شارجہ: نیوزی لینڈ کے ہاتھوں تیسرے ٹیسٹ میں اننگز اور80رنز سے شکست کے بعد سیریز برابر ہوجانے پر پاکستانی کپتان مصباح الحق نے کہاکہ شارجہ میچ میں ایک خراب دن نے ہمیں ناکامی سے دوچار کرادیا۔
کھیل کے ابتدائی دن ہماری کارکردگی اچھی رہی تاہم فل ہیوز کی موت کے المناک واقعے کے بعد دوسرے دن کھیل پر توجہ دینا واقعی بہت مشکل رہا تھا، ہم اپنی پرفارمنس کا تسلسل برقرار نہیں رکھ پائے، جیت پر نیوزی لینڈ کو پورا کریڈٹ جاتا ہے، انھوں نے اولین اننگز میں دھواں دار بیٹنگ کرکے ہمیں پچھلے قدموں پر دھکیل دیا، جس کے بعد ہمارے لیے میچ میں واپس آنا مشکل ہوگیا، تاہم میچ میں ہمارے لیے بولنگ اور بیٹنگ میں کچھ مثبت باتیں بھی رہیں، اتوار کو میچ کے اختتامی دن اسد شفیق کی سنچری نمایاں رہی۔
مصباح الحق نے کہا کہ بلاشبہ میں اپنے مستقبل کی بابت سوچ رہا ہوں، ورلڈ کپ کی صورت بڑا ایونٹ ہمارے سامنے ہے، میری توجہ اب بھی میگا ایونٹ پر ہوگی۔ دوسری جانب کیوی کپتان برینڈن میک کولم نے کہا کہ یقینی طور پر ہم نے انتہائی مشکل حالات میں یہ ٹیسٹ مکمل کیا، میرے خیال میں دوسرے دن ہمارے بولرز نے جو کارکردگی پیش کی تھی اس سے میچ کی راہ متعین ہوگئی تھی، پاکستان نے ابتدائی دن 3 وکٹ پر 281 رنز بنالیے تھے، لیکن اس کے بعد ہم نے بہت کم رنز دیتے ہوئے ان کی باقی 7 وکٹیں جلد حاصل کرلیں۔
یو اے ای سیریز کے لئے آسان مقام نہیں تھا لیکن ہم نے آسٹریلیا اور پاکستان کی سیریز کا بغور مشاہدہ کیا تھا، ہم اگرچہ پہلے ٹیسٹ میں ہارگئے تھے، انھوں نے مزید کہا کہ اب ہم ون ڈے سیریز میں بھی عمدہ کھیل پیش کرنے کے لئے پراعتماد ہیں، کیونکہ ورلڈ کپ قریب ہے، 10وکٹیں اور ففٹی بناکر میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز پانے والے مارک کریگ نے کہا کہ پہلے ٹیسٹ میں ناکامی کے بعد ہمارے لیے سیریز میں واپسی بڑی فتح ہے، ہم نے یکجاہوکر بہترین کھیل پیش کیا، محمد حفیظ کو سیریز کا بہترین پلیئر قرار دیا گیا۔
710 total views, no views today


