گیارہ نومبر 2014ء کو ریڈیو وغیرہ نے خبر دی کہ خیر پور (سندھ) کے علاقے میں سوات سے کراچی جانے والی بس کو ڈرائیور کی خود سری اور غفلت کی وجہ سے حادثہ پیش آیا اور ساٹھ افراد موقع پر اور چند بعد میں لقمۂ اجل بنے۔ زیادہ تر افراد بحرین سوات کے علاقوں کے مزدور اور اُن کے بال بچے تھے جو سردیوں میں اپنے ہاں روزگار اور رزق کی قلت کی وجہ سے کراچی جارہے تھے، تاکہ امراء کے لیے بننے والے اس ملک کے بڑے شہر میں مزدوری کرکے اپنے اور اپنے بچوں کا پیٹ پال سکیں۔
ملکی قوانین کا احترام اور پا بندی کرنے پر ہمارے محراب و منبر سے لے کر اسکول و مدرسہ تک تمام ذرائع خاموش ہیں۔ قرآن واضح ترین الفاظ میں حکم دیتا ہے: ’’تم اللہ کی اطاعت کرو (یعنی احکام مانو) رسولؐ کی اطاعت کرو اور اُن کی اطاعت کرو (یعنی حکم مانو) جو تم میں سے حکم دینے والے ہیں۔‘‘ علماء کے نزدیک ملکی قوانین (بہ شرط یہ کہ وہ خلافِ شریعت نہ ہوں) اس آخری حصے میں آتے ہیں۔
کیا وہ سرکاری لوگ اور قواعد و قوانین جو ٹرانسپورٹ جیسی سب سے بڑی انڈسٹری کے لیے ہیں، مناسب ہیں؟ کیا سرکاری افراد جو ٹرانسپورٹ کے شعبے کو کنٹرول کرتے ہیں وہ اہل، امین اور صادق ہیں؟ ہر گز نہیں۔ ہمارے یہاں ان کی کارکردگی صفر کے برابر ہے۔ رشوت، ماہ واری، علیک سلیک کا راج، یہی لوگ خود اس کاروبار کا بھی حصہ ہیں۔ آج سے کئی سال قبل (نوے کی دہائی) جب میری پوسٹنگ پشاور میں تھی، میرا اپنا ذاتی مشاہدہ تھا کہ صبح سویرے مقامی اومنی بسوں میں سے چند رات کو سی پی او (چیف پولیس آفس) کے اندر پارک ہوتی تھیں۔ گویا کہ وہ پولیس اہل کاروں کی ملکیت تھیں۔ باہر کا آدمی اپنا مسافر بس آئی جی کے ایریا میں لانے کا تصور ہی نہیں کرسکتا تھا۔ شاید دہشت گردی کی خوف سے اب ایسا نہ ہو۔ میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ متعلقہ سرکاری افراد کا ٹرانسپورٹ کے ساتھ قریب ترین تعلق ہوتا ہے۔ یہی تعلق خلافِ قانون کاموں کا ایک سبب ہے۔ اس طرح ایکسائز کے نام سے جو محکمہ موجود ہے اور دوسرے اس شعبے سے وابستہ محکمے، سب کے سب عوام کے قتل عام میں ملوث ہیں۔ سڑکوں پر عوام کا ڈرائیوروں کے ہاتھوں قتل عام کے بدلے میں کسی کو ایک گھنٹے کی قید یا دس روپے جرمانے کی خبر ہم نے نہ کبھی پڑھی اور نہ سنی۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ قدرت کی ان دیکھی قوتیں متحرک ہوچکی ہیں۔ یہی گستاخ قوم، یہی نافرمان لوگ جن کا میں بھی ایک حصہ ہوں اور سب سے زیادہ کم زور اور گناہ گار ہوں، اب خدا کے عذاب میں آچکے ہیں۔ بدامنی، قتل و غارت، بھتہ خوریاں، اغواء برائے تاوان، مختلف قسم کے امراض اور وبائیں سب انھی برائیوں اور گناہوں کے نتائج ہیں جن کے ہم مرتکب ہیں۔ جب نہ کوئی شخص اعلیٰ انسانی اخلاق کے تقاضوں کو دیکھتا ہے، نہ ملکی قوانین یا انسانی ضمیر۔ تو یہی ہوگا جوہمارے ساتھ ہورہا ہے۔ آج ہم نے خود اپنی یہ حالت کررکھی ہے، اس کے ذمہ دار ہنود ہیں نہ یہود و نصاریٰ۔ سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ
1:۔ کیا کوئی مرکزی قانون (فیڈرل لاء) ایسا موجود ہے جو سوات، مانسہرہ اور پشاور جیسے شمالی علاقوں سے کراچی جیسے جنوبی شہر تک ہزاروں کلومیٹر ایک ہی مسافر بس کو چلنے کی اجازت دیتا ہو؟ وہ مسافر بس کی کیسی حالت بیان کرتا ہے؟
2:۔ اگر ایسا نہ ہو، تو کیا بین الصوبائی ایسا کوئی قانون موجود ہے؟
3:۔ کیا مختلف صوبوں کے پولیس سرداروں (انسپکٹر جنرل سطح کے) نے ان قوانین کی موجودگی یا غیر موجودگی پر نظر رکھا ہوا ہے؟
4:۔ کیا ڈرائیوروں کو رشوت لے کر لائسنس نہیں دیا جاتا؟ کیا اُن کا نفسیاتی طبی اور جسمانی معائنہ مناسب اوقات پر کیا جاتا ہے؟
5:۔ کیا کسی بس میں مسافروں کی کوئی تعداد مقرر بھی ہے؟ اگر ہے، تو کیا کسی پولیس یا کسی اور سردارے کبھی خود پانچ بسوں کو چک کیا ہے؟ ایک بس میں ساٹھ افراد تو موقع ہی پر قتل ہوئے، بیس پچیس زخمی اور شدید زخمی ہوئے، تو کیا یہ بس تھی یا پھر کوئی بحری جہاز؟
6:۔ کیا وڈیروں، چوہدریوں اور خانوں پر مشتمل پارلیمنٹ نے جس میں بڑے بڑے فرشتے نما علماء بھی موجود ہیں، سڑکوں پر ڈرائیوروں کے ہاتھوں عوام کے قتل عام کو روکنے کے لیے قانون سازی کی ہے؟ اور کیا پولیس اکسائز، موٹرز مکینکس، بسوں کے باڈی بلڈرز، آٹو موبائل کاروبار کے لیے قوانین اور ان کی مانیٹرنگ کے لیے اور طور طریقے بنائے ہیں انھوں نے؟
7:۔ کیا متعلقہ وزیر، آئی جی پی، چیف سیکرٹری، سیکرٹری ٹرانسپورٹ کے بہ راہ راست انسپیکشن کا کوئی قانون ہمارے نام نہاد سیاست’’دانوں‘‘ نے وضع کیا ہے؟
8:۔ کیا ٹرانسپورٹ کے سلسلے میں چیف سیکرٹری اور آئی جی پی کی سطح پر بین الاقوامی رابطے باضابطہ طور پر قانون کے تحت موجود ہیں؟ اگر ہیں، تو کیا اُن پر عمل ہوتا ہے؟
9:۔ کیا مسافروں کے لیے کوئی بیمہ زندگی، بس کے لیے بیمہ، ڈرائیور کی ذہنی، جسمانی چک اپ، اُس کے نیند اور آرام وغیرہ کا کوئی طریقہ کار وطن عزیز میں موجود ہے؟ اگر ہے، تو کیا متعلقہ محکمے اُن کو دیکھتے ہیں اور اُن پر عمل کرواتے ہیں؟
10:۔ کیا ڈرائیونگ لائسنس کا اپنا ڈیزائن اور اس کے جاری کرنے کا معیار اور اس کے اجراء میں مبینہ رشوت ستانیوں پر پولیس سرداروں کا مخبری نظام مستحکم ہے؟
11:۔ کیا سوات کے اکسائز حکماء اور پولیس وغیرہ نے اس ’’قاتل بس‘‘ کا بروقت معائنہ کیا تھا؟ اس میں گنجائش کتنی تھی اور کتنے افراد کو اس نے بٹھایا تھا؟ اس قتل عام کا ذمہ دارن کون ہوا؟
12:۔ کیا وطن عزیز کے ہزار ہا ڈرائیوروں، کنڈیکٹروں، مالکان اور مستریوں کی تربیت کا کوئی نظام موجود اور روبہ عمل ہے؟
13:۔ کیا ہزار ہا سخت ترین کام اور سخت حالات میں کام کرنے والے مزدوروں یعنی ڈرائیوروں اور کنڈیکٹروں کو حکومت نے محکمۂ سوشل سیکورٹی کا تحفظ دلوایا ہے؟
14:۔ کیا کسی ڈرائیور، کنڈیکٹر کے آرام، آسائش، اوقاتِ کار وغیرہ کے لیے کوئی قانون بھی موجود ہے اور کیا اُس پر عمل درآمد بھی کروایا جاتا ہے؟
15:۔ کیا کلرک لیول سے اوپر کے افسران اس بڑی انڈسٹری کی نگرانی کرتے ہیں؟
2,183 total views, no views today


