سوات (سوات نیوز)ملک بھر میں قیام امن کیلئے موثر اقدامات اٹھانے، دہشت گردی کے خلاف متعدد واکس منعقد کرنے اور مقبوضہ کشمیر کے نہتے اور مظلوم انسانیت پر مظالم روکنے کے لیے اقوام متحدہ کی ذیلی دفاتر میں بار بار احتجاج ریکارڈ کرانے والے دس دسمبر انسانی حقوق کے عالمی دن 2009 کو وزیراعظم پاکستان کی طرف سے ہیومن رائٹس ایکسیلینس ایوارڈ اور اسی طرح انسانی حقوق کے عالمی دن 10 دسمبر 2010 کو صدارتی امن ایوارڈ حاصل کرنے کیساتھ ساتھ دوسرے اہم اعزازات حاصل کرنے والے چیئرمین پاکستان انٹرنیشنل ہیومن رائیٹس راجہ لیاقت علی خان نے انسانی حقوق کے عالمی دن 10 دسمبر 2019 کو احتجاجاً کسی بھی تقریب میں شرکت کرنے سے انکار کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ سے 10 دسمبر 1948کو متفقہ طور پر جس منشور کو پاس کیا گیا تھا اس منشور پر عمل نہ کرکے ہندوستانی افواج نے مقبوضہ کشمیر کے بے گناہ اور معصوم شہریوں پر مظالم کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ اسلئے ہمارا ضمیر مذید گوارا نہیں کرتا کہ جو منشور انسانوں کی بنیادی حقوق کی پاسداری کیلئے وضع کیا گیا تھا اج مودی حکومت کے ذریعے اس منشور کی دھجیاں اڑائی جارہی ہے اور ہم ایوارڈز وغیرہ کی تقریبات میں مصروف ہوکر وقت ضا ئع کر تے رینگے بلکہ ہمارا آئندہ کا لائحہ عمل اب یہ ہونا چایئے کہ ہم پاکستان بھر کے انسانی حقوق پر عملی کام کرنے والوں کا جلد از جلد اجلاس بلاکر مشترکہ طور پر اقوام متحدہ میں ہمارے کشمیری بہن بھائیوں پر مذید مظالم روکنے کیلئے موثر انداز میں قرارداد جمع کرکے اس وقت تک خاموش نہ بیٹھے جب تک مقبوضہ کشمیر میں مذید پامالیوں کو ختم کرانے اور وہاں سے کرفیوں اٹھانے میں اہم کردار ادا نہ کریں۔
1,096 total views, no views today



