بیس نومبر 2014ء کے روزنامہ چاند سوات کی اشاعت میں محترم بدر زمان صاحب کا بہت عمدہ کالم ’’پرائیویٹ تعلیمی ادارے اور ہمارا قومی فریضہ‘‘ پڑھنے کو ملا یہ ایک قابل قدر تحریر ہے۔ چوں کہ میں خود ایک نجی تعلیمی ادارے میں مدرس ہوں اور کچھ سابقہ سروس کا تجربہ بھی رکھتا ہوں، اس لیے محترم بدر زمان صاحب کی کاوش پر چند فقروں کے اضافہ کی جسارت کرتا ہوں۔ اگر ان کے ساتھ ملاقات کا شرف مجھے کبھی حاصل ہوا، تو اس مفید موضوع پر ہم گفت گو بھی کرسکیں گے، چوں کہ میں جدید الیکٹرانک رابطوں کے ذرائع کا استعمال نہیں جانتا، اس لیے اگر اُن کو موقع ملا اور انھوں نے مناسب سمجھا تو روزنامہ چاند ہی کے ادارتی صفحے کے مدیر محترم امجد علی سحابؔ کے ذریعے مجھ سے رابطہ آسان ہوگا۔ اپنی جسمانی اور ذہنی ضعف کی وجہ سے میں تسلی بخش کام یا بات کی اہلیت کھو چکا ہوں۔ اس لیے میری خواہش ہے کہ زیادہ مستعد لوگ بعض ذمہ داریوں کو کندھا دیں۔ جس اسکول میں، مَیں ملازمت کرتا ہوں، وہ اپنی ذاتی ملکیت اور نہایت ہی عالی شان عمارت میں بہت زیادہ گنجائش اور نہایت ہی معیاری لیبارٹریوں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ سے مزین ہے۔ نہ کرایہ بڑھانے کی ڈر نہ عمارت خالی کروانے کی دھمکی۔ طالب علم اور اس کے والدین کو مکمل اطمینان دستیاب لیکن جتنی اس اسکول کی مادی اور فنی استعداد ہے، اس تناسب سے والدین اور بچے اُس سے استفادہ نہیں کرتے۔ اسے مینگورہ اور ارد گرد کے طلبہ اور والدین کی ایک قسم کی بدنصیبی ہی کہا جاسکتا ہے کہ سہولیات کی دست یابی کے باوجود ان سے استفادہ نہیں کرتے۔
سرکاری تعلیمی ادارے ہوں یا نجی تعلیمی ادارے۔ ان کی نگرانی اسکولز سیکٹر کے محترم چند اساتذہ کرتے ہیں۔ ضلعی تعلیمی افسران اساتذہ کرام ہی ہیں اور انھی میں سے تعلیم کے ایک ’’ماہر‘‘ کو صوبائی سطح پر اسسٹنٹ ڈائریکٹرز بنایا گیا ہوتا ہے۔ وہ کس حد تک نجی شعبہ تعلیم کے معاملات، اہمیت اور ضروریات جانتے ہیں، وہ کتنا اس شعبے کو مزید بار آور (Productive) بناسکتے ہیں، وہ سب کے سامنے ہے۔ میں پوری ذمہ داری اور احتیاط کے ساتھ کہتا ہوں کہ تعلیم کی تباہی خواہ وہ اسکول سطح کی ہو، کالج سطح کی ہو یا یونی ورسٹی سطح کی ہو۔ مذہبی ہو یا عصری اس کی ذمہ داری اُن اساتذہ کرام پر آتی ہے جو آفیسرز نہیں ہوتے لیکن آفیسرز کی کرسیوں پر بیٹھے ہوتے ہیں۔ ہماری یونی ورسٹیوں کی حالت قابل قدر اور قابل فخر نہیں۔ ہمارے تعلیمی بورڈز طلبہ اور والدین اور پھر پورے معاشرے کے لیے الٹا نقصانات کا باعث ہیں۔ ٹیکسٹ بک بورڈ ہو یا بیورو آف کیوریکولم کہیں سے بھی ملک و ملت کی ضروریات کے مطابق خدمات حاصل نہیں ہوتیں۔ کئی اور وجوہات کے ساتھ ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ان سب کے افسران، افسران نہیں ہوتے۔ اُن کی استعداد، اُن کا حوصلہ اوراُن کی قوت فیصلہ سب ما تحتوں والی ہوتی ہے جب کہ تعلیم کی ترقی کے لیے دانش مند، دلیر اور مخلص آفیسرز کی ضرورت ہوتی ہے۔
محترم بدر زمان صاحب کے کالم کے موضوع میں الفاظ ’’اور ہمارا قومی فریضہ‘‘ پر بات کرتا ہوں۔ یہ غریب قوم قرضوں اور سود کے پیسوں کو تعلیم کے لیے مختص کرتی ہے۔ پھر سب سے خراب اور کم زور نوعیت کی اسکول کی عمارت، فرنیچر وغیرہ یہی جعلی افسران اپنی مبارک دست خطوں کے ساتھ قبول کرلیتے ہیں۔ ان میں ’’نا‘‘ کہنے کی جرأت نہیں ہوتی۔ کسی بھی ڈائریکٹر تعلیم نے اس ظلم کے خلاف مؤثر آواز نہیں اُٹھائی ہے۔ کیوں کہ یہ لوگ نا اہل اور سفارشی اور بعض اوقات راشی ہوتے ہیں۔ اسکولوں میں بے شمار بہت ہی قابل اور مخلص اساتذہ اور اُستانیاں مسلسل محنت کرتی ہیں لیکن محکمے کی مجموعی بد انتظامی کی وجہ سے اُن کی محنت بھی رائیگاں ہوتی ہے۔
بڑھتی ہوئی انسان آبادی اور گھٹتے ہوئے سرکاری محصولات اور سرکاری شعبے کی تعلیم کے مد میں خدمات کی فراہمی میں کم زوری کے پیش نظر عالمی بنک کے تعاون سے حکومت نے فیصلہ کیا کہ نجی شعبے کی تعلیم کے فروغ کے کردار میں حوصلہ افزائی کرے۔ نجی شعبے کی مالی مدد، تربیتوں میں مدد، لیبارٹریوں، لائبریریوں کے قیام اور پلاٹس الاٹمنٹ میں مدد کی جائے۔ نئے اور موجودہ پرائیویٹ اسکولوں کو بلا سود قرضے فراہم کیے جائیں۔ لہٰذا سب سے پہلے پنجاب نے پھر صوبہ سرحد (اب خیبر پختون خوا) اور سندھ نے صوبائی اسمبلیوں سے قانون بنوا کر اپنے ہاں ایجوکیشن فاؤنڈیشنز بنوائیں۔ 1992ء کے ایکٹ نمبر IIIکے تحت ہمارے صوبے میں فرنٹیئر ایجوکیشن فاؤنڈیشن بنایا گیا۔ اس قانون (ایکٹ) کے پڑھنے سے معلوم ہوجائے گا کہ محترم بدر زمان صاحب کے اٹھائے گئے نکات (ضروریات) سب کے سب بلکہ اُن سے بھی زیادہ ضروریات کی پورے کرنے کی قانونی ذمہ داریاں فاؤنڈیشن کی ہیں۔ بعد میں ایلمنٹری ایجوکیشن فاؤنڈیشن بنوا کر فرنٹیئر ایجوکیشن فاؤنڈیشن کو اعلیٰ تعلیم کے لیے مختص کیا گیا۔ صوبے میں ان کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی سربراہی وزیراعلیٰ (شاید اب گورنر) کے پاس ہے جب کہ ڈویژنوں میں ان کی ایڈوائزی کمیٹی کی سربراہی ڈویژنل کمشنر کرتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ان دونوں سطحوں کو مواد (Feed Back) ضلعی حکام محکمہ تعلیم دینے کے ذمہ دار ہیں۔ اس لیے کچھ بھی کمشنرز کے پاس جاتا ہے اور نہ صوبائی بورڈ آف ڈائریکٹرز کے پاس۔ بلکہ میرے خیال میں نجی شعبے کے بہت کم اداروں کو یہ معلوم ہوگا کہ اُن کی نگرانی، مدد اور بھلائی کے لے یہ ادارے بھی موجود ہیں۔ بہت کم اداروں اور افسران کو یہ علم ہوگا کہ نجی اسکولوں کے رجسٹریشن کے طریقہ کاکو ہائیر ایجوکیشن ریگولیٹری اتھارٹی کے قانون میں بیان کیا گیا ہے۔
پرائیویٹ اسکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن نام کی ایک مجلس سوات میں موجود ہے لیکن وہ غالباً نجی اسکولوں کے مالکان کے مفادات تک محدود ہے۔ اس لیے مجھ جیسے شخص کو جو ٹیچر ہے یہ بھی معلوم نہیں کہ اس کا ’’چارٹر‘‘ کیا ہے؟ اس کا دفتر کہاں ہے؟ اس کا صدر کون ہے اور اس کی اپنی قانونی مضبوطی کیسی ہے؟ کیا یہ بھی سوات ٹریڈرز فیڈریشن کی طرح صرف مالکانِ اسکول کے مفادات تک محدود ہے یا نجی شعبے کی علمی خدمات اس کے راستے میں مختلف سرکاری اور غیر سرکاری مشکلات، اس شعبے میں کام کرنے والے ہزاروں ملازمین کے بارے میں بھی اس کا چارٹر کچھ کہتا ہے؟
شعبہ تعلیم خواہ سرکاری ہو یا نجی ایک غیر محسوس بلیک آؤٹ کا شکار ہے۔ ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ (ای او بی آئی) والے نجی اسکولوں کو خطوط بھیجتے ہیں لیکن یہ وضاحت نہیں کرتے کہ نہایت ہی غیر یقینی ملازمت اور اسکولوں کے اپنے غیر یقینی وجود کے تناظر میں وہ پُر اسرار ادارہ ای او بی آئی کیا طریقۂ کار اختیار کرتا ہے؟ ایک نجی اسکول کا ملازم جتنے مستحکم حالات کار میں ہوگا، اُتنا ہی اُس کی کارکردگی عمدہ ہوگی۔ مالکانِ اسکول، طلبہ اور معاشرہ سب مستفید ہوں گے۔ ای او بی آئی عملی طور پر اس سلسلے میں کیا کرتاہے اور اس کی اپنی پراگرس کیا ہے؟ یہ ہم نہیں جانتے۔ نجی اسکولوں کے اساتذہ کی لیبر یونین اور اسکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن اگر ایجوکیشن فاؤنڈیشنز کے ساتھ مل کر دوستانہ ماحول میں آگے بڑھیں، تو نجی شعبۂ تعلیم کے لیے زیادہ سے زیادہ بہتر مراعات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ مثلاً نجی شعبۂ تعلیم کے لیے کم از کم ایک ایڈیشنل سیکرٹری کے تحت ایک آزادانہ سیکشن کا قیام، جس طرح صوبائی حکومت نے مذہبی مدارس کے جاری کردہ اسناد کو یونی ورسٹی اور بورڈز کے اسناد کے برابر کیا ہوا ہے، اس طرح نجی اسکولوں کے جاری کردہ اسناد کو سرکاری تعلیمی بورڈز اور یونی ورسٹیوں کے اسناد کے برابر تسلیم کرنا (یعنی نجی تعلیمی اداروں کو مذہبی مدارس کی طرح (Certificates/Degress.Awarding Institutes) کی حیثیت سے تسلیم کروانا، فاؤنڈیشنز کے قوانین میں مذکور سہولیات کو واقعتا نجی تعلیمی اداروں کو فراہم کروانا اور پہلے مرحلے میں نجی تعلیمی اداروں کے لیے پرائیویٹ تعلیمی بورڈ قائم کروانا۔
موجودہ گورنر صاحب مہتاب عباسی جب وزیراعلیٰ تھے، تو انھوں نے فرنٹیئر ایجوکیشن فاؤنڈیشن کو دس کروڑ روپیہ عطا کیا تھا جو اُس ادارے تک پہنچ بھی گیا تھا۔ یہ وظائف کے لیے تھا۔ اس کا آج تک پتہ نہ چل سکا کہ کہاں گیا۔ اس قرض حسنہ وغیرہ کا بھی معلومات نہیں۔ ان سب باتوں پر محتاط کام کرنے کی ضرورت ہے۔
806 total views, no views today


