بریکوٹ،بریکوٹ کو سوئی گیس کی عد م فراہمی پر ال پارٹیز کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہر جلسہ و جلوس نکالا گیا ۔حکومت اور محکمہ سوئی گیس کے خلاف شدید نعرہ بازی کی گئی جبکہ مظاہرین نے سوئی گیس کی فراہمی کے لئے ایک ہفتے کی ڈیڈ لائن دے دی اگر ایک ہفتے کے دوران سوئی کی سپلائی شروع نہ ہوئی تو مین شاہراہ کو سوئی گیس کی فراہمی تک بند کردیا جائے گا جس کی ذمہ داری حکومت اور محکمہ سوئی پر عائد ہو گی ۔ مظا ین نے مختلف قسم کے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جس پر سوئی کی فراہمی اور حکومت کے خلاف نعرے درج تھے ۔مظاہر ین سے خطاب کرتے ہوئے مختلف پارٹیوں کے قائدین جن میں اے این پی سے فضل اکبر خان ،فضل الہی عرف بالی خان ،عبدالوارث خان ،قومی وطن پارٹی سے صدیق علی خان ،فضل ودود باچہ ،بریکوٹ بازار صدر معراج الدین تنہا ،بخت علی کے علاوہ دیگر نے کہاکہ سوات کو 2001میں سوئی گیس کی فراہمی کے وقت تحصیل بریکوٹ کے عوام نے اپنے قیمتی زرعی اراضیات کو اونے پونے داموں پر محکمہ سوئی گیس پر فروخت کردی اور اپنے ان زمینوں کو بنجر بنا کر سوئی گیس پائپ لائن کی بچھانے کے لئے قربانی دی کہ سوئی گیس کی فراہمی میں تحصیل بریکوٹ کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا ۔اس کے بعد 2007میں اس منصوبے کا افتتاح اس وقت کے وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے کیا بعد میں اے این پی کے دور اقتدار میں ایم این اے مظفر الملک عرف کاکی خان نے 37کروڑ روپے منظور کر کے دوبارہ افتتاح کیا ۔اس وقت سوئی گیس کے مکمل لوازمات پورے ہو چکے ہیں مگر پھر بھی یہ منصوبہ سیاست کے بھینٹ چڑھ رہا ہے جو کہ یہا ں کے عوام کے ساتھ سراسر ظلم و نا انصافی کے مترادف ہے ۔انہوں نے کہا کہ بریکوٹ سوئی گیس کی فراہمی جلد از جلد کی جائے ورنہ عوام کی سیلاب سڑکوں پر آمڈ نکل کرآئیں گے کیونکہ یہاں کے خوبصورت اور قیمتی جنگلات کی بے دریغ کٹائی کا سلسلہ جاری ہے اور ایل پی جی سیلنڈر کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ ہوتا جار ہا ہے جو کہ ہمارے خرید سے باہر ہے ۔بعد میں ال پارٹیز قائد ین نے اے سی بریکوٹ سے ایک وفد کی شکل میں ملاقات کی جس میں محکمہ سوئی گیس کے اہلکار بھی موجود تھے کو یقین دھانی کرائی جس پر مظاہرین پرامن طور منتشر ہو گئے
774 total views, no views today


