اسکول جانے کی عمر میں کثیر تعداد میں معصوم بچے ہوٹلوں، دکانوں، بس اڈوں، ورک شاپوں اور دیگر مقامات پر مزدوری کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں اور ہمارے وطن عزیز کے مستقبل کا ایک بہت بڑا حصہ اپنے بچپن کی خوشی اور امیدی سے محروم ہوتا جا رہا ہے۔ بعض جگہوں پر تو ان معصوم بچوں سے جبری مشقت بھی لی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ یہ کم سن بچے جو اسکول جانے کے بجائے کسی ورکشاپ ، ہوٹل، دکان ، بس اڈہ یا دیگر مقامات پر اپنے خاندان کے لیے رزق حلال کمانے کی خاطر صبح سویرے اپنے اپنے کام کے لیے نکلتے ہیں، تو راستے میں بہت سے ایسے دوسرے ہم عمر چہرے بھی دیکھتے ہوں گے جو صاف ستھرا کپڑے پہنے ہوئے کتابوں سے بھرے بستے اٹھائے اسکول جا رہے ہوتے ہیں۔ کیا ان بچوں کو جو کہ محنت مزدوری کے لیے جاتے ہیں، ان کے دل میں ایسا خیال پیدا ہوتا ہے کہ ہم کیوں ان بچوں سے مختلف ہیں؟ ان محنت کش بچوں کے دل میں شاید یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہوگا کہ کاش ہم بھی اسکول جاتے، لیکن والدین کی غربت کی وجہ سے ان بچوں کی سوچ اور خواب پورا نہیں ہوتا۔
اس حوالے سے ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ
ہستی کو محبت میں فنا کون کرے گا
یہ قرض زمانے میں ادا کون کرے گا
ہاتھوں کی لکیروں کو ذرا دیکھ نجومی
یہ دیکھ میرے ساتھ وفا کون کرے گا
ہمارے پیارے وطن پاکستان میں طفل مزدور بچوں کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور مہنگائی اور غربت کی مسلسل بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے والدین اس قدر مجبور ہیں کہ وہ اپنے ننھے منے معصوم بچوں سے بھی مزدوری لینے سے گریز نہیں کرتے۔
قارئین کرام! آپ نے خود بھی ایسے معصوم اور پھول جیسے چہرے دیکھے ہوں گے کہ وہ کسی گندگی کے ڈھیر سے کچرا اکھٹا کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کیا ان بچوں کے دل میں کوئی ارمان نہیں ہوگا کہ کاش وہ بھی دوسرے بچوں کی طرح اسکول جائیں اور کھیلیں کودیں۔
میں نے بہت سے ایسے بچے بھی دیکھے ہیں کہ وہ دس اور بیس روپے کے عوض پورا پوورا دن کسی ورک شاپ میں کا م کرتے ہیں ۔ یہ بھی معمول ہی کی بات ہے کہ اگر کوئی بس اڈے میں جایا جائے اور وہاں بچہ رزق کی تلاش میں کنڈیکٹری کرتا ہوا نہ پایا جائے۔ ایسے بچوں کا ایک طرف معصوم چہرہ اور دوسری طرف ان کے ہاتھوں میں بیچنے کی خاطر مختلف اشیاء۔ ایک حساس دل رکھنے والا انسان کبھی انھیں نظر بھر کر نہیں دیکھ سکتا۔
قارئین کرام! بیس نومبر 2014ء کا سورج طلوع ہو رہا تھا۔ پوری دنیا میںیہ دن یونی ورسل چائلڈ لیبر ڈے کے طور پر منایا جارہاتھا اور میں خود سوات جانے کے لیے راولپنڈی کے بس اسٹاف میں گاڑی روانہ ہونے کے انتظار میں ایک دکان کے قریب اپنی سوچوں میں ڈوبا کھڑا تھا کہ ایک ننھا سا معصوم اور پھول جیسا چہرہ سامان اٹھائے ہوئے میرے پاس آیا اور کہا کہ مجھ سے کھانے کی چیزیں لے لو۔ صرف دس روپے اس کی قیمت ہے۔ میں نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کچھ خریدنے سے انکار کیا لیکن وہ بہ ضد تھا کہ کچھ نہ کچھ اس سے خرید لیا جائے۔ میرے ذہن میں ایک چھوٹا اور عجیب سا سوال پیدا ہوا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ آپ کے اسکول کا ٹائم ہے اور آپ یہاں مصروف ہیں؟ اس نے دھیمی آواز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ خان صاحب، آپ کو ہماری مجبوریوں کا کیا پتہ! ہم تو غریب لوگ ہیں۔مجھے اپنی ماں کے لیے کچھ کمانا پڑتا ہے۔پھر وہ معصوم چہرہ خاموش ہوا اور دوسرے ہی لمحے اس کی آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہوئے۔ وہ تو وہاں سے چلا گیا، لیکن میں خاموش کھڑا کچھ نہ کہہ پایا۔ میرے ذہن میں عجیب سے خیالات پیدا ہو رہے تھے کہ اس دوران میں بس کے کنڈیکٹر نے سواریوں کو گاڑی میں بیٹھنے کے لیے آوازدی۔ میں بس میں سوار ہوا اور پنڈی سے منگورہ تک میں بس یہی سوچتا رہا کہ ہمارے پیارے وطن میں ایسے کتنے معصوم چہرے ہوں گے کہ وہ پڑھائی اور کھیل کود کی عمر میں محنت مزدوری کرتے ہوں گے۔
مگر افسوس کی بات ہے کہ ہمارے ملک میں ابھی تک ان معصوم محنت کش بچوں کے لیے حکومت وقت نے کچھ نہیں کیا ۔
794 total views, no views today


