلچر کے نام پر پختون کلچر کی دھجیاں بکھیرنے والے این جی اوز سے کوئی گلہ شکوہ نہ کریں۔ کیوں کہ ان کا مقصد تو کلچر کا فروغ نہیں بلکہ پیسہ کمانا اور مال بنانا ہوتا ہے، جس کے لیے وہ ’’کچھ‘‘ بھی کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔
یہی کوئی چار پانچ مہینے پہلے بھی سوات کے ایک ہوٹل میں کلچر شو کے نام پر ایک پروگرام منعقد ہوا تھا جس میں دیسی شراب (ٹرہ)کی مستی میں منتظمین اور مندوبین نے پختون کلچر کا جنازہ نکالا تھا۔ رہی بات اکیس نومبر کو ’’بین الاقوامی‘‘مشاعرہ میں ڈپٹی کمشنر سوات کو اندھیرے میں رکھنے کی، تو انتظامی افسران بے چارے تو اس طرح کے پروگراموں میں واقعی اندھیرے میں رکھے جاتے ہیں۔ کیوں کہ انھیں تو صرف سیکورٹی کی فراہمی کے لیے اس قسم کے پروگراموں سے آگاہ کیا جاتا ہے اور انھیں ورغلانے کے لیے کسی بھی پروگرام میں ’’امن‘‘ کا حوالہ کافی ہوتا ہے۔ باقی این جی اوز کی ادبی و ثقافتی پروگراموں میں کلچر کا جس طریقے سے بیڑہ غرق کیا جاتا ہے، اس کا حال موقع پر موجود افراد ہی جانتے اور بتاسکتے ہیں۔
سوات میں منعقد ہونے والے مذکورہ مشاعرہ کو اگر افغانستان سے تعلق رکھنے والے کسی ایک شاعر کی موجودگی کی وجہ سے بین الاقوامی مشاعرے کا نام دیا جاسکتا ہے، تو پھرتو ہمارے ہاں جتنی بھی شادیاں، منگنیاں، جنازے، جلسے و جلوس اور تقاریب منعقد ہوتی ہیں، وہ تمام کی تمام بین الاقوامی ہیں۔ کیوں کہ ہمارے ہاں تو افغان مہاجروں کی کمی نہیں۔ وہ ہماری ہر تقریب میں شامل ہوتے ہیں۔
برسبیل تذکرہ ایک لطیفہ یاد آیا۔ کہتے ہیں کہ ایک جہاز میں کئی مسافر سفر کررہے تھے۔ ایک انگریز نے جیپ سے ایک پارکر پین نکال کر نیچے پھینک دیا۔ سواریوں نے حیرانگی کے عالم میں پوچھا کہ یہ کیوں ؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ اس قسم کے پین ہمارے ملک میں بہت ہیں۔ قریب بیٹھے ایک چائنیز نے ہاتھ سے گھڑی اتار کر نیچے پھینک دی۔ پوچھنے پر اس نے بھی کہا کہ چائنہ میں گھڑیوں کی کوئی کمی نہیں۔ ساتھ ہی بیٹھے ہوئے ایک پاکستانی نے ادھر اُدھر دیکھ کر قریبی نشست پر بیٹھے ہوئے ایک افغانی کو اٹھا کر نیچے پھینک دیا۔ کسی نے پوچھا کہ یو کیوں؟ تو اس نے سینہ تان کر جواب دیا کہ ان کی ہمارے ملک میں کمی نہیں ہے۔
گزشتہ روزبٹ خیلہ سے تعلق رکھنے والے ممتاز مزاحیہ شاعر اقبال جان کے دو بیٹوں کی شادی کے موقع پر منعقدہ مشاعرہ میں بھی تین افغان شعراء نے شرکت کی ہے، مگر اسے ہم نے بین الاقوامی مشاعرے کا نام اس لیے نہیں دیا کہ اس پر تو ہم کسی ’’پارسا مارسا‘‘ سے بل پاس کرنے والے نہیں تھے۔
*۔۔۔*۔۔۔*
850 total views, no views today


